پاک بھارت کرکٹ سیریز میں نشریاتی حقوق کامعاملہ رکاوٹ

،تصویر کا ذریعہBCB
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستان کرکٹ بورڈ نے بھارتی کرکٹ بورڈ پر یہ واضح کردیا ہے کہ اگر ٹین سپورٹس کے بارے میں اس کے کچھ تحفظات ہیں تو وہ اس بارے میں اسے تحریری طور پر مطلع کرے۔
واضح رہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کا نشریاتی حقوق کا معاہدہ مشترکہ طور پر ٹین سپورٹس اور پی ٹی وی کے ساتھ ہے لیکن چونکہ ٹین سپورٹس ایسل گروپ کا حصہ ہے لہذا بھارتی کرکٹ بورڈ کے لیے وہ قابل قبول نہیں ہے ۔
ایسل گروپ نے دو ہزار سات میں آئی سی ایل کی طرز پر ایک بار پھر اپنی کرکٹ لیگ کے انعقاد کا اعلان کیا ہے جسے آئی سی سی تسلیم نہیں کرتی۔
پاکستان اور بھارت کے کرکٹ بورڈز کے سربراہان کے درمیان گزشتہ دنوں کرکٹ روابط کی بحالی کے ضمن میں رابطہ ہوا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیرمین شہر یارخان نے جگ موہن ڈالمیا سے ملاقات کے بعد اس یقین کا اظہار کیا ہے کہ دونوں ٹیمیں اس سال دسمبر میں متحدہ عرب امارات میں مکمل سیریز کھیلیں گی۔
انھوں نے یہ بات بھی تسلیم کی ہے کہ نشریاتی حقوق کا معاملہ خاصا پیچیدہ ہے کیونکہ بی سی سی آئی نے ان سے کہہ دیا ہے کہ اگر پاکستان اور بھارت کی سیریز ٹین سپورٹس دکھائےگا تو وہ اسے منظور نہیں کریں گے لہذا یہ ایک بڑی رکاوٹ ہے۔
شہر یار خان نے کہا کہ انھوں نے ارون جیٹلی اور انوراگ ٹھاکر کو بتا دیا ہے کہ وہ نشریاتی حقوق کے سلسلے میں صاف شفاف عمل پر یقین رکھتے ہیں اور ٹین سپورٹس کو اسی صاف شفاف عمل کے ذریعے نشریاتی حقوق دیے گئے تھے۔
شہر یار خان نے کہا کہ وہ کوئی ایسا قدم اٹھانے کے لیے تیار نہیں ہیں جس پر وہ قانونی گرفت میں آجائیں۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نے بی سی سی آئی پر یہ بھی واضح کردیا ہے کہ وہ ٹین سپورٹس کو تبدیل کرنے کے حق میں نہیں ہیں لیکن اگر چاہے تو بی سی سی آئی اس کا کوئی حل نکالے اور اس بارے میں جو کچھ بھی کہنا ہے کہ وہ تحریری صورت میں ہو۔
شہر یار خان نے کہا کہ ان کی اطلاعات کے مطابق آئی سی سی اور ٹین سپورٹس کے درمیان کوشش ہو رہی ہے کہ بی سی سی آئی سے ٹین سپورٹس کے معاملات طے پا جائیں۔امید ہے کہ اس مسئلے کا حل نکل آئے گا۔
دوسری جانب ٹین سپورٹس کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر راجیش سیٹھی نے واضح کردیا ہے کہ براڈ کاسٹر کو تبدیل کرنے کے معاملے کی شدید مخالفت کی جائے گی اور اسے اتنی آسانی سے نہیں ہونے دیا جائے گا کیونکہ ٹین سپورٹس کے پاس پاکستان کی ہوم سیریز کے نشریاتی حقوق کا قانونی معاہدہ ہے۔
یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ آئی سی سی کی باگ ڈور سنبھالنے کے بعد بگ تھری نے یہ شق آئی سی سی کے قواعد وضوابط میں شامل کرائی تھی کہ اگر آئی سی سی یا کسی رکن ملک کا کسی براڈ کاسٹر سے جھگڑا ہے تو وہ ملک اس کے تحت ہونے والی سیریز سے انکار کرسکتا ہے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کی جانب سے پاک بھارت کرکٹ روابط کی بحالی کے بارے میں مثبت بیان کے بعد نشریاتی حقوق کا معاملہ اتنا بڑا مسئلہ نہیں ہے کیونکہ اگر بھارتی حکومت نے اس سیریز کی کلیئرنس دے دی تو پھر بی سی سی آئی کے لیے انکار کی کوئی صورت باقی نہیں رہے گی۔



