پاکستانی بیٹسمین ایک کے بعد ایک آؤٹ

سری لنکن باؤلروں نے پاکستانی بیٹسمینوں کو جم کر کھیلنے ہی نہیں دیا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنسری لنکن باؤلروں نے پاکستانی بیٹسمینوں کو جم کر کھیلنے ہی نہیں دیا
    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

گال ٹیسٹ کی جیت کو کولمبو میں مستحکم کرنے کے ارادے سے دوسرا ٹیسٹ شروع کرنے والی پاکستانی ٹیم کو پہلے ہی دن اپنے بیٹسمینوں کی مایوس کن کارکردگی کا خمیازہ بھگتنا پڑا۔

بیٹنگ کے اس مایوس کن مظاہرے نے ٹاس جیتنے کا اثر بھی زائل کردیا۔

مصباح الحق نے اس خیال سے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا تھا کہ میچ کے آخری دنوں میں وکٹ سے یاسر شاہ اور ذوالفقار بابر فائدہ اٹھائیں گے لیکن وہ یہ بھول گئے کہ بولرز کو حوصلہ دینے کے لیے بیٹسمینوں کو رنز کرنے ہوتے ہیں۔

<link type="page"><caption> تفصیلی سکور کارڈ کے لیے کلک کریں</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/sport/cricket/scorecard/90113" platform="highweb"/></link>

پاکستانی بیٹنگ کی پل میں تولہ پل میں ماشہ والی روایتی شہرت نے پہلے ہی دن سری لنکن بولنگ کو اپنے اوپر حاوی ہونے کا موقع فراہم کر دیا۔

پاکستانی ٹیم کسی تبدیلی کے بغیر میدان میں اتری ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ مشکوک بولنگ ایکشن کی زد میں آنے والے محمد حفیظ کو ایک موقع اور دے رہی ہے جس کے بعد وہ اپنے بولنگ ایکشن کے بائیو مکینک تجزیے کے لیے روانہ ہوجائیں گے۔

دھمیکا پرساد نے پہلی تین وکٹیں حاصل کرکے پاکستانی بیٹنگ لائن میں خوب ہلچل مچائی جس کے بعد اپنا دوسرا ہی ٹیسٹ کھیلنے والے آف اسپنر تھارندو کوشل نے باقی ماندہ بیٹسمینوں کو سنبھلنے ہی نہیں دیا اور پانچ وکٹیں حاصل کر ڈالیں۔

یونس خان

،تصویر کا ذریعہafp

،تصویر کا کیپشنیونس خان نے اپنے سوویں ٹیسٹ میں بھی بہت محتاط اننگز

کوشل نے پاکستان اے کے خلاف میچ میں بھی اننگز میں چھ وکٹیں حاصل کی تھیں اور وہی کارکردگی انہیں کولمبو ٹیسٹ میں لانے کا سبب بنی۔

پرساد نے احمد شہزاد کو سلپ میں مستعد سنگاکارا کے ہاتھوں کیچ کرایا جبکہ اظہر علی اور یونس خان وکٹ کیپر چندی مل کے ہاتھوں کیچ ہوئے۔

اظہرعلی اعتماد سے بیٹنگ کررہے تھے لیکن کیچ کی اپیل فیلڈ امپائر کی جانب سے مسترد کیے جانے پر سری لنکن ٹیم نے ریویو لیا جس پر ٹی وی امپائر پال رائفل نے فیلڈ امپائر کا فیصلہ تبدیل کر کے انہیں آؤٹ قرار دے دیا۔

یونس خان کا یہ سوواں ٹیسٹ ہے لیکن وہ ضرورت سے زیادہ محتاط دکھائی دیے جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ انہوں نے اپنا پہلا رن بنانے کے لیے بیس گیندیں کھیلیں تاہم چھ کے انفرادی سکور پر ان کی نروس اننگز بھی اختتام کو پہنچی۔

یونس خان کے لیے اپنے سوویں ٹیسٹ کو یادگار بنانے کا موقع شاید دوسری اننگز میں مل جائے جیسا کہ انہوں نے اپنے اولین ٹیسٹ میں بھی سری لنکا کے خلاف کھیلتے ہوئے دوسری اننگز میں سنچری سکور کی تھی۔

پاکستان کی طرف سے صرف جاوید میانداد اور انضمام الحق کو اپنے سوویں ٹیسٹ میں سنچری سکور کرنے کا اعزاز حاصل ہے۔

پاکستانی ٹیم کی مشکلات اسوقت شدید بڑھ گئیں جب صرف سات رنز کے اضافے پر محمد حفیظ اسد شفیق اور کپتان مصباح الحق کی وکٹیں گرگئیں۔

محمد حفیظ اور اسد شفیق کو آف اسپنر تھارندو کوشل نے آؤٹ کیا۔

مصباح الحق کے رن آؤٹ کو سری لنکن ٹیم نے بیش قیمت تحفہ سمجھ کر قبول کیا۔

اسد شفیق اور مصباح الحق کی وکٹیں ایک ہی اوور میں گرنا پاکستانی ٹیم کے لیے بڑا دھچکہ تھا ۔

پاکستان کے جوابی حملے کی امیدیں سرفراز احمد کے دم سے تھیں لیکن کوشل نے اس خطرناک توپ کو بھی گولے داغنے سے پہلے ہی خاموش کر دیا اور پھر اننگز کے پچاس اوورز مکمل ہونے سے پہلے ہی پاکستانی ٹیم کی بساط لپیٹ دی گئی۔

پاکستانی ٹیم نے کھانے کے وقفے پر صرف دو وکٹیں گنوائی تھیں لیکن دوسرے سیشن میں وکٹوں کی ایسی جھڑی لگی کہ آٹھ وکٹیں صرف پینسٹھ رنز پر گرگئیں۔

بیٹسمین تو کچھ نہ کر سکے اب بولرز کے وار کا انتظار ہے۔