آسٹریلین اوپن: گرمی کی وجہ سے میچ رک گئے

،تصویر کا ذریعہAFP
آسٹریلیا میں جاری شدید گرمی نے جہاں وہاں کےشہریوں کے لیے مشکلات پیدا کی ہیں وہیں آسٹریلین اوپن ٹینس کے مقابلوں کو بھی متاثر کیا ہے۔
شدید گرمی اور بڑھتے ہوئے درجۂ حرارت کی وجہ سے جمعرات کو آسٹریلین اوپن کے تمام میچ روک دیے گئے۔
آسٹریلیا کے محکمۂ موسمیات نے ملک میں آئندہ چند روز تک مزیدگرمی پڑنے کی پیش گوئی کی ہے۔
میلبرن میں تیسرے روز بدھ کو درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ رہا جبکہ جمعرات کو درجہ حرارت 41 ڈگری ریکارڈ کیا گیا۔
آسٹریلین اوپن کے منتظمین کا کہنا ہے کہ شدید گرمی کے باعث میچ روک دیے گئے ہیں۔
منتظمین کا کہنا تھا کہ میچ روکنے کے فیصلے میں درجۂ حرارت، ہوا کی رفتار اور ہوا میں نمی کے تناسب کو پیش نظر رکھا گیا۔
منتظمین کے مطابق شدید گرمی کی وجہ سے کھلی فضا میں کے میچوں کو روکا جا رہا ہے۔
منتظمین نے ایک بیان میں کہا ہے کہ راڈ لیور ارینا اور ہائی سین ارینا میں جاری میچوں کے لیے چھت بند کر دی جائے گی۔
میلبرن میں بی بی سی کے نامہ نگار جون ڈونیسن کا کہنا ہے کہ میچ روکنے کا اعلان دوپہر کے وقت کیا گیا جب گرمی سب سے زیادہ تھی۔
سال کے پہلے ٹینس گرینڈ سلیم مقابلے آسٹریلین اوپن میں حصہ لینے والے کھلاڑی سخت گرم موسم سے شدید پریشان ہیں۔
کھلاڑیوں نے گرمی کی شدت کو کم کرنے کے لیے برف کے تولیوں کا استعمال کیا۔
ادھر میلبرن میں جاری آسٹریلین اوپن کے میچ دیکھنے والے شائقین بھی شدید گرمی سے پریشان ہیں۔
میلبرن کے ایک رہائشی جیمز ہکی نے بی بی سی کو بتایا کہ گذشتہ چند روز بہت زیادہ گرم تھے۔
آسٹریلیا کی ماحولیاتی کونسل نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ ملک کے گرم دنوں کی تعداد دگنی ہو گئی ہے۔ خیال رہے کہ آسٹریلیا میں سنہ 2013 کو گرم ترین سال قرار دیا گیا تھا۔
آسٹریلیا کی ماحولیاتی کونسل کی رپورٹ نے ماحولیات میں تبدیلی کو گرین ہاؤس گیسز کی وجہ قرار دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق آسٹریلیا میں اس سے پہلے سنہ 1971 اور 2008 میں اتنی زیادہ گرمی پڑی تھی۔
آسٹریلیا کے محکمۂ موسمیات نے جنوبی شہر ایڈیلیڈ میں درجۂ حرارت 46 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کی پیش گوئی کی ہے۔



