تیسرا ایک روزہ میچ بے نتیجہ، سیریز پاکستان کے نام

،تصویر کا ذریعہAFP
پاکستان اور زمبابوے کے مابین ایک روزہ کرکٹ میچوں کی سیریز کے تیسرے اور آخری میچ بارش کی وجہ سے بے نتیجہ ختم ہو گیا ہے جبکہ سیریز پاکستان دو صفر سے پہلے ہی اپنے نام کر چکا ہے۔
تیسرے اور آخری میچ میں پاکستان نے زمبابوے کو جیتے کے لیے 297 رنز کا ہدف دیا۔
لاہور کے قذافی سٹیڈیم میں کھیلے جانے والے میچ میں پاکستان نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 50 اوورز میں نو وکٹوں کے نقصان پر 296 رنز سکور کیے۔ انور علی نے جارحانہ کھیل پیش کرتے ہوئے 23 گیندوں میں 37 رنز سکور کیے اور ناٹ آؤٹ رہے۔
<link type="page"><caption> میچ کا تفصیلی سکور کارڈ</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/sport/cricket/scorecard/90126" platform="highweb"/></link>
سٹیڈیم کی لائٹ خراب ہونے اور طوفانی ہوائیں چلنے اور بارش کے باعث زمبابوے کا ہدف 46 اوورز میں 281 ہو گیا تاہم بارش جاری رہنے کی وجہ سے میچ بے نتیجہ رہا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
اس سے پہلے پاکستان کی اننگز میں کپتان اظہر علی چار رنز کی کمی سے سیریز میں دوسری نصف سنچری مکمل نہ کر سکے۔ جب انھیں 46 کے انفرادی سکور پر سکندر رضا نے رن آؤٹ کیا تو ٹیم کا سکور 115 رنز تھا۔
حفیظ نے سیریز میں اپنی دوسری اور مجموعی طور پر 25ویں نصف سنچری بنائی اور 80 رنز بنانے کے بعد سکندر رض کی پہلی ہی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہوگئے۔
اسد شفیق صرف 16 رنز سکور کر سکے اور ان کو سکندر رضا نے آؤٹ کیا۔
زمبابوے کو جلد ہی چوتھی وکٹ اس وقت ملی جب شعیب ملک صرف تین رنز بنا کر رن آؤٹ ہو گئے۔
سرفراز احمد نے بابر اعظم کے ساتھ مل کر تیز کھیلنا شروع کیا لیکن 25 رنز بنا کر سکندر رضا کے ہاتھوں آؤٹ ہو گئے۔

،تصویر کا ذریعہGetty
حماد اعظم اچھا کھیل پیش نہ کر سکے اور صرف چار رنز بنا کر لریمر کی گیند پر بولڈ ہوگئے۔
بابر اعظم نےعمدہ کھیل پیش کیا اور پاکستان کی پوزیشن مستحکم کی۔ انھوں نے 60 گیندوں میں 54 رنز سکور کیے۔
زمبابوے کو آٹھویں وکٹ 49 ویں اوور میں ملی جب وہاب ریاض 13 رنز بنا کر کیچ آؤٹ ہو گئے۔
پاکستان کے آؤٹ ہونے والے نویں کھلاڑی یاسر شاہ تھے جو بغیر کوئی سکور کیے رن آؤٹ ہو گئے۔
اس میچ کے لیے پاکستانی ٹیم میں دو تبدیلیاں کی گئی ہیں اور محمد سمیع اور حارث سہیل کی جگہ جنید خان اور بابر اعظم یہ میچ کھیل رہے ہیں جن کا ایک روزہ انٹرنیشنل کرکٹ میں یہ پہلا میچ ہے۔
زمبابوے نے بھی ایک نئے کھلاڑی روائے کائیا کو موقع دیا ہے جبکہ مپوفو کی بھی ٹیم میں واپسی ہوئی۔
آخری میچ دیکھنے کے لیے بھی تماشائیوں کی بڑی تعداد سٹیڈیم میں موجود تھی۔

،تصویر کا ذریعہGetty
جمعے کو دوسرے میچ کے دوران قذافی سٹیڈیم کے نزدیک ایکخودکش دھماکے کی وجہ سے اس میچ کے انعقاد کے بارے میں خدشات پیدا ہوئے تھے تاہم بعدازاں کرکٹ بورڈ کے حکام نے بتایا تھا کہ آخری میچ شیڈول کے مطابق منعقد ہوگا۔
خیال رہے کہ سنہ 2009 میں سری لنکن ٹیم پر لاہور میں دہشت گردوں کے حملے کے بعد ٹیسٹ میچ کھیلنے والی کسی کرکٹ ٹیم کا یہ پاکستان کا پہلا دورہ تھا۔
دہشت گردوں کے حملے میں سات افراد کی ہلاکت کے بعد جہاں سری لنکن ٹیم اپنا دورہ ادھورا چھوڑ کر واپس چلی گئی تھی وہیں اس کے بعد دیگر ٹیموں نے بھی پاکستان آنے سے انکار کر دیا تھا۔
چھ سال کے اس عرصے کے دوران پاکستان کو اپنی تمام ہوم سیریز غیرملکی سرزمین پر کھیلنی پڑی تھیں۔
زمبابوے کے دورے کے موقعے پر سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں اور میچ کے دوران سٹیڈیم کے اطراف میں ہزاروں پولیس اہلکار تعینات ہوتے تھے جبکہ ٹیموں کو حفاظتی حصار میں ہوٹل سے سٹیڈیم پہنچایا جاتا رہا۔



