مصباح کی ذمہ دارانہ اننگز کی بدولت پاکستان فاتح

،تصویر کا ذریعہGetty
کرکٹ کے 11ویں عالمی کپ کے آغاز سے قبل پاکستان نے اپنے آخری وارم اپ میچ میں انگلینڈ کو چار وکٹوں سے شکست دے دی ہے۔
سڈنی میں کھیلے جانے والے میچ میں انگلینڈ نے پاکستان کو فتح کے لیے 251 رنز کا ہدف دیا جو اس نے 49ویں اوور میں حاصل کر لیا۔
<link type="page"><caption> میچ کا تفصیلی سکور کارڈ</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/sport/cricket/scorecard/90029" platform="highweb"/></link>
پاکستانی اننگز کی خاص بات کپتان مصباح الحق اور عمر اکمل کی عمدہ بلے بازی رہی۔
مصباح الحق 91 رنز کی اننگز کھیل کر ناٹ آؤٹ رہے جبکہ عمر اکمل نے تین چھکوں اور تین چوکوں کی مدد سے 65 رنز کی اننگز کھیلی۔
ان دونوں کے درمیان 133 رنز کی شراکت ہوئی جس کا خاتمہ سٹورٹ براڈ نے عمر اکمل کو آؤٹ کر کے کیا۔
اس سے قبل پاکستان کے لیے احمد شہزاد اور ناصر جمشید نے اننگز شروع کی تو دوسرے ہی اوور میں براڈ نے ناصر جمشید کو کیچ آؤٹ کروا دیا۔
احمد شہزاد بھی زیادہ دیر کریز پر نہ ٹھہر سکے اور جیمز اینڈرسن کی گیند پر کیچ ہوگئے۔
یونس خان اور حارث سہیل نے 33 رنز کی شراکت قائم کی جس کا خاتمہ جورڈن نے یونس کو آؤٹ کر کے کیا جنھوں نے 19 رنز بنائے۔

،تصویر کا ذریعہGetty
یونس کی طرح حارث سہیل بھی ایک مرتبہ پھر اچھے آغاز کو بڑی اننگز میں نہ بدل سکے اور 33 رنز بنا کر ٹریڈویل کی گیند پر بیلنس کو کیچ دے بیٹھے۔
بدھ کو انگلینڈ کے کپتان اوئن مورگن نے ٹاس جیتا اور پہلے بلے بازی کرنے کا فیصلہ کیا تو انگلینڈ نےگیری بیلنس اور جوائے روٹ کی نصف سنچریوں کی بدولت آٹھ وکٹوں کے نقصان پر 250 رنز بنائے۔
بیلنس نے 57 رنز کی اننگز کھیلی جبکہ روٹ 85 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔
ان دونوں کے علاوہ ایلکس ہیلز اور جورڈن نے بھی 31، 31 رنز کی اننگز کھیلیں۔
پاکستان کے لیے یاسر شاہ تین وکٹوں کے ساتھ سب سے کامیاب بولر رہے جبکہ سہیل خان نے دو اور شاہد آفریدی، وہاب ریاض اور احسان عادل نے ایک ایک وکٹ لی۔
یہ ورلڈ کپ سے قبل دونوں ٹیموں کا دوسرا وارم اپ میچ تھا اور دونوں ہی اپنا پہلا وارم اپ میچ جیت چکی تھیں۔
پاکستان نے اپنے میچ میں بنگلہ دیش کو تین وکٹوں سے شکست دی تھی جبکہ انگلینڈ نے ایک یکطرفہ مقابلے کے بعد ویسٹ انڈیز کو ہرایا تھا۔
خیال رہے کہ ان وارم اپ میچوں کو باقاعدہ ون ڈے یا فرسٹ کلاس میچ کا درجہ حاصل نہیں۔



