کولمبو ٹیسٹ: پہلا دن سری لنکا کے نام

،تصویر کا ذریعہAFP
سری لنکا کے خلاف تین کرکٹ میچوں کی سیریز کے دوسرے ٹیسٹ میچ کے پہلے دن کھیل کے اختتام پر پاکستان کے 138 رنز کے جواب میں سری لنکا نے 70 رنز بنا لیے ہیں۔
سری لنکا کو پاکستان کی پہلی اننگز کی برتری ختم کرنے کے لیے مزید 68 رنز درکار ہیں اور اس کی نو وکٹیں ابھی باقی ہیں۔
<link type="page"><caption> میچ کا تفصیلی سکور کارڈ</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/sport/cricket/scorecard/90113" platform="highweb"/></link>
اس سے قبل کولمبو میں کھیلے جانے والے میچ میں جمعرات کو پاکستان نے سری لنکا کے خلاف ٹاس جیت کر پہلے کھیلنے کا فیصلہ کیاتھا۔
صرف 96 رنز پر ہی چھ وکٹیں گرنے کے بعد پاکستان کی آخری امید سرفراز احمد تھے جنھوں نے گذشتہ میچ میں بھی اسد شفیق کے ساتھ مل کر ٹیم کی پوزیشن مستحکم کی تھی، لیکن آج وہ بھی صرف 14 رنز ہی بنا سکے۔
پاکستان کی جانب سے گذشتہ میچ میں اچھی کاکردگی دکھانے والے ذوالفقار بابر پانچ، یاسر شاہ 15 اور وہاب ریاض 4 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔

،تصویر کا ذریعہGetty
سری لنکا کی جانب سے اپنا دوسرا میچ کھیلنے والے آف سپنر تھرندو کوشل نے 42 رنز دے کر پانچ وکٹیں حاصل کیں۔ ان کے علاوہ دھمیکا پراساد نے تین اور دھشمانتا چمیرا نے ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔
پاکستان کو اننگز کے آغاز میں ہی اس وقت نقصان اٹھانا پڑا جب احمد شہزاد پرساد کی گیند پر سلپ میں کمارا سنگاکارا کو کیچ دے بیٹھے۔
اس کے بعد حفیظ اور اظہر علی کے درمیان دوسری وکٹ کے لیے 46 رنز کی شراکت ہوئی جس کا خاتمہ بھی پرساد نے ہی اظہر علی کو پویلین بھیج کر کیا۔ وہ 26 رنز بنا سکے۔
اپنا 100واں ٹیسٹ کھیلنے والے یونس خان نے انتہائی محتاط انداز میں کھیل شروع کیا 20 گیندیں کھیلنے کے بعد ہی اپنا پہلا رن بنایا۔
تاہم کھانے کے وقفے کے بعد وہ زیادہ دیر کریز پر نہ ٹھہر سکے اور چھ رنز بنا کر پرساد کی تیسری وکٹ بن گئے۔
حفیظ 42 رنز بنانے کے بعد تھرندو کوشل کی پہلی اور مجموعی طور پر چوتھی وکٹ بنے۔ کوشل نے ہی گذشتہ میچ میں سنچری بنانے کے اسد شفیق کی وکٹ لی۔
کپتان مصباح الحق بدقسمت رہے اور چھ رنز بنانے کے بعد رن آؤٹ ہوگئے۔
اس میچ کے لیے پاکستان نے ہی وہی ٹیم میدان میں اتاری ہے جس نے گال میں کھیلا گیا پہلا ٹیسٹ میچ جیتا تھا جبکہ سری لنکن ٹیم میں دو تبدیلیاں کی گئی ہیں۔
سری لنکا کے لیے تھرندو کوشل اور دھشمانتا چمیرا، پردیپ اور پریرا کی جگہ یہ میچ کھیل رہے ہیں۔ یہ دھشمانتا چمیرا کا پہلا ٹیسٹ میچ ہے۔
ٹاس جیتنے کے بعد پاکستانی کپتان مصباح الحق نے کہا کہ انھوں نے وکٹ دیکھ کر پہلے کھیلنے کا فیصلہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سپن بولنگ پاکستانی ٹیم کی طاقت ہے اور آنے والے دنوں میں یہ پچ سپنرز کو مدد دے سکتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
خیال رہے کہ گال ٹیسٹ میں پاکستانی سپنرز نے شاندار بولنگ کرتے ہوئے سری لنکا کی گرنے والی 20 میں سے 15 وکٹیں حاصل کی تھیں۔
یہ ٹیسٹ میچ پاکستانی بلے باز یونس خان کے لیے بھی خاص ہے کیونکہ یہ ان کا 100واں ٹیسٹ ہےجبکہ سری لنکا کے تجربہ کار بلے باز کمار سنگاکارا کا یہ پاکستان کے خلاف آخری ٹیسٹ ہے۔
یونس خان پاکستان کی جانب سے ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ سنچریاں سکور کرنے والے اور سب سے زیادہ کیچ پکڑنے والے کھلاڑی ہیں۔
تین میچوں کی اس ٹیسٹ سیریز میں پاکستان کو ایک صفر کی برتری حاصل ہے اور پاکستانی کرکٹ ٹیم کی نظریں سری لنکا کی سرزمین پر نو سال میں پہلی ٹیسٹ سیریز کی جیت پر مرکوز ہیں۔
پاکستانی ٹیم نے آخری بار سری لنکا میں ٹیسٹ سیریز سنہ 2006 میں انضمام الحق کی قیادت میں جیتی تھی۔ جس کے بعد لگاتار تین ٹیسٹ سیریزوں میں اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔



