پاکستان کو میچ بچانے کے لیے سرتوڑ محنت کرنا ہو گی

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
کولمبو میں کھیلے جانے والے دوسرے ٹیسٹ میچ میں سری لنکا کی کرکٹ ٹیم اس میچ کو اپنے حق میں کرنے کی پوزیشن میں آگئی ہے۔
وہاب ریاض کے بغیر پاکستانی بولنگ اٹیک نے دوسرے دن بری بولنگ نہیں کی اور اس نے سری لنکا کی نو وکٹیں حاصل کر ڈالیں لیکن پہلی اننگز میں اس کا صرف 138 رنز پر ڈھیر ہونا واضح فرق بن کر سامنے آیا ہے۔
پاکستان کے اتنے کم سکور پر آؤٹ ہونے کے نتیجے میں سری لنکا نے نو وکٹوں پر 304 رنز بنا کر اپنی برتری 166 رنز تک پہنچا دی ہے اور ابھی اس کی ایک وکٹ باقی ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستانی ٹیم کو اب میچ بچانے کے لیے سرتوڑ کوشش کرنا پڑے گی۔
اب تک صرف ایک مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ پاکستانی ٹیم نے سری لنکا کو پہلی اننگز میں خسارے میں جانے کے بعد ٹیسٹ میچ میں ہرایا ہے جب اس نے سنہ 2006 میں کینڈی ٹیسٹ جیتا تھا۔
وہاب ریاض کو بیٹنگ کے دوران بائیں ہاتھ پر چمیرا کی گیند لگی تھی۔ ایکسرے کے مطابق ان کے ہاتھ پر فریکچر ہے اور وہ دو سے تین ہفتے تک کرکٹ نہیں کھیل سکیں گے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
اس انجری نے پاکستانی ٹیم کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے جو پہلے ہی فاسٹ بولروں کی فٹنس مسائل سے دوچار رہی ہے۔ محمد عرفان اور راحت علی ابھی تک فٹ نہیں ہو سکے جبکہ جنید خان گھٹنے کی تکلیف سے صحت یاب ہونے کے بعد ابھی تک مکمل ردھم میں نہیں آ سکے۔
سری لنکا کو پہلی اننگز کی اہم برتری دلانے میں کوشل سلوا اور کپتان اینجیلو میتھیوز کی بیٹنگ نے اہم کردار ادا کیا۔
کوشل سلوا اس لحاظ سے خوش قسمت رہے کہ 13 کے سکور پر انھیں ٹی وی امپائر پال رائفل نے ایل بی ڈبلیو نہیں دیا جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ 80 رنز بنا گئے۔
پاکستانی کوچ وقاریونس نے امپائر کی اس فاش غلطی پر سخت احتجاج بھی کیا جس کا نتیجہ صرف آئی سی سی کی معذرت اور پاکستانی ٹیم کو ضائع ہونے والا ریویو واپس کر دینے کے علاوہ کچھ اور نہ نکل سکا۔
سلوا جنھوں نےگال ٹیسٹ میں سنچری سکور کی تھی اس اننگز میں دفاعی خول میں بند رہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
کمار سنگاکارا کو ایک بار پھر پاکستانی بولروں نے بڑی اننگز کھیلنے سے پہلے ہی قابو کر لیا۔ صرف ایک گیند پہلے رن آؤٹ ہونے سے بچنے کے بعد اگلی ہی گیند پر انھوں نے لانگ آن پر کیچ تھما دیا۔
تھریمانے اظہر علی کے ہاتھوں ڈراپ کیچ کا فائدہ نہ اٹھا سکے اورتین اوورز بعد انھی کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوگئے۔
کپتان اینجلیو میتھیوز بھی دو مواقعوں پر آؤٹ ہونے سے بچے لیکن جب وہ 77 رنز بناکر آؤٹ ہوئے تو سری لنکن ٹیم کی برتری 137 رنز کی ہوچکی تھی۔
یاسر شاہ نے گال ٹیسٹ کی عمدہ کارکردگی دہراتے ہوئے اس بار بھی پانچ وکٹیں حاصل کیں اور ساتھ ہی صرف نویں ٹیسٹ میں اپنی وکٹوں کی نصف سنچری مکمل کر ڈالی جو کسی بھی پاکستانی بولر کی وکٹوں کی تیز ترین ففٹی ہے۔
ان سے قبل وقار یونس، محمد آصف اور شبیراحمد نے دس ٹیسٹ میچوں میں 50 وکٹیں مکمل کی تھیں۔
یاسر شاہ اس سال ٹیسٹ میچوں میں 24 وکٹیں حاصل کرچکے ہیں جو کسی بھی بولر کی سب سے زیادہ وکٹیں ہیں۔



