چیلسی کے پانچ مداحوں پر میچ دیکھنے پر پابندی

عدالت کے فیصلے میں کہا ہے کہ یہ برطانیہ کے علاوہ بیرون ممالک میں کھیلے جانے والے فٹبال میچوں کو سٹیڈیم میں نہیں دیکھ سکیں گے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنعدالت کے فیصلے میں کہا ہے کہ یہ برطانیہ کے علاوہ بیرون ممالک میں کھیلے جانے والے فٹبال میچوں کو سٹیڈیم میں نہیں دیکھ سکیں گے

چیلسی فٹ بال کلب کے چار مداحوں پر پیرس کی میٹرو میں ایک سیاہ فام شخص کے ساتھ نسل پرستانہ سلوک کے الزام میں پانچ برس تک فٹبال میچ دیکھنے کی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

سٹریڈ فورڈ میجسٹریٹ کورٹ نے شمالی آئرلینڈ کے رچرڈ بارکلی، سرے کے ولیم سمسن اور پارسنز پر پانچ برس جبکہ کینٹ کے رہائشی جورڈن مونڈی پر تین سال کی پابندی عائد کی ہے۔

عدالت کے فیصلے میں کہا ہے کہ یہ برطانیہ کے علاوہ بیرون ممالک میں کھیلے جانے والے فٹبال میچوں کو سٹیڈیم میں نہیں دیکھ سکیں گے۔

ڈسڑکٹ جج گیراتھ برینسٹن کا کہنا تھا کہ پیرس کی میٹرو بس میں اس شام چیلسی کے پرستاروں کی جانب سے نسل پرستی پر منبی نفرت کا اظہار کیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ اس میچ کے بعد فرانس میں ایک ایسی ویڈیو سامنے آئی تھی جس میں چیلسی فٹ بال کلب کے حامی ایک سیاہ فام شخص سلیمان کو ٹرین سے دھکیل رہے تھے۔ موبائل فون پر بنائی جانے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا تھا کہ ایک سیاہ فام شخص سلیمان میٹرو ٹرین میں سوار ہونے کی کوشش کرتا ہے لیکن اسے بار بار باہر دھکیل دیا جاتا تھا۔

بدھ کو عدالت میں متاثرہ سیاہ فام شخص سلیمان کی جانب سے دیے جانے والے بیان کے مطابق انھیں چیلسی کے مداحوں نے زبردستی ٹرین سے اترنے پر مجبور کیا۔

انھوں نے مزید کہا ’میں نے دوبارہ ٹرین میں داخل ہونے کی کوشش کی اور انھیں بتایا کہ میں ٹرین کے ذریعے واپس جانا چاہتا ہوں۔‘

سیاہ فام شخص سلیمان کے مطابق انھیں ایسا محسوس ہوا کہ انھیں میری بات سمجھ نہیں آئی اور انھوں نے انگریزی میں چیخنا اور گانا شروع کر دیا۔

اس میچ کے بعد فرانس میں ایک ایسی ویڈیو سامنے آئی تھی جس میں چیلسی فٹ بال کلب کے حامی ایک سیاہ فام شخص سلیمان کو دھکے دے کر ٹرین سے دھکیل رہے تھے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشناس میچ کے بعد فرانس میں ایک ایسی ویڈیو سامنے آئی تھی جس میں چیلسی فٹ بال کلب کے حامی ایک سیاہ فام شخص سلیمان کو دھکے دے کر ٹرین سے دھکیل رہے تھے

سلیمان کا کہنا تھا کہ چونکہ میں انگریزی بول نہیں سکتا تھا اور اسی لیے مجھے سمجھ نہیں آیا کہ وہ مجھ سے کیا کہہ رہے تھے؟

خیال رہے کہ شمالی آئرلینڈ کے 50 سالہ رچرڈ بارکلی اس وقت انسانی حقوق کے ادارے ’دی ورلڈ ہیومن رائٹس فورم‘ کے ساتھ وابستہ ہیں اور انھوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ سیاہ فام شخص کے ساتھ بدسلوکی کے واقعے میں وہ بھی ملوث تھے تاہم انھوں نے پارسنز پر جارحانہ فعل اور چیخنے کا الزام عائد کیا۔

تاہم جج کا کہنا تھا کہ اس واقع میں رچرڈ بارکلی کا برا کردار ثابت ہوتا ہے اور انھوں نے جارحانہ طرز عمل کا مظاہرہ کیا۔

جج کا یہ بھی کہنا تھا کہ پارسنز نے بھی اس واقعہ میں اہم کردار کیا اور چیلسی کے مداحوں کے طور پر ان کا طرز عمل بھی جارحانہ تھا۔

اطلاعات کے مطابق پارسنز نے اس واقعہ میں ملوث ہونے کے بعد مے فیر کمپنی سے استعفی دے دیا تھا۔