جیت کی خوشی میں ٹی وی کیا چیز!

برازیل کے پرستاروں نے جیت کا جشن اس طرح بھی منایا

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنبرازیل کے پرستاروں نے جیت کا جشن اس طرح بھی منایا

برازیل اور چلی کے درمیان سنیچر کو ہونے والے مقابلے میں جب برازیل کے گول کیپر ژولیو سيزر نے پنالٹی شوٹ آؤٹ کے دوران پہلا گول بچا لیا تو کھیل کے میدان کے باہر ساؤ پاولو کے ایک بار میں ٹی وی پر میچ دیکنے والے ایک فٹبال کے دیوانے نے فرط جذبات میں ٹی وی پر گھونسا دے مارا۔

ٹی وی سیٹ اس زوردارگھونسے کا متحمل نہ ہو سکا اور بار میں لگے قیمتی ایل سی ڈی کی سکرین چکنا چور ہو گئی۔

چونکہ پنالٹی شوٹ آؤٹ ابھی شروع ہی ہوا تھا اس لیے وہاں موجود بیٹھے فٹبال کے شائقین پنالٹی شوٹ آؤٹ کا نتیجہ جاننے کے لیے بے چین ہو گئے۔

بار کے مالک نے اس شخص کو پکڑ لیا اور اس سے ہرجانہ مانگنے لگا لیکن دوسرے لوگ میچ دیکھنے کے لیے فوری طور پر پیسے دیے بغیر دوسرے بار کی طرف دوڑ پڑے جبکہ بعض اپنے سمارٹ فون پر میچ دیکھنے کی کوشش کرنے لگے۔

لیکن جب ژولیو سیزر پنالٹی شوٹ آؤٹ میں دو گول روکنے میں کامیاب رہے اور برازیل دو کے مقابلے تین گول سے میچ جیت گیا تو اس بار سے جانے والے لوگوں نے واپس آ کر اپنا بل ادا کیا۔

یہاں تک کہ ٹی وی توڑنے والے شخص کو بھی جیت کی خوشی میں معاف کر دیا گیا اور برازیل کی جیت کا جشن رات بھر منایا جاتا رہا۔

’فولیکو ہے اصل سٹار‘

برازیل ورلڈ کپ کے میسکوٹ فولیکو شائقین میں انتہائی مقبول ہیں

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنبرازیل ورلڈ کپ کے میسکوٹ فولیکو شائقین میں انتہائی مقبول ہیں

فولیکو برازیل میں جاری فٹبال ورلڈ کپ کا سرکاری طور پر میسکوٹ ہے۔ کھیل کے میدان میں ’فولیكو‘ بھلے ہی کم نظر آ رہا ہو، لیکن سڑکوں اور گلیوں میں عوام کے درمیان وہ بہت مقبول ہے۔

اتوار کو ریو ڈی جنیرو میں جہاں میکسیکو اور ہالینڈ کی ٹی شرٹ میں بہت سے فٹبال فین فيفا فین فیسٹ ایریا میں جمع تھے، وہیں مقامی باشندے عالمی کپ کے میسکوٹ ’فلیكو‘ کی قد آدم مورتی کے ساتھ اپنی تصویر لینے کے لیے لمبی قطار میں منتظر تھے۔

یعنی ریو ڈی جنیرو میں ’فولیكو‘ سٹار ہے۔

جس وقت فین فیسٹ میں ایک بڑی سی ٹی وی سکرین پر میچ کی لائیو نشریات جاری تھی تب بھی تقریبا 30 لوگ ’فلیكو‘ کے ساتھ تصویر لینے کے لیے قطار میں لگے ہوئے تھے۔ کئی پرستار تو تصویر لینے کے ساتھ ہی اسے سوشل میڈیا پر شیئر کرنے میں لگے تھے۔

شکست کے باوجود بھی فاتح جیسا استقبال

چلی کی فٹبال ٹیم اپنے ملک کی صدر کے ساتھ

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنچلی کی فٹبال ٹیم اپنے ملک کی صدر کے ساتھ

چلی کی ٹیم فٹبال ورلڈ کپ میں برازیل سے ہارنے کے بعد جب دارالحکومت سینتیاگو پہنچی تو وہاں موجود ہزاروں شائقین نے ان کا استقبال فاتحین کی طرح کیا۔

چلی اور برازیل کا مقابلہ اخیر تک بے حد ڈرامائی رہا تھا جس میں بالآخر چلی پنالٹی شوٹ آؤٹ میں ہار گیا۔ چلی کی صدر میچیل بیچلیٹ نے اتوار کو ملک واپس لوٹنے والی ٹیم اور اس کے کوچ کو ایوان صدر میں مدعو کیا۔

صدارتی محل میں کھلاڑیوں سے بات کرتے ہوئے بیچلیٹ نے کہا: ’سچ ہے کہ کل ہم جیت نہیں پائے، لیکن ہم نے مقابلہ کیا۔۔۔ یہ ہنر اور جوش کی شاندار مثال تھی۔ ہم نے برابر کی ٹکر دی اور یہ ہمارے لیے فخر کی بات ہے۔‘

گھانا کے کھلاڑیوں کا گھمسان

مڈفیلڈر کیون پرنس بواٹنگ کو پرتگال کے ساتھ ميچ سے قبل ہی ٹیم سے رخصت کر دیا گیا تھا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنمڈفیلڈر کیون پرنس بواٹنگ کو پرتگال کے ساتھ ميچ سے قبل ہی ٹیم سے رخصت کر دیا گیا تھا

اگر چلی کے کھلاڑی شکست کے باوجود فاتح کی طرح واپس آئے تو وہیں گھانا کے کھلاڑیوں کو آپس میں لڑنے سے فرصت نہیں ہے۔

گھانا عالمی کپ میں پہلے ہی دور میں باہر ہو گیا ہے۔ ٹیم کے کھلاڑیوں کو ایک دوسرے سے کئی شکایتیں ہیں۔ بعض کھلاڑی تو کوچ سے ہی الجھ پڑے۔

ٹیم کے مڈفیلڈر کیون پرنس بواٹنگ کو پرتگال کے ساتھ ميچ سے قبل ہی ٹیم سے رخصت کر دیا گیا تھا۔ یہ گھانا کا اس عالمی کپ میں آخری میچ تھا۔

بواٹنگ پر اپنے کوچ کے ساتھ بدتمیزی کا الزام ہے۔ بواٹنگ نے اب جا کر اس معاملے میں اپنا موقف رکھا ہے۔

جرمنی کے اخبار بلڈ کو دیے جانے والے انٹرویو میں انھوں نے اپنے ملک کی فٹبال ایسوسی ایشن پر ٹیم کے لیے ہوٹل اور پروازوں وغیرہ کے خراب انتظامات کا الزام لگایا ہے۔

جرمنی کے ایک کلب کے لیے کھیلنے والے اس کھلاڑی نے اخبارسے کہا: ’مجھے توقع نہیں تھی کہ فٹبال ایسوسی ایشن عالمی کپ میں اتنا خراب انتظام کرے گی۔‘