آسٹریلین اوپن ٹینس ٹورنامنٹ کے دوران شدید گرمی سے سب پریشان
،تصویر کا کیپشنآسٹریلیا میں جاری سال کے پہلے ٹینس گرینڈ سلیم مقابلے آسٹریلین اوپن میں کھلاڑی اپنے مخالف کھلاڑیوں سے زیادہ گرمی سے پریشان دکھائی دیے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنیہ ٹینس مقابلے میلبرن پارک میں کھیلے جا رہے ہیں جہاں منگل کو درجۂ حرارت 42 سنٹی گریڈ تک پہنچ گیا۔
،تصویر کا کیپشنکینیڈا سے تعلق رکھنے والے فرینک ڈینیوک یہ گرمی برداشت نہ کر سکے اور میچ کے دوران بےہوش ہوگئے۔
،تصویر کا کیپشناتنی شدید گرمی میں کھلاڑی خود کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے مختلف طریقے استعمال کرتے نظر آئے۔
،تصویر کا کیپشنٹورنامنٹ کے منتظمین نے کھلاڑیوں کے لیے ٹھنڈی جیکٹیں بھی فراہم کی ہیں۔
،تصویر کا کیپشناس کے علاوہ لُو لگنے سے بچنے کے لیے انھیں گردن کے گرد لپیٹنے کے لیے برف بھرے تولیے بھی فراہم کیے جا رہے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنجاپان جیسے سرد ممالک سے آنے والے کھلاڑی موسم سے زیادہ پریشان دکھائی دیے۔
،تصویر کا کیپشنسپین سے تعلق رکھنے والے رافیل ندال کے لیے بھی موسم کی شدت قابلِ برداشت نہ رہی۔
،تصویر کا کیپشنایک خاتون کھلاڑی نے اتنےگرم موسم میں کورٹ پر اترنے کو ’گرم توے پر ناچنے‘ جیسا قرار دیا۔
،تصویر کا کیپشنکھلاڑیوں کے علاوہ مقابلے دیکھنے کے لیے آنے والے تماشائی بھی گرمی سے تنگ ہوئے۔
،تصویر کا کیپشنتماشائیوں میں سے کچھ نے میلبرن پارک میں نصب فواروں کی مدد سے گرمی کا مقابلہ کیا۔
،تصویر کا کیپشنانتظامیہ کے کورٹ کے قریب ایسے پنکھے بھی نصب کیے ہیں جو تماشائیوں پر ہوا کے ساتھ پانی کی پھوار پھینکتے ہیں۔