’آل راؤنڈر حارث سہیل کے کمرے میں بھوت‘

،تصویر کا ذریعہAFP
کرکٹ کے عالمی کپ سنہ 2015 کے لیے پاکستانی سکواڈ میں شامل آل راؤنڈر حارث سہیل اُس وقت تھر تھر کانپنے لگے اور انھیں شدید بخار نے آ لیا جب ان کے بقول انھیں ہوٹل کے کمرے میں بھوت کی موجودگی کا احساس ہوا۔
پاکستانی کرکٹ ٹیم ورلڈ کپ کے سلسلے میں اس وقت نیوزی لینڈ میں ہے اور وہیں جس ہوٹل میں ٹیم کا قیام ہے اس کے ایک کمرے میں حارث سہیل کے بقول انھیں ایک بھوت نے نیند سے جگا دیا۔
پاکستانی ٹیم کرائسٹ چرچ کے ’ریجز لیٹیمر‘ نامی ہوٹل میں مقیم ہے۔
ٹیم مینیجر نوید اکرم چیمہ کے مطابق 26 سالہ آل راؤنڈر نے ٹیم مینیجمنٹ کے ایک اہلکار کو فون کیا اور جب وہ ان کے کمرے میں آئے تو حارث خوف سے کانپ رہے تھے۔ حارث کے بقول کسی بھوت نے ان کا بستر زور سے ہلایا اور انھیں نیند سے بیدار کر دیا۔ حارث نے باقی کی تمام رات کوچ کے کمرے میں گزاری۔
ٹیم مینیجمنٹ کے مطابق حارث کا طبی معائنہ کروایا گیا ہے ان کی صحت بالکل ٹھیک ہے۔
گو کہ اس ہوٹل کی مافوق الفطرت مخلوقات کے حوالےسے پہلے بھی شہرت موجود ہے تاہم ہوٹل انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس کی حدود میں کوئی متحرک بھوت نہیں ہے۔

کرائسٹ چرچ کے علاقے میں سنہ 2011 میں زلزلہ بھی آیا تھا جس میں 185 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ تاہم پاکستانی ٹیم کی آمد کے بعد سے اس علاقے میں کسی زلزلے کی بھی اطلاع نہیں ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف کے مطابق یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ بین الاقوامی کرکٹرز نے رات کے وقت بھوت پریت کی موجودگی کی شکایت کی ہو۔ سنہ 2005 میں آسٹریلیا کے بعض کھلاڑیوں نے ’لوملے کاسل ہوٹل‘ میں ایسی شکایت کی تھی۔ 600 برس پرانے اس قلعے کے بارے میں مشہور ہے کہ وہاں چودھویں صدی میں قتل کی جانے والے ایک خاتون ’للّی‘ کے بھوت کا بسیرا ہے۔
خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق گذشتہ برس آسٹریلوی کھلاڑی بریٹ لی نے لندن کے لنگھم ہوٹل میں اپنا کمرہ تبدیل کیا تھا کیونکہ انھیں یہ شکایت تھی کہ انھیں آدھی رات کو کسی بھوت نے جگایا۔ انھوں نے ڈیلی میل اخبار کو بتایا تھا کہ ان کے غسل خانے کے نل اچانک کھل گئے تھے لیکن جب انھوں نے بتی جلائی تو وہ خود بخود بند ہو گئےگ تاہم بتی بند کرتے ہیں نل پھر سے کھل گئے۔
آسٹریلیا کے ہی اسی طرح شین واٹسن بھی برطانیہ کے اسی ہوٹل کے ایک کمرے میں کسی بھوت سے ڈر کر بھاگے۔



