فٹبال ڈائری: قمیض اتار کر میدان میں اور آنکھوں کی جستجو

میراڈونا کے میدان میں رہتے ہوئے ایران کے خلاف گول نہ ہوسکا

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنمیراڈونا کے میدان میں رہتے ہوئے ایران کے خلاف گول نہ ہوسکا

ارجنٹائن کے سب سے بڑے فٹبال کھلاڑی ڈیاگو میراڈونا بوسنیا کے خلاف اپنی ٹیم کا پہلا میچ نہیں دیکھ سکے۔

تاہم ہفتے کو ایران کے خلاف کھیلے جانے والے میچ کے دوران میراڈونا اپنی بیٹی جیانینا کے ساتھ سٹیڈیم میں موجود تھے۔

لیکن میچ ختم ہونے سے قبل ہی شاید گول نہ ہونے کی وجہ سے انھوں نے وہاں سے جانا بہتر سمجھا۔

اور اسی وجہ سے وہ میسی کا خوبصورت گول دیکھنے سے قاصر رہ گئے جس نے نہ صرف ایران پر ان کی ٹیم کی ایک صفر سے جیت یقینی بنائی بلکہ ورلڈ کپ پری کوارٹر فائنلز میں ارجنٹائن کے لیے جگہ بھی یقینی بنا دی۔

ارجنٹائن میں میراڈونا کو ’کولڈ فیٹ‘ بھی کہا جاتا ہے یعنی منحوس قدم۔ ایسے میں میسی نے جب گول کیا تو ارجنٹائن کے پرستاروں نے چیخ کر کہا: ’کولڈ فیٹ چلے گئے اور ہم جیت گئے۔‘

قمیض اتار کر میدان میں

گھانا اور جرمنی کے درمیان ميچ دو دو سر برابر رہا اور جرمنی کے پرستاروں کے چہرے بہت کچھ بیان کرتے ہیں

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنگھانا اور جرمنی کے درمیان ميچ دو دو سر برابر رہا اور جرمنی کے پرستاروں کے چہرے بہت کچھ بیان کرتے ہیں

فٹ بال ورلڈ کپ میں پہلی بار میدان میں دراندازی کی وجہ سے کسی ميچ میں رکاوٹ پیدا ہو‏‏ئی۔ ہفتے کو فورٹالیزا میں جرمنی اور گھانا کے درمیان کھیلے جانے والے میچ کے دوران یہ واقعہ پیش آیا۔

میچ کے دوسرے نصف میں سات منٹ کا کھیل ہو چکا تھا، اسی وقت ایک آدمی بغیر شرٹ کے میدان میں داخل ہوا۔ سرکاری براڈكسٹر نے فوری طور پر اس آدمی کی موجودگی کو نظر انداز کر دیا۔

فٹبال کا یہ شائق میدان تک پہنچ گیا اور انھوں نے گھانا کے کھلاڑیوں کو مبارکباد دی۔ اسی لمحے سکیورٹی فورسز نے اسے پکڑ لیا۔

اس شخص نے اپنے سینے اور پیٹھ پر جلی حروف میں اپنا ٹیلی فون نمبر اور ای میل آئی ڈی لکھ رکھا تھا۔

آنکھوں کی جستجو

کوسٹا ریکا نے اہم ٹیموں کو ہرا کر ورلڈ کپ میں سنسنی پھیلا دی ہے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنکوسٹا ریکا نے اہم ٹیموں کو ہرا کر ورلڈ کپ میں سنسنی پھیلا دی ہے

اس ورلڈ کپ میں کوسٹا ریکا کی ٹیم ایک سنسنی خيز ٹیم بن کر ابھری ہے۔ اس نے اٹلی، انگلینڈ اور یوروگوئے کے گروپ میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔

یہ ملک محض اپنے کھیل سے ہی توجہ کا مرکز نہیں بلکہ میدان کے باہر کوسٹا ریکا کی ایک صحافی بھی شہرت حاصل کر رہی ہیں۔

ان کا نام جالے براہیمی ہے اور وہ مرکزی امريكن ملک کے ٹی وی نیٹ ورک میں کام کرتی ہیں۔

جب سے وہ برازیل ورلڈ کپ کوریج کے لیے آئی ہیں سٹیڈیم اور سواحل پر ان تصاویر کو بہت پسند کیا جا رہا ہے۔

کوسٹا ریکا کے اخبار لا ناسیون کے مطابق ’براہیمی برازیل میں اس لیے ہیں تاکہ وہ یہ واضح کر سکیں کہ لوگوں کی توجہ دراصل کس جانب ہے۔ سپورٹس کا کوریج کرنے والے صحافی ہمارے پاس بھی ہیں۔ لیکن ورلڈ کپ صرف اتنا ہی نہیں ہے بلکہ لوگوں کی آنکھوں میں تجسس اور ان کی تکمیل بھی ہے۔‘