پاکستانی کھلاڑیوں کے جشن پر بھارت ناراض

ایف آئی ایچ کے مطابق پاکستانی کھلاڑیوں کا رویہ تماشائیوں کے رویے کا ردعمل بھی ہو سکتا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنایف آئی ایچ کے مطابق پاکستانی کھلاڑیوں کا رویہ تماشائیوں کے رویے کا ردعمل بھی ہو سکتا ہے

بھارتی ہاکی فیڈریشن کے سربراہ نریندر بترا کا کہنا ہے کہ اگر عالمی ہاکی فیڈریشن کی نظر میں پاکستانی کھلاڑیوں کا جشن منانے کا انداز قابلِ سزا نہیں تو ان کا ملک آئندہ کسی عالمی ٹورنامنٹ کی میزبانی نہیں کرے گا۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر اپنے پیغام میں نریندر بترا نے کہا کہ ’میں اپنے چیف ایگزیکیٹو افسر کو ہدایت دے رہا ہوں کہ وہ ایف آئی ایچ کو مطلع کر دے کہ اگر ٹیموں کی جانب سے اس قسم کا رویہ معمول کی چیز اور قابلِ برداشت ہے تو ہم بھارت میں مزید ٹورنامنٹس کی میزبانی میں دلچسپی نہیں رکھتے۔‘

کھلاڑیوں کے جشن منانے کا معاملہ اس وقت شروع ہوا تھا جب سنیچر کی شب پاکستان نے سیمی فائنل میں بھارت کو شکست دی تھی۔

اس فتح کے بعد پاکستانی کھلاڑیوں نے جذباتی ہو کر اپنی قمیضیں اتار کر لہرائی تھیں اور چند کھلاڑیوں نے تماشائیوں کی جانب نازیبا اشارے بھی کیے تھے۔

ان کے اس اقدام پر ہاکی کی عالمی تنظیم ایف آیی ایچ کی جانب سے سرزنش کی گئی تھی جس کے بعد پاکستانی ٹیم کے کوچ شہناز شیخ نے کھلاڑیوں کی رویے پر معافی مانگ لی تھی۔

فتح کے بعد پاکستانی کھلاڑیوں نے جذباتی ہو کر اپنی قمیضیں اتار کر لہرائی تھیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنفتح کے بعد پاکستانی کھلاڑیوں نے جذباتی ہو کر اپنی قمیضیں اتار کر لہرائی تھیں

فیڈریشن آف انٹرنیشنل ہاکی کے نمائندے اور ٹورنامنٹ ڈائریکٹر ویئر ڈوائرز کا کہنا تھا کہ ’پاکستانی کھلاڑیوں کا رویہ فتح کا جشن منانے کے دائرے سے باہر‘ تھا اور ان کی حرکت ایسی نہیں تھے جسے ایف آئی ایچ کے معیار کے مطابق قابل قبول کہا جا سکے۔

تاہم ایف آئی ایچ نے کہا کہ اس سلسلے میں پاکستانی ٹیم پر کسی قسم کی پابندیاں نہیں لگائی جائیں گی کیونکہ ہو سکتا ہے کہ پاکستانی کھلاڑیوں نے شائقین کے رویے کے ردعمل میں ایسا کیا ہو۔

ہاکی کی بین الاقوامی تنظیم کا مزید کہنا تھا کہ پاکستانی کوچ شہناز شیخ نے انھیں یقین دہانی کرائی ہے کہ آئندہ اس قسم کے رویے کا اعادہ نہیں ہوگا۔

اس پر بترا نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ٹورنامنٹس کو ان ممالک میں منتقل کر دیا جانا چاہیے جہاں اس قسم کے بیہودہ رویے برداشت کیے جاتے ہوں۔‘

سوشل میڈیا پر گرماگرم بحث

،تصویر کا ذریعہOther

سوشل میڈیا پر بھی پاکستانی اور بھارتی شائقین کے درمیان اس معاملے پر گرماگرم بحث ہو رہی ہے اور بھارت میں جہاں ٹوئٹر پر # shamefulpakistan کا ہیش ٹیگ ٹرینڈ کر رہا ہے وہیں پاکستان میں #RoIndiaRO کے نام سے ٹرینڈ سرفہرست ہے۔

پاکستان میں جہاں اس ٹرینڈ کو استعمال کرنے والے عام شہری ہیں وہیں بھارت میں بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے وزیرِ اعلیٰ بھی اس لفظی جنگ کا حصہ بن گئے ہیں۔

انھوں نے ٹویٹ کی ہے کہ وہ پاکستانی کھلاڑیوں کے شکرگزار ہیں جنھوں نے صرف نازیبا اشارے کیے، تماشائیوں پر بم نہیں پھینکے اور فائرنگ شروع نہیں کر دی۔

ٹوئٹر پر بھارتی شہریوں کی بڑی تعداد پاکستان کو عموماً اور پاکستانی کھلاڑیوں کو خصوصاً تنقید کا نشانہ بنا رہی ہے اور کہا جا رہا ہے کہ انھوں نے میچ تو جیت لیا لیکن عزت نہیں پا سکے۔