فالو آن کا خطرہ ابھی ٹلا نہیں

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
گال ٹیسٹ کے تیسرے دن پاکستانی بولر سری لنکن ٹیم کو تین سو رنز پر محدود کرنے میں کامیاب تو ہوئے لیکن پاکستانی بیٹنگ تمام وقت تگ و دو کرتی نظر آئی ہے۔
پہلا دن مکمل طور پر بارش کی نذر ہوگیا تھا لیکن اس کے باوجود تیسرے دن کے اختتام تک اس میچ کی دلچسپی برقرار ہے۔
پاکستانی بولروں نے سری لنکا کو پہلی اننگز میں تین سو رنز پر آؤٹ کر دیا جو اس کا گال میں پاکستان کے خلاف سب سے کم سکور ہے لیکن سری لنکن بولروں نے بھی بھرپور وار کیا جس میں انھیں پانچ قیمتی وکٹیں مل گئیں۔ پاکستانی ٹیم اب بھی سری لنکا کے اسکور سے 182 رنز پیچھے ہے، جبکہ اسے فالو آن سے بچنے کے لیے مزید 33 رنز درکار ہیں۔
یاد رہے کہ کرکٹ قوانین کے مطابق چار روزہ میں میچ میں فالو آن کا مارجن 200 رنز سے گھٹ کر 150 رنز رہ جاتا ہے۔ اس میچ میں پہلے دن کا کھیل مکمل طور پر بارش کی وجہ سے ضائع ہو گیا تھا اس لیے اب یہ چار روزہ ٹیسٹ بن کر رہ گیا ہے۔
پاکستانی ٹیم اُسی وقت بیک فٹ پر آگئی تھی جب دھمیکا پرساد نے دونوں اوپنروں محمد حفیظ اور احمد شہزاد کو پویلین کی راہ دکھادی۔
محمد حفیظ نے بنگلہ دیش کے خلاف پہلے ٹیسٹ میں ڈبل سنچری بنائی تھی جس کے بعد ان کا بلا ٹیسٹ میچوں میں پھر خاموش ہے۔
احمد شہزاد ڈسپلن کی خلاف ورزی کی سزا بھگت کر دوبارہ ٹیسٹ ٹیم میں واپس آئے ہیں۔
اظہرعلی ساتویں مرتبہ رنگانا ہیرتھ کا نشانہ بنے۔
35 رنز پر تین وکٹیں گرنے کے بعد کپتان مصباح الحق اور یونس خان نے خود کو اسی صورت حال میں پایا جسے دیکھنے کے وہ اب عادی ہوچکے ہیں۔
دونوں اعتماد سے بیٹنگ کررہے تھے کہ یونس خان نے47 کے انفرادی سکور پر آف اسپنر دل روان پریرا کی راؤنڈ دی وکٹ گیند کو باہر نکل کر کھیلنے کی کوشش میں وکٹ گنوادی۔

،تصویر کا ذریعہAFP
مصباح الحق 20 کے انفرادی سکور پر سلپ میں کمار سنگاکارا کے زبردست کیچ پر حیران رہ گئے۔
96 رنز پر آدھی ٹیم کے آؤٹ ہوجانے سے میچ پر پاکستانی ٹیم کی گرفت کمزور پڑتی جا رہی ہے اور سری لنکن بولر بساط جلد سے جلد لپیٹنے کے لیے متحرک ہو گئے ہیں۔ تاہم گذشتہ سال سری لنکا کے خلاف سیریز میں شاندار بیٹنگ کرنے والے وکٹ کیپر سرفراز احمد اور اسد شفیق شراکت قائم کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔
یہ دونوں جب تک کریز پر موجود ہیں پاکستانی ٹیم کی ایک اچھے سکور تک پہنچنے کی امیدیں برقرار رہیں گی۔
اس سے قبل سری لنکا کی سات وکٹیں سکور میں 122 رنز کا اضافہ ہی کر پائیں۔
کوشل سلوا نے پاکستان کے خلاف پہلی ٹیسٹ سنچری سکور کی، لیکن پاکستانی بولروں نے اینجیلو میتھیوز، چندی مل اور وتھاناگے کو ہاتھ کھولنے نہیں دیے۔
سپن ٹرائیکا نے سات وکٹوں پر ہاتھ صاف کیا جن میں ذوالفقار بابر کی تین وکٹوں میں سنچری میکر سلوا کی وکٹ بھی شامل تھی۔



