کیا سزایافتہ کرکٹرز کو برطانیہ کا ویزا مل سکے گا؟

سپاٹ فکسنگ میں ملوث ہونے سے قبل محمد آصف انگلش کاؤنٹی لیسٹر شائر کی طرف سے کھیل چکے ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنسپاٹ فکسنگ میں ملوث ہونے سے قبل محمد آصف انگلش کاؤنٹی لیسٹر شائر کی طرف سے کھیل چکے ہیں
    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

سپاٹ فکسنگ میں سزایافتہ تین پاکستانی کرکٹرز میں سے دو محمد عامر اور محمد آصف پابندی ختم ہونے کے بعد بیرون ملک کرکٹ کھیلنے کے بارے میں سنجیدگی سے سوچ رہے ہیں لیکن کیا یہ دونوں کرکٹرز برطانیہ یا کسی بھی دوسرے ملک کا ویزا آسانی سے حاصل کرسکیں گے؟

<link type="page"><caption> ’عامر،آصف اور سلمان کی ٹیم میں ابھی کوئی جگہ نہیں‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/sport/2015/09/150901_haroon_rasheed_spot_fixing_zs.shtml" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> ’14 ٹیسٹ میچ کھیلنے والا بچہ کیسے ہو سکتا ہے‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/sport/2015/08/150830_why_sympathy_for_aamir_zz.shtml" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> سلمان بٹ اور محمد آصف پر پابندی ختم</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/sport/2015/08/150819_salman_butt_mohd_asif_ban_lifted_rwa.shtml" platform="highweb"/></link>

یہ سوال اس وقت کئی ذہنوں میں موجود ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ برطانیہ اور دیگر ممالک کے ویزا فارم میں یہ سوالات واضح طور پر درج ہوتے ہیں کہ کیا آپ کسی جرم میں ملوث تو نہیں رہے؟ کیا آپ کو کسی جرم میں سزا تو نہیں ہوئی؟

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان جاوید میانداد سپاٹ فکسنگ میں ملوث تینوں کرکٹرز کی پاکستانی ٹیم میں واپسی کے سخت خلاف ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ان کرکٹرز کے لیے بیرون ملک جانے کے لیے ویزوں کا حصول بھی آسان نہ ہوگا۔

سابق کپتان جاوید میانداد اسپاٹ فکسنگ میں ملوث تینوں کرکٹرز کی پاکستانی ٹیم میں واپسی کے سخت خلاف ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنسابق کپتان جاوید میانداد اسپاٹ فکسنگ میں ملوث تینوں کرکٹرز کی پاکستانی ٹیم میں واپسی کے سخت خلاف ہیں

جاوید میانداد نے بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ آپ کو دنیا کے کسی بھی ملک میں جانے کے لیے ویزا فارم میں تمام سوالات کے درست جوابات دینے ہوتے ہیں اور کیا یہ کرکٹرز یہ نہیں بتائیں گے کہ انھوں نے کیا جرم کیا تھا اور اس جرم میں انھیں جیل ہوچکی ہے۔ ان کرکٹرز کے لیے ویزے کا حصول بہت مشکل ہوگا کیونکہ عام حالات میں اس طرح کے لوگوں کو ویزا نہیں ملتا ہے۔

اس قانونی نکتے پر معروف قانون دان صبغت اللہ قادری نے بی بی سی کو بتایا کہ سپاٹ فکسنگ میں سزا یافتہ کرکٹرز کو برطانوی ویزے ملنے کا انحصار وزیر داخلہ پر ہوگا جنھیں مکمل اختیارات حاصل ہوتے ہیں ۔عام حالات میں برطانیہ ایسے لوگوں کو ویزا نہیں دیتا ہے جنھوں نے کسی جرم کا ارتکاب کیا ہو ۔ایسی مثالیں موجود ہیں کہ معمولی سے معمولی جرم میں ملوث ہونے پر لوگوں کو برطانیہ بدر کیا گیا جبکہ ان تینوں کرکٹرز نےسنگین جرم کا ارتکاب کیا ہے اور اگر برطانیہ ان کرکٹرز کو ویزا دے دیتا ہے تو یہ ان کےخیال میں دوہرا معیار ہوگا اور ان کے لیے تعجب کا باعث ہوگا۔

 سلمان بٹ محمد آصف اور محمد عامر سنہ 2010 میں انگلینڈ کے دورے میں سپاٹ فکسنگ میں ملوث پائے گئے تھے اور ان تینوں کرکٹروں پر آئی سی سی کے انسدادِ بدعنوانی ٹریبیونل نے پابندی اور معطلی کی سزائیں سنائی تھیں جبکہ لندن کی عدالت نے بھی انھیں قید کی سزا سنائی تھی

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن سلمان بٹ محمد آصف اور محمد عامر سنہ 2010 میں انگلینڈ کے دورے میں سپاٹ فکسنگ میں ملوث پائے گئے تھے اور ان تینوں کرکٹروں پر آئی سی سی کے انسدادِ بدعنوانی ٹریبیونل نے پابندی اور معطلی کی سزائیں سنائی تھیں جبکہ لندن کی عدالت نے بھی انھیں قید کی سزا سنائی تھی

صبغت اللہ قادری نے یہ بھی کہا کہ ان کرکٹرز کے معاملے میں یہ بات بھی بڑی اہم ہوگی کہ جو کاؤنٹی ٹیمیں انھیں کھلانا چاہتی ہیں ان کی وزارت داخلہ میں کتنی بات سنی جاتی ہے لیکن ان کے خیال میں ان کرکٹرز کو ویزا دیا جانا ففٹی ففٹی ہے۔

واضح رہے کہ محمد عامر انگلینڈ کے ایک ایجنٹ گروپ کے رابطے میں ہیں جو پابندی ختم ہونے کے بعد انھیں کاؤنٹی کرکٹ کا معاہدہ کرانے میں دلچسپی رکھتا ہے جبکہ محمد آصف نے بھی بیرون ملک کھیلنے کے سلسلے میں پاکستان کرکٹ بورڈ سے اجازت طلب کی ہے۔

اسپاٹ فکسنگ میں ملوث ہونے سے قبل محمد آصف انگلش کاؤنٹی لیسٹر شائر کی طرف سے کھیل چکے ہیں۔