’جشن منانا حق ہے مگر دو کھلاڑیوں کا رویہ نامناسب تھا‘

بعض تماشائیوں کی جانب سے کھلاڑیوں کو نامناسب رویے کا سامنے کرنا پڑا : پاکستانی کوچ

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنبعض تماشائیوں کی جانب سے کھلاڑیوں کو نامناسب رویے کا سامنے کرنا پڑا : پاکستانی کوچ
    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام, کراچی

پاکستان ہاکی فیڈریشن نے ہاکی انڈیا کے اس الزام کو مسترد کردیا ہے کہ چیمپیئنز ٹرافی کے سیمی فائنل میں بھارت کو ہرانے کے بعد پاکستانی کھلاڑیوں نے جشن مناتے ہوئے نامناسب انداز اختیار کیا۔

پاکستان ہاکی فیڈریشن کے سیکریٹری رانامجاہد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انٹرنیشنل ہاکی فیڈریشن نے چالیس سیکنڈز تک جیت کا جشن منانے کی اجازت دے رکھی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جیسا کہ فٹبال میچوں میں بھی ہوتا ہے کہ کھلاڑی شرٹ اتار کر خوشی کااظہار کرتے ہیں اسی طرح پاکستانی کھلاڑیوں نے بھی ایسا ہی کیا یہ کوئی انوکھی بات نہیں ۔

رانا مجاہد نے کہا کہ انہیں ایف آئی ایچ کی طرف سے پاکستانی کھلاڑیوں کے مبینہ طور پر نامناسب اشارے کرنے کے بارے میں کوئی شکایت نہیں ملی ہے اور اگر ایسا ہوا تو اس معاملے کو ضرور دیکھا جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ وہ بھارت کے ساتھ ہاکی روابط بہتر رکھنا چاہتے ہیں اور انہوں نے اس سلسلے میں ہاکی انڈیا کے صدر کو ای میل بھی کی ہے۔

اس سوال پر کہ بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق ہاکی انڈیا کے صدر کہتے ہیں کہ وہ اس طرح کی صورتحال کے بعد آئندہ ایف آئی ایچ کے ٹورنامنٹس کی میزبانی کا شوقین نہیں، رانا مجاہد نے کہا کہ اس صورتحال میں پاکستان ایسے تمام ایونٹس کی میزبانی کے لیے تیار ہے۔

ہاکی کی بہتری کے لیے پاکستان اور بھارت کا ایک ساتھ کھیلنا بہت ضروری ہے: شہناز شیخ

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنہاکی کی بہتری کے لیے پاکستان اور بھارت کا ایک ساتھ کھیلنا بہت ضروری ہے: شہناز شیخ

ادھر پاکستانی ہاکی ٹیم کے ہیڈ کوچ شہناز شیخ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تسلیم کیا ہے کہ جیت کا جشن مناتے وقت چند کھلاڑیوں کا رویہ نامناسب تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ بعض تماشائیوں کی جانب سے کھلاڑیوں کو نامناسب رویے کا سامنے کرنا پڑا جس پر ایک دو کھلاڑیوں نے بھی جواباً نامناسب انداز اختیار کیا جس کا انہیں افسوس ہے اور انہوں نے ٹورنامنٹ ڈائریکٹر سے اسی وقت معذرت کر لی تھی۔

شہناز شیخ نے کہا کہ پریس کانفرنس کے دوران بھی میڈیا کے کچھ لوگوں کا انداز ان کے ساتھ اچھا نہیں تھا جس کی رپورٹ انہوں نے فوراً ٹورنامنٹ ڈائریکٹر کو کر دی تھی۔

شہناز شیخ نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ چونکہ پاکستان نے بھارت کو ہوم گراؤنڈ پر شکست دی ہے لہذا بہت سے لوگوں کو یہ جیت ہضم نہیں ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ ہاکی کی بہتری کے لیے پاکستان اور بھارت کا ایک ساتھ کھیلنا بہت ضروری ہے۔