کیا سیمی فائنل میں انڈیا آسٹریلیا کو ہرا سکےگا؟

،تصویر کا ذریعہReuters
- مصنف, سریش مینن
- عہدہ, وزڈن، انڈیا ایڈیٹر
اگر کرکٹ کے منطق کے اعتبار سے یہ سمجھیں کہ جو ٹیم عالمی فہرست میں اول نمبر پر ہے وہی فائنل میں داخل ہوگی تو اس اعتبار سے آسٹریلیا کی کرکٹ ٹیم کو فائنل ضرور کھیلنا چاہیے۔
خوش قسمتی کچھ یوں ہے کہ کرکٹ میں اس طرح کے منطق اکثر نتیجوں کا فیصلہ نہیں کرتے ہیں اور اسی لیے کرکٹ اس قدر پرکشش اور دلچسپ کھیل ہے۔
سنہ 1979 جب ویسٹ انڈیز نے آخری بار ورلڈ کپ جیتا تھا تب سے اب تک چار بار اس منظق کی جیت ہوئی ہے اور چار بار یہ منطق ناکام ہوئی ہے۔
سنہ 1983 میں انڈیا کی جیت حیران کن تھی لیکن 2011 میں وہ امید کے تحت جیتا تھا۔
اس بار کے ورلڈ کپ سے پہلے انڈیا نے جس کھیل کا مظاہرہ کیا ہے اس کے بعد اس کی اس ٹورنامنٹ میں جو کارکردگی رہے وہ امید سے بہتر ہے اور جیسے جیسے سیمی فائنل قریب آ رہا ہے اس سے پھر سے امیدیں وابستہ ہیں۔
اور ایک ایسے وقت جب یہ توقع کی جا رہی ہے کہ انڈیا کی ٹیم ان امیدوں پر پوری اترے گی، اگر میڈیا اور کرکٹ کے ماہرین کو سنجیدگی سے لیا جائے تو اس کے لیے اب ورلڈ کپ جیتنا محض ایک رسم ہے۔
جس آسانی سے انڈیا کی ٹیم نے اب تک میچز جیتے ہیں اس میں ابھی تک اسے کسی کڑی آزمائش سے نہیں گزرنا پڑا ہے۔ اس کے بلے بازوں کو ابھی تک کوئی جدوجہد نہیں کرنی پڑی ہے، بالروں کو آخری وقت میں اپنی حکمت عملی کو تبدیل نہیں کرنا پڑا ہے اور ان کو دیوار سے لگنے کی صورتحال کا بھی سامنا نہیں کرنا پڑا ہے۔
مچل جانسن، مچل سٹارک اور جوش ہیزلوڈ جس انداز میں بلے بازوں کی تکنیک اور باڈی لینگویج کو چیلنج کرتے ہیں اس طرح کا چیلنج محمد شامی، امیش یادو اور موہت شرما نہیں کرپاتے ہیں۔
پاکستان نے کوارٹر فائنل میں اس بات کا اشارہ دیا ہے کہ شارٹ پچ ڈلیوری پر آسٹریلیا کو لڑکھڑایا جاسکتا ہے اور وہ اس کی کمزوری ہے۔ ابھی تک انڈیا نے ورلڈ کپ کے میچوں میں اسی طرح کی بالنگ کی بنیاد پر ساٹھ فی صد بلے بازوں کو اپنا نشانہ بنایا ہے لیکن اگر آسٹریلیا کے خلاف یہ حکمت عملی کام نہیں آتی ہے تو اسے جلد ہی پلان بی تیار کرنا ہوگا۔
چونکہ سیمی فائنل سڈنی کے ایسےگراؤنڈ پر کھیلا جا رہا ہے جو سپن گیند بازوں کے لیے ہمیشہ مددگار ثابت ہوتی ہے، آف سپنر روی چندرن ایشون کو شروع کے اوروں میں بالنگ کرانی ہوگی۔
سنہ 2011 میں ورلڈ کپ کی فاتح انڈیا ٹیم کے پاس وریندر سہواگ، سچن تندلکر، گوتم گمبھیر، یووراج سنگھ، ظہیر خان اور ہربھجن جیسے تجربہ کار کھلاڑی تھے لیکن اس وقت کی نوجوان ٹیم کو اپنی ذمہ داریوں کا واضح طور پر احساس ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
اور اس کے لیے ٹیم کے ڈائریکٹر روی شاستری اور دو معاون کوچ سنجے بنگر اور بھارتی ارجن ذمہ دار ہیں لیکن اس کے لیے ٹیم کے کوچ ڈنکن فلیچر کی جانب سے دی جانے والی ہدایتیں بھی اہم ہیں۔
ٹیم میں ہر کھلاڑی کا واضح کردار کا تعین ٹیم کے لیے بونس ثابت ہوا ہے، یہ اعتماد کہ اگر ایک یا دو کھلاڑی ناکام ہوتے ہیں تو کوئی اور کھلاڑی اس کمی کو پورا کرنے کے لیے بالکل تیار رہے۔یہی ایک کامیاب ٹیم کی پہچان ہوتی ہے اور آسٹریلیا اس کی بہترین مثال رہا ہے۔
دوسرے شعبوں میں انڈیا کی ٹیم کی کارکردگی بہترین رہی ہے، ان کی فیلڈنگ بہترین رہی ہے اور کپتان مہندر سنگھ دھونی نے ٹیم کو شاندار قیادت فراہم کی ہے۔
لیکن اس سب کے باوجود یہ بات اہم ہے آسٹریلیا اپنے ہوم گراؤنڈ پر کھیل رہی ہے، وہ زبردست بیٹنگ کرتے ہیں اور ان کے پاس گلین میکسویل اور جیمز فاکنر جیسے آل روانڈر ہیں جو دوسرے ہاف میں بلے بازی کرتے ہیں وہ انڈین ٹیم کو اپنی صلاحیتوں کا جلوہ گزشتہ برس نومبر میں تب سے دکھا رہے ہیں جب سے وہ آسٹریلیا کےخلاف ٹیسٹ اور ون ڈے سیریز کھیلنے کے لیے ان کے ملک گئی تھی۔
یہ انڈیا کی ٹیم کی طاقت بھی ہے۔ وہ اتنی بار آسٹریلیا کے خلاف اس کی سرزمین پر کھیلی ہے کہ ایک حریف ٹیم نے یہ مشورہ دیا تھا کہ انڈین کے کھلاڑیوں کو آسٹریلیا کی شہریت کے لیے درخواست دے دینی چاہیے۔
یہ کہنا آسان ہے کہ اگر سیمی فائنل میں جو بھی جیتے گا وہ ورلڈ کپ جیتنے کے لیے سب سے پسندیدہ ٹیم ہوگی۔ اور اگر آسٹریلیا انڈیا کو شکست دیتی ہے تو ایک فیورٹ ٹیم کے طور پر فائنل کھیلے گی۔
اور اگر انڈیا فائنل میں پہنچتی ہے تو وہ ایک فیورٹ ٹیم ہوگی کیونکہ اس کے مدمقابل ایک ایسی ٹیم ہوگی جس نے پہلی بار فائنل تک کا سفر طے کیا ہے۔ اور یہ بالکل مختلف صورتحال ہے۔



