آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
سمیع چوہدری کا کالم: یہ ’جینئس‘ کا ورلڈ کپ ہو گا
- مصنف, سمیع چوہدری
- عہدہ, کرکٹ تجزیہ کار
تین اپریل 2016 کو جب ویسٹ انڈین کپتان ڈیرن سامی دوسری بار آئی سی سی ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کی ٹرافی اٹھا رہے تھے تو بین سٹوکس کے ساتھ ساتھ ساری دنیائے کرکٹ بھی اس محدود فارمیٹ میں ویسٹ انڈیز کی واضح برتری کا اقرار کر رہی تھی۔
اس اختتامی تقریب کے دوران ڈیرن سامی نے اپنے کرکٹ بورڈ اور کرکٹ کلچر کے بارے میں جو انکشافات کئے تھے، وہ نہ صرف چشم کُشا بلکہ حیران کن بھی تھے کہ ایسی بے سروسامانی کے باوجود ان کی ٹیم نے کیسی جی دار کرکٹ کھیلی جو دوسری بار عالمی چیمپئین قرار پائے۔ کارلوس براتھویٹ نے بین سٹوکس کے ساتھ جو کیا، اسے جینئس کی ایک جھلک قرار دیا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔
تب اگر ویسٹ انڈین کرکٹ بورڈ اپنا وقار مجروح ہونے کا غصہ ڈیرن سامی اور کوچ فِل سمنز پہ نکالنے کی بجائے ان انکشافات پہ سنجیدگی سے غور کرتا اور واقعی اپنے وقار کی بحالی کی کوئی تگ و دو کرتا تو آج شاید حالات ایسے دگرگوں نہ ہوتے کہ دو بار کی فاتح ٹیم اس بار ورلڈ کپ کے لئے کوالیفائی کرنے سے بھی رہ گئی۔
یہ پہلا ورلڈ کپ ہو گا جس میں ویسٹ انڈیز ہمیں نظر نہیں آئے گی جبکہ اسی ایونٹ میں ہمیں پہلی بار زمبابوے کی ٹیم ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کھیلتی نظر آئے گی۔ زمبابوے کے لئے یہ بہت بڑی کامیابی ہے کہ بالآخر انہوں نے ایک ایسی ٹیم ترتیب دے لی ہے جو ذمہ داریاں نبھانے اور بوجھ بانٹنے میں خود کفیل ہے۔
ایونٹ کے آغاز سے پہلے ہی سکندر رضا نے واضح کیا تھا کہ وہ اس بار محض کوالیفائر کھیلنے نہیں آئے بلکہ مین ایونٹ میں جگہ پا کر ہی دم لیں گے۔ اور اپنی بہترین آل راؤنڈ کاوشوں کے سبب سکندر رضا نہ صرف اس کوالیفائر مرحلے کے اوّلین کھلاڑی ثابت ہوئے بلکہ اپنی ٹیم سے کیا عہد بھی خوب نبھایا۔
نمیبیا اگرچہ سال بھر پہلے ہی دنیائے کرکٹ کی توجہ کا مرکز بن گئی تھی جب اس نے پہلی بار کسی آئی سی سی ایونٹ کے لئے کوالیفائی کیا تھا مگر اس بار وہ مین ایونٹ میں جگہ پانے میں ناکام رہے۔ لیکن دلچسپ بات یہ رہی کہ اس مرحلے میں بھی سب سے چونکا دینے والی ہیڈلائن نمیبیا کی طرف سے ہی آئی جب انہوں نے ایشیا کپ کی تازہ فتح کے خمار میں چُور سری لنکا کو پہلے ہی میچ میں حیران کن شکست سے دوچار کر کے خطرے کی گھنٹیاں بجا دیں۔ ستم ظریفی یہ تھی کہ سپنرز کی آماجگاہ کہلانے والی سری لنکن کرکٹ یہاں خود نمیبیا کے سپنرز کے ہاتھوں ڈھیر ہو گئی۔
بحیثیتِ مجموعی کوالیفائر مرحلے میں خاصی دلچسپ اور بسا اوقات سنسنی خیز کرکٹ بھی دیکھنے کو ملی۔ مقابلے کا معیار ایسا عمدہ تھا کہ راؤنڈ کے آخری میچ تک سری لنکا کے علاوہ باقی تین کوالیفائرز کا حتمی فیصلہ نہ ہو پایا۔
ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کی مختصر سی تاریخ میں یہ آسٹریلیا میں کھیلا جانے والا پہلا ٹورنامنٹ ہے اور آسٹریلین کنڈیشنز کبھی بھی اجنبی کرکٹرز پہ مہربان نہیں رہیں۔ سو گمان یہی ہے کہ مسابقت کا معیار یہاں بہت بلند رہے گا اور جو ٹیمیں اننگز کے دوسرے حصے میں اپنے حواس کو مجتمع رکھ پائیں، ان کے لئے کامیابی کے امکانات زیادہ ہوں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کوالیفائر مرحلے میں یہ بات بارہا عیاں ہوئی کہ نئی گیند کے خلاف بازو کھولنا آسان نہیں تھا اور غلطی کے امکانات زیادہ تھے جبکہ کئی میچز میں آخری دس اوورز کا مجموعی سکور پہلے دس اوورز سے لگ بھگ دو گنا تھا۔
آسٹریلین کنڈیشنز کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ کچھ ایسا ہی رجحان ایونٹ کے سپر 12 مرحلے میں بھی جاری رہے گا کیونکہ نئے گیند کے باؤنس کو جھیلنا بسا اوقات بہت مہنگا پڑ جاتا ہے اور پرانی گیند بلے پہ بہتر آتی ہے۔ اسی لئے بیٹنگ ارڈرز میں بھی ہمیں ایسی تبدیلیاں دیکھنے کو مل سکتی ہیں جو مڈل اوورز کے جمود کو توڑنے کی کوشش کریں اور کچھ قیمتی وکٹیں ڈیتھ اوورز کے لئے بچا کر رکھی جائیں۔
آسٹریلین کنڈیشنز کا خاصہ یہ ہے کہ یہاں مقابلے کبھی بھی بے جان نہیں ہوتے۔ چیزیں مسلسل وقوع پذیر ہوتی رہتی ہیں اور صورت حال لمحہ بہ لمحہ تغیر سے گزرتی جاتی ہے۔ ٹاپ آرڈر پہ زیادہ انحصار رکھنے والی بیٹنگ لائنز کے لئے یہاں زندگی آسان نہیں ہو گی اور لوئر آرڈر پہلے سے کہیں زیادہ فیصلہ کن کردار ادا کرے گا۔
چونکہ اس بار موسم بھی بار بار آڑے آتا رہے گا تو مقابلہ محض اننگز کا اننگز سے نہیں ہو گا بلکہ منظر نامے کا منظر نامے سے ہو گا اور منظر نامہ تسخیر کرنے کے لئے محض مہارت اور قسمت ہی کافی نہیں ہوتی بلکہ ذہانت کی وہ معراج بھی درکار ہوتی ہے جسے عرفِ عام میں جینئس کہا جاتا ہے۔
یہ ورلڈ کپ جینئس کا ورلڈ کپ ہو گا۔