آسٹریلین اوپن تعطل کے بعد دوبارہ شروع

،تصویر کا ذریعہReuters
آسٹریلیا میں شدید گرمی اور مزید گرمی کی پیشن گوئی کے بعد روکے گئے آسٹریلین اوپن چار گھنٹے بعد دوبرہ شروع ہو گیا ہے۔
اس سے قبل میلبرن میں جاری آسٹریلین اوپن کے منتظمین نے ٹورنامنٹ روک دیا تھا۔
میلبرن میں تیسرے روز یعنی بدھ کو بھی درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ رہا جبکہ جمعرات کو درجہ حرارت 41 ڈگری ریکارڈ کیا گیا۔
آسٹریلین اوپن کے منتظمین کا کہنا ہے کہ شدید گرمی کے باعث میچ کے آخری سیٹس میں میچ روک دیے تھے۔ منتظمین کا کہنا تھا کہ میچ روکنے کے فیصلے میں درجۂ حرارت، ہوا کی رفتار اور ہوا میں نمی کے تناسب کو پیش نظر رکھا گیا۔
میلبرن میں بی بی سی کے نامہ نگار جون ڈونیسن کا کہنا ہے کہ میچ روکنے کا اعلان دوپہر کے وقت کیا گیا جب گرمی سب سے زیادہ تھی۔
سال کے پہلے ٹینس گرینڈ سلیم مقابلے آسٹریلین اوپن میں حصہ لینے والے کھلاڑی سخت گرم موسم سے شدید پریشان ہیں۔
منگل کو کینیڈا سے تعلق رکھنے والے کھلاڑی فرینک ڈانکے وِچ کو اس وقت طبی امداد دینا پڑی جب وہ پہلے راؤنڈ کے میچ میں گرمی کی وجہ سے بےہوش ہوگئے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس قسم کے موسم میں کھلاڑیوں کو کھیلنے دینا ’غیرانسانی‘ ہے۔
برطانوی ٹینس کھلاڑی اینڈی مری نے بھی کہا تھا کہ اس قسم کے واقعات ٹورنامنٹ کی ساکھ کے لیے نقصان دہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اگر لوگ بےہوش ہوتے رہیں گے تو یہ کھیل کے لیے اچھا نہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’زیادہ تر کھلاڑی اس قسم کے موسم کے لیے تیاری کرتے ہیں لیکن تین سے چار گھنٹے اسے برداشت کرنا مشکل ہے۔‘
منگل کو میلبرن پارک میں گرم موسم کی وجہ سے جہاں سابق عالمی نمبر ایک خاتون کھلاڑی کیرولائن ووزنیاکی کی پانی کی بوتل کی شکل بگڑگئی تھی وہیں فرانسیسی کھلاڑی جو ولفریڈ تسونگا کے جوتوں کا تلا نرم پڑ گیا تھا۔
گرمی کی وجہ سے ہی کورٹ پر موجود گیند اٹھانے والے لڑکے اور لڑکیوں کی شفٹ بھی ایک گھنٹے سے کم کر کے 45 منٹ کر دی گئی۔
کینیڈین کھلاڑی فرینک ڈانکےوچ پہلے راؤنڈ میں فرانس کے بینوا پیئر کے مدِمقابل تھے اور یہ میچ کورٹ نمبر چھ پر کھیلا گیا جس پر چھت موجود نہیں۔
وہ گرمی کی شدت کی وجہ سے اس میچ کے دوسرے ہی سیٹ میں بےہوش ہوگئے۔ طبی امداد لینے کے بعد 29 سالہ ڈانکےوچ کا کہنا تھا: ’جب تک کوئی مر نہیں جاتا، یہ لوگ اسی طرح سلسلہ جاری رکھیں گے اور اتنی دھوپ میں میچ کھلواتے رہیں گے۔‘



