’بی سی سی آئی اور ٹین سپورٹس کی مفاہمت، فائدہ پاکستان کا‘

،تصویر کا ذریعہBCCI

    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

بھارتی کرکٹ بورڈ اور سپورٹس ٹی وی چینل ٹین سپورٹس کے درمیان معاملات طے پانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں اور اس معاہدے کا سب سے زیادہ فائدہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو ہوگا۔

واضح رہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے ٹین سپورٹس کے ساتھ نشریاتی حقوق کا معاہدہ کر رکھا ہے لیکن بھارتی کرکٹ بورڈ نے پاکستان کرکٹ بورڈ پر یہ بات واضح کر دی تھی کہ وہ ٹین سپورٹس سے معاہدہ ختم کرے بصورت دیگر وہ پاکستان کے ساتھ نہیں کھیلے گا۔

اس اعتراض کی وجہ یہ ہے کہ ٹین سپورٹس ایسل گروپ کا حصہ ہے۔ اس گروپ نے ماضی میں آئی سی ایل کے نام سے لیگ شروع کی تھی جس میں بھارتی کرکٹ بورڈ اور آئی سی سی کی منظوری شامل نہیں تھی۔

ایسل گروپ نے حال ہی میں دوبارہ اسی طرح کی لیگ دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کیا تھا جو بھارتی کرکٹ بورڈ کے لیے قابل قبول نہیں۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریار خان نے گذشتہ دنوں ایسل گروپ کے سربراہ سبھاش چندرا سے لندن میں ملاقات کی جس میں پاک بھارت سیریز کے نشریاتی حقوق ٹین اسپورٹس کو دیے جانے پر بی سی سی آئی کے اعتراض پر تفصیلی بات ہوئی ۔

شہریارخان نے سبھاش چندرا سے کہا ہے کہ بی سی سی آئی اور ٹین سپورٹس کے درمیان تنازعے کا براہ راست اثر پاکستان کرکٹ بورڈ پر پڑ رہا ہے اور کہیں ایسا نہ ہو کہ اس سے آنے والی پاک بھارت سیریز متاثر ہو لہذا ٹین اسپورٹس اس مسئلے کو جلدازجلد حل کرے۔

اس پر سبھاش چندرا نے شہریارخان کو بتایا کہ ان کا بی سی سی آئی سے معاہدہ طے پا چکا ہے اور جلد ہی اس پر دستخط ہوجائیں گے ۔

شہریارخان نے اس تاثر کو غلط قرار دیا کہ بی سی سی آئی نے پاکستان کرکٹ بورڈ پر غیر ضروری دباؤ ڈالا ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنشہریارخان نے اس تاثر کو غلط قرار دیا کہ بی سی سی آئی نے پاکستان کرکٹ بورڈ پر غیر ضروری دباؤ ڈالا ہے

شہریارخان کا کہنا ہے کہ اگر بی سی سی آئی اور ٹین اسپورٹس کسی معاہدے پر پہنچ جاتے ہیں تو پاک بھارت کرکٹ سیریز کی راہ میں ایک رکاوٹ دور ہو جائے گی اور پھر صرف بھارتی حکومت کی اجازت کا انتظار ہوگا۔

شہریارخان نے اس تاثر کو غلط قرار دیا کہ بی سی سی آئی نے اس ضمن میں پاکستان کرکٹ بورڈ پر غیر ضروری دباؤ ڈالا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ بی سی سی آئی نے ٹین سپورٹس پر صرف زبانی اعتراض کیا ہے اس نے اس بارے میں تحریری طور پر پاکستان کرکٹ بورڈ کو کچھ نہیں کہا ہے حالانکہ انہوں نے بی سی سی آئی کو اسی وقت کہا تھا کہ اگر اسے ٹین سپورٹس پر کوئی اعتراض ہے تو وہ انہیں تحریری طور پر بتائے۔

شہریار خان کا یہ بھی کہنا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کسی بھی صورت میں ٹین سپورٹس سے نشریاتی حقوق کا معاہدہ ختم کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

یہ بات قابل غور ہے کہ آئی سی سی کی باگ ڈور سنبھالنے کے بعد بگ تھری نے یہ شق آئی سی سی کے قواعد وضوابط میں شامل کرائی تھی کہ اگر آئی سی سی یا کسی رکن ملک کا کسی براڈ کاسٹر سے جھگڑا ہے تو وہ ملک اس کے تحت ہونے والی سیریز سے انکار کرسکتا ہے۔