’سزا یافتہ کرکٹرز کا ڈوپ ٹیسٹ کرایا جائے‘

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان راشد لطیف کا کہنا ہے کہ سپاٹ فکسنگ میں سزا یافتہ کرکٹرز کا ڈوپ ٹیسٹ کرایا جانا بہت ضروری ہے کیونکہ ماضی میں پاکستان کرکٹ بورڈ کو اس سلسلے میں خاصی بدنامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
سلمان بٹ، محمد آصف اور محمد عامر پر سپاٹ فکسنگ میں ملوث ہونے کے بعد عائد پانچ سالہ پابندی یکم ستمبر کو ختم ہو رہی ہے اور پاکستان کرکٹ بورڈ نے ان تینوں کھلاڑیوں کی بحالی کے پروگرام کا اعلان کررکھا ہے۔
راشد لطیف کا کہنا ہے کہ ماضی میں محمد آصف کا دو بار مثبت ڈوپ ٹیسٹ سامنے آ چکا ہے۔ لہٰذا پاکستان کرکٹ بورڈ کو اس سلسلے میں غیرمعمولی طور پر محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔
یاد رہے کہ محمد آصف پہلی بار اس وقت ڈوپنگ کی زد میں آئے تھے جب سنہ 2006 کی چیمپئنز ٹرافی سے قبل پاکستان کرکٹ بورڈ نے انھیں اور شعیب اختر کو بھارت سے فوری طور پر وطن واپس بلا لیا تھا۔
اسی وجہ سے وہ سنہ 2007 کا عالمی کپ بھی نہیں کھیل سکے تھے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
محمد آصف دوسری مرتبہ ڈوپنگ کی زد میں سنہ 2008 میں آئے جب آئی پی ایل کے دوران ان کا مثبت ڈوپ ٹیسٹ سامنے آیا اور ان پر ایک سالہ پابندی عائد کردی گئی۔
اسی دوران بھارت سے پاکستان آتے ہوئے دبئی ایئرپورٹ پر ان کے پاس سے افیون برآمد ہوئی اور انھیں19 روز حراست میں رہنا پڑا تھا۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ پاکستان کی پارلیمنٹ میں اس وقت کے وفاقی وزیرِکھیل پیر آفتاب شاہ جیلانی نے یہ بیان دیا تھا کہ محمد آصف کے دبئی میں حراست میں لیے جانے کے بعد ان کی قانونی مدد اور اس ضمن میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے حکام کے دبئی کے دورے پر مجموعی طور ایک کروڑ روپے خرچ ہوئے تھے۔
پیرآفتاب شاہ جیلانی نے یہ بھی کہا تھا کہ یہ رقم پاکستان کرکٹ بورڈ محمد آصف سے وصول کرے گا لیکن یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ محمد آصف سے یہ رقم وصول کرنے میں کامیاب ہوسکا یا نہیں؟



