گال ٹیسٹ پاکستان نے اپنے نام کرلیا

یاسر شاہ نے پانچویں دن پہلی ہی گیند پر وکٹ لے کر سری لنکا کو پر دباؤ بڑھا دیا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنیاسر شاہ نے پانچویں دن پہلی ہی گیند پر وکٹ لے کر سری لنکا کو پر دباؤ بڑھا دیا ہے

گال میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میچ میں پاکستان نے سری لنکا کو دس وکٹ سے شکست دے دی۔ لیگ سپنر یاسر شاہ نے اپنے کیریئر کی بہترین باولنگ کرتے ہوئے 90 رنز دے کر سات کھلاڑیوں کو نشانہ بنایا اور پاکستان کی جیت میں اہم کردار ادا کیا۔

پاکستان کو جیت کے لیے 90 رن کا ہدف ملا تھا جو پاکستان نے بغیر کسی نقصان کے پورا کر لیا۔ اس سے پہلے میچ کے آخری دن سرلنکا کی ٹیم اپنی دوسری اننگز میں 206 رن بنا کر آوٹ ہوگئی تھی۔

یاسر شاہ نے کھانے کے وقفے کے بعد یکے بعد دیگرے تین وکٹیں لیں، پہلے کپتان اینجلو میتھیوز کو پانچ رنز پر آؤٹ کیا پھر اوپنر کرونا رتنے کو 79 رنز پر وکٹ کیپر سرفراز احمد کے ہاتھوں سٹمپ کروا دیا اور پھر وتھاناگے کو ایک رنز پر ذولفقار بابر کے ہاتھوں کیچ کروا دیا۔

آج کھیل کی پہلی ہی گیند پر یاسر شاہ نے پاکستان کو کامیابی دلائی لیکن اسے آج کی دوسری اور مجموعی طور پرچوتھی وکٹ حاصل کرنے میں بہت صبر آزما مرحلے سے گزرنا پڑا۔

پھر وہاب ریاض نے لنچ سے قبل لہیروتھیرامنے کو 44 رنز پر یونس خان کے ہاتھوں کیچ کروا کر پاکستان کو چوتھی کامیابی سے ہمکنار کیا۔

پہلی اننگ میں سنچری سکور کرنے والے کوشل سلوا پانچ رنز بنا کر وہاب ریاض کی گیند پر آؤٹ ہوئے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنپہلی اننگ میں سنچری سکور کرنے والے کوشل سلوا پانچ رنز بنا کر وہاب ریاض کی گیند پر آؤٹ ہوئے

میچ کے چوتھے دن کھیل کے اختتام پر سری لنکا نے اپنی دوسری اننگز میں دو وکٹوں کے نقصان پر 63 رنز بنائے تھے جبکہ اسے پاکستان کی برتری ختم کرنے کے لیے مزید 54 رنز درکار تھے۔

اتوار کی صبح یاسر شاہ نے سری لنکا کے بیٹسمین ایم ڈی کے پریرا کو صفر پر آوٹ کر دیا جبکہ کل آؤٹ ہونے والے کھلاڑیوں میں پہلی اننگز میں سنچری بنانے والے کوشل سلوا اور نصف سنچری سکور کرنے والے کمار سنگاکارا شامل ہیں۔

اس سے قبل پاکستانی ٹیم سری لنکا کے 300 رنز کے جواب میں 417 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی تھی۔ اس طرح پاکستان کو 117 رنز کی برتری حاصل ہو گئی تھی۔

پاکستان کی جانب سے آخری آؤٹ ہونے والے کھلاڑی اسد شفیق تھے جنھوں نے 131 رنز بنائے۔

چوتھے دن پاکستانی مڈل آرڈر کے بلے باز ٹیم کو مشکلات سے نکالنے میں کامیاب رہے تھے۔

اسد شفیق نے اپنی ساتویں ٹیسٹ سنچری 208 گیندوں پر چار چوکوں کی مدد سے مکمل کی

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشناسد شفیق نے اپنی ساتویں ٹیسٹ سنچری 208 گیندوں پر چار چوکوں کی مدد سے مکمل کی

پاکستان کے آؤٹ ہونے والے نویں کھلاڑی ذوالفقار بابر تھے جو 56 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔

اسد شفیق نے ٹیسٹ کرکٹ میں اپنی ساتویں سنچری 208 گیندیں کھیل کر چار چوکوں کی مدد سے مکمل کی جبکہ ذوالفقار بابر نے ٹیسٹ کرکٹ میں اپنی پہلی نصف سنچری بنائی ہے۔

اس سے قبل پہلے سیشن میں اسد شفیق نے سرفراز احمد کے ساتھ مل کر ٹیم کو مشکل حالات سے نکالنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان دونوں نے چھٹی وکٹ کے لیے 139 رنز کی اہم شراکت قائم کی جس کی وجہ سے پاکستان کے فالو آن ہونے کا خطرہ بھی ٹلا۔

اس دوران سرفراز احمد نے ٹیسٹ کرکٹ میں اپنے ایک ہزار رنز بھی مکمل کر لیے لیکن وہ چار رنز کی کمی سے ٹیسٹ کرکٹ میں اپنی چوتھی سنچری نہ بنا سکے اور پرساد کی تیسری وکٹ بنے۔

وہاب ریاض آؤٹ ہونے والے ساتویں پاکستانی بلے باز تھے جنھیں 14 کے انفرادی سکور پر پریرا نے بولڈ کیا جبکہ 23 رنز بنانے والے یاسر شاہ کو آؤٹ کر کے پردیپ نے اپنی دوسری اور ٹیم کے لیے آٹھویں وکٹ لی۔

سرفراز احمدنے ٹیسٹ کرکٹ میں اپنے ایک ہزار رنز مکمل کیے لیکن نروس نائنٹیز کا شکار ہوئے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنسرفراز احمدنے ٹیسٹ کرکٹ میں اپنے ایک ہزار رنز مکمل کیے لیکن نروس نائنٹیز کا شکار ہوئے

جمعے کو کھیل کے تیسرے دن پاکستانی ٹیم ٹاپ آرڈر کے بلے بازوں کی ناکامی کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہوگئی تھی اور ایک موقع پر اس کے پانچ کھلاڑی صرف 96 رنز پر آؤٹ ہوگئے تھے۔

ٹاپ آرڈر میں سوائے یونس خان کے کوئی قابلِ ذکر کارکردگی نہیں دکھا سکا تھا۔

سری لنکا کی جانب سے اب تک دھمیکا پرساد نے تین جبکہ پردیپ اور پریرا نے دو، دو اور ہیراتھ نے ایک وکٹ لی ہے۔

سری لنکا کی ٹیم اس بارش سے متاثرہ میچ میں کوشل سلوا کی عمدہ بلے بازی کی بدولت پہلی اننگز میں 300 رنز بنانے میں کامیاب رہی تھی۔

پاکستانی ٹاپ آرڈر میں تجربہ کار یونس خان کے علاوہ سبھی ناکام رہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنپاکستانی ٹاپ آرڈر میں تجربہ کار یونس خان کے علاوہ سبھی ناکام رہے

سلوا نے ٹیسٹ کرکٹ میں اپنی دوسری اور پاکستان کے خلاف پہلی سنچری بنائی تھی۔

اس ٹیسٹ میچ کے پہلے دن کا کھیل بارش کی وجہ سے نہیں ہو سکا تھا اور دوسرے دن بھی میدان گیلا ہونے کے باعث میچ سوا دو گھنٹے کی تاخیر سے شروع ہوا تھا۔

پاکستان اور سری لنکا کی تین ٹیسٹ میچوں کی یہ سیریز دو سال کے مختصر عرصے میں ان دونوں ٹیموں کے درمیان کھیلی جانے والی چوتھی سیریز ہے۔

پاکستانی کرکٹ ٹیم سنہ 2006 کے بعد سے سری لنکا میں کوئی ٹیسٹ سیریز نہیں جیت پائی ہے۔ آخری بار اس نے انضمام الحق کی قیادت میں دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز ایک صفر سے جیتی تھی۔