کویٹووا دوسری مرتبہ ومبلڈن چیمپیئن بن گئیں

،تصویر کا ذریعہAFP
جمہوریہ چیک کی پیٹرا کویٹووا نے کینیڈا کی نوجوان کھلاڑی یوجین بوشارڈ کو سٹریٹ سیٹس میں ہرا کر ومبلڈن گرینڈ سلیم ٹینس ٹورنامنٹ جیت لیا ہے۔
یہ دوسرا موقع ہے کہ 24 سالہ کویٹووا نے ومبلڈن میں فتح حاصل کی ہے۔ اس سے قبل وہ 2011 میں بھی یہ ٹورنامنٹ جیت چکی ہیں۔
لندن میں سنیچر کو کھیلے جانے والے فائنل میں ٹورنامنٹ میں سکستھ سیڈ کویٹووا نے باآسانی چھ تین اور چھ صفر کے سکور سے فتح حاصل کی۔ یہ میچ صرف 55 منٹ جاری رہا۔
اس فتح کے نتیجے میں کوویٹوا خواتین کی عالمی درجہ بندی میں چوتھے نمبر پر پہنچ گئی ہیں۔
دو برس قبل جونیئر ومبلڈن ٹائٹل جیتنے والے بوشارڈ پہلی کینیڈین خاتون کھلاڑی ہیں جو کسی گرینڈ سلیم مقابلے کے فائنل میں پہنچیں تاہم ان کے پاس کوویٹوا کی نپی تلی سروس اور طاقتور شاٹس کا جواب نہ تھا۔
پہلے سیٹ میں تو بوشارڈ نے کچھ مقابلہ کیا لیکن دوسرا سیٹ یکطرفہ ثابت ہوا اور 23 منٹ چلنے والے سیٹ میں وہ ایک گیم بھی نہ جیت سکیں۔
فتح کے بعد کوویٹوا نے کہا کہ ’یہاں واپس آنا اور ٹرافی جیتنا بہت خاص ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہReuters
ان کا کہنا تھا کہ ’میں ان سب کی شکرگزار ہوں جنھوں نے میری حمایت کی۔ یہ میرے لیے بہت خاص وقت ہے۔‘
اعصام کا ومبلڈن بھی ختم
ادھر مکسڈ ڈبلز کے سیمی فائنل میں پاکستان کے اعصام الحق اور ان کی ساتھی روسی کھلاڑی ویرا ڈوشیوینا، سربیا کے نیناند زیمونچ اور آسٹریلیا کی سمانتھا سٹوسر سے شکست کھا گئے۔
ایک گھنٹے سات منٹ تک چلنے والے سیمی فائنل میں پاکستانی اور روسی کھلاڑیوں کی جوڑی کو سات پانچ اور چھ دو کے سکور سے سٹریٹ سیٹس میں شکست ہوئی۔
اس شکست کے ساتھ اعصام کا ومبلڈن میں سفر بھی اپنے اختتام کو پہنچ گیا ہے۔
وہ مردوں کے ڈبلز مقابلوں میں پہلے ہی شکست کھا کر ٹورنامنٹ سے باہر ہو چکے ہیں۔



