اگر ایسا ورلڈ کپ میں بھی ہوا تو۔۔۔

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام, کراچی
عالمی کپ سے قبل کھیلے جانے والے دو ون ڈے انٹرنیشنل میچوں کی سیریز کے پہلے میچ میں پاکستانی ٹیم کی وہی خامیاں سامنے آئیں جن کے بارے میں پہلے سے ہی تشویش ظاہر کی جارہی ہے یعنی ٹاپ آرڈر بیٹسمینوں کا ناکام ہونا اور بولرز کا کوئی تاثر نہ چھوڑنا۔
ظاہر ہے ایسی صورتحال میں نیوزی لینڈ کو جیتنا ہی تھا۔
<link type="page"><caption> پاکستان بمقابلہ نیوزی لینڈ: تصاویر</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/multimedia/2015/01/150131_pics_pakistan_nz_odi_cricket_zs.shtml" platform="highweb"/></link>
مبصرین نیوزی لینڈ کے بولرز کو ورلڈ کپ میں ایک خطرناک اٹیک کے طور پر دیکھ رہے ہیں اور اس بولنگ اٹیک نے پاکستانی بیٹسمینوں کو دباؤ میں رکھا۔
پاکستانی بیٹسیمینوں نے دونوں وارم اپ میچوں میں دوسرے درجے کی بولنگ کے سامنے بڑا سکور بنایا تھا لیکن پہلے ون ڈے میں ان کی کارکردگی لمحہ فکریہ ہے۔
اوپنرز محمد حفیظ کی وکٹ پہلے ہی اوور میں گری اور پھر احمد شہزاد نے باہر جاتی ہوئی گیند پر اپنی وکٹ بولٹ کو تحفے میں دی۔
ایسے میں یونس خان بھی پچھلے دونوں وارم اپ میچوں کی طرح اس بار بھی دباؤ کا شکار رہے۔ انھوں نے اپنے نو رنز کے لیے چھبیس گیندیں کھیل ڈالیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
مصباح الحق نے نصف سنچری بنا کر اپنی فٹنس کے بارے میں شکوک و شبہات دور کر دیے۔
اس سے قبل انہوں نے دونوں وارم اپ میچوں میں بھی سنچری اور نصف سنچری بنائی تھی لیکن دوسرے اینڈ سے حارث سہیل، عمر اکمل اور سرفراز احمد کی وکٹیں گرنے کے بعد جب وہ خود آؤٹ ہوئے تو 42ویں اوور میں سکور سات وکٹوں پر 198 تھا۔
شاہد آفریدی نے اپنے مخصوص جارحانہ انداز میں بیٹنگ کی لیکن وہ صرف 29 گیندوں پر 67 رنز بناکر آؤٹ ہوئے تو بھی پاکستانی اننگز کی 41 گیندیں باقی تھیں۔ اس مرحلے پر اگر وہ مزید کچھ اوورز کھیل جاتے تو یقیناً مجموعی سکور میں اضافہ ہوسکتا تھا۔
نیوزی لینڈ کے بولرز نے منظم بولنگ کی اور فیلڈرز نے بھی ان کا بھرپور ساتھ دیا۔
جواب میں برینڈن میکلم اور مارٹن گپتل نے 211 رنز کے ہدف کے تعاقب میں عرفان اور بلاول بھٹی کو ابتدائی اوورز میں ہی تختہ مشق بنا لیا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
بلاول بھٹی کو پہلے ہی اوور میں بارہ رنز دینے کے بعد میککلم کی وکٹ ضرور ملی لیکن لیتھم اور گپتل ہر اوور میں گیند کو باؤنڈری کی راہ دکھاتے رہے ۔
شاہد آفریدی نے اپنے پہلے ہی اوور میں وکٹ لینے کی عادت برقرار رکھی لیکن احسان عادل اور عرفان کی بولنگ پر رنز کی رفتار میں کمی نہ آ سکی۔
تین وکٹیں حاصل کرنے والے گرانٹ ایلیئٹ نے بیٹنگ بھی ٹھوک بجا کر کی اور ناقابل شکست 64 رنز پر مین آف دی میچ ایوارڈ حاصل کیا ۔
چار سال قبل ورلڈ کپ میں پاکستان کے خلاف سنچری بنانے والے راس ٹیلر نے بھی ناقابل شکست نصف سنچری بنائی۔
ان دونوں کے درمیان 112 رنز کی ناقابل شکست شراکت نے نیوزی لینڈ کی جیت سات وکٹوں سے آسان کر دی اور ساتھ ہی ساتھ پاکستانی بولنگ کی بے اثری بھی سب پر ظاہر کر دی۔



