ٹی ٹوئٹنی ورلڈ کپ 2022: وہ کھلاڑی جن کے دم سے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں رونق ہو گی

    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ ہو تو یہ کیسے ممکن ہے کہ ان کھلاڑیوں کا ذکر نہ ہو جو اس عالمی مقابلے میں مرکز نگاہ بن سکتے ہیں۔

آسٹریلیا میں سجنے والے اس ٹی ٹوئنٹی کے میلے میں ایسے متعدد کرکٹرز ہیں جو اپنی شاندار کارکردگی کی وجہ سے یہ میلہ لوٹنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ روہت شرما، وراٹ کوہلی، بابر اعظم، مارٹن گپٹل اور راشد خان اگر کسی ٹورنامنٹ میں ہوں تو ان کے آگے کسی دوسرے کا چراغ آسانی سے نہیں جل سکتا۔

محدود اوورز کی کرکٹ میں کسی بھی وقت کسی بھی کھلاڑی کا ستارہ چمک سکتا ہے لہٰذا ان بڑے اور مستند ناموں کے علاوہ چند دوسرے کرکٹرز بھی اپنی دھاک بٹھانے کے لیے تیار بیٹھے ہیں اور وہ اس ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی شہ سرخیوں میں جگہ بنانے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔

محمد رضوان (پاکستان)

محمد رضوان کو سرفراز احمد کی موجودگی میں ٹیم میں جگہ بنانے کے لیے انتظار کرنا پڑا لیکن جب پاکستان کرکٹ بورڈ نے اپنی توجہ سرفراز احمد سے ہٹائی تو اس کے بعد رضوان نے نہ صرف وکٹ کیپنگ گلووز سنبھالے بلکہ بیٹنگ میں بھی قابل ذکر کارکردگی سے وہ اب ٹیم کا لازمی حصہ بن چکے ہیں۔

پچھلے ایک سال سے محمد رضوان کی مستقل مزاجی سے رنز بنانے کی عادت نے انھیں ٹی ٹوئنٹی کا کامیاب بیٹسمین بنادیا ہے۔

گذشتہ سال وہ ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے بیٹسمین تھے۔ اس کارکردگی کی بدولت وہ آئی سی سی کے سال کے بہترین ٹی ٹوئنٹی کرکٹر کا ایوارڈ جیتنے میں بھی کامیاب رہے تھے۔ اس کے علاوہ وزڈن نے انھیں سال کے پانچ بہترین کرکٹرز میں شامل کیا تھا۔

رضوان اس سال بھی بھرپور فارم میں ہیں۔ اس سال وہ ایشیا کپ اور انگلینڈ کے خلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے بیٹسمین رہے ہیں۔

اس سال تمام ٹی ٹوئنٹی میچوں میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے بیٹسمینوں میں بھی محمد رضوان پہلے نمبر پر ہیں۔

محمد رضوان اس وقت آئی سی سی کی عالمی ٹی ٹوئنٹی رینکنگ میں پہلے نمبر پر ہیں۔ بابر اعظم کے ساتھ ان کی جوڑی ٹی ٹوئنٹی کی کامیاب اوپننگ جوڑی کے طور پر اپنا تاثر قائم کر چکی ہے۔ یہ دونوں ایک ساتھ بیٹنگ کرتے ہوئے سب سے زیادہ مجموعی رنز اور سب سے زیادہ سنچری شراکتوں کا عالمی ریکارڈ قائم کر چکے ہیں۔

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں محمد رضوان اور بابر اعظم پاکستانی ٹیم کی سب سے بڑی امید ہیں۔ ایشیا کپ کے فائنل اور پھر انگلینڈ کے خلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز میں پاکستانی مڈل آرڈر بیٹنگ کے ناکام ہونے کے بعد رضوان اور بابر اعظم سے توقعات میں اضافہ ہو چکا ہے اور دیکھنا یہ ہوگا کہ عالمی مقابلے میں یہ دونوں پاکستانی بیٹنگ کو کس طرح استحکام دیتے ہیں۔

سُوریا کمار یادو (انڈیا)

سُوریا کمار یادو نے ایک ایسی بیٹنگ لائن میں اپنی پوزیشن مستحکم بنالی ہے جو روہت شرما، وراٹ کوہلی اور لوکیش راہول کی وجہ سے پہلے ہی حریف ٹیموں کے لیے مشکلات پیدا کر دیتی ہے، ایسے میں ’ایس کے وائی‘ چوکوں اور چھکوں کا نیا ٹریڈ مارک بن چکا ہے۔

سوریا کمار یادو دس سال سے فرسٹ کلاس کرکٹ کھیل رہے ہیں۔ آئی پی ایل میں انھیں چار سال کولکتہ نائٹ رائیڈرز کی طرف سے کھیلنے کا موقع ملا اور پچھلے پانچ سال سے وہ ممبئی انڈینز کا حصہ ہیں تاہم انھیں انٹرنیشنل کرکٹ میں آنے کا موقع پچھلے سال ہی ملا۔

سوریا کمار یادو جس جارحانہ انداز سے بیٹنگ کرتے ہیں اس پر کسی کو حیرت نہیں ہوتی کیونکہ انھوں نے اس کی جھلک ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں سامنا کرنے والی اولین گیند پر ہی دکھا دی تھی جب انھوں نے انگلینڈ کے جوفرا آرچر کو چھکا لگایا تھا۔

سوریا کمار یادو اس سال زبردست فارم میں ہیں۔ تمام ٹی ٹوئنٹی میچوں میں وہ ایک سنچری اور نو نصف سنچریوں کی مدد سے ایک ہزار سے زائد رنز بنا چکے ہیں۔ ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں اس سال ان کے بنائے گئے رنز کی تعداد 801 ہے جو اس سال کسی بھی بیٹسمین کے سب سے زیادہ رنز ہیں۔

اس سال وہ ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں 51 چھکے لگا چکے ہیں جو اس سال کسی بھی بیٹسمین کے سب سے زیادہ چھکے ہیں۔

آئی سی سی کی ٹی ٹوئنٹی عالمی رینکنگ کی پہلی تین پوزیشنوں میں محمد رضوان، سوریا کمار یادو اور بابر اعظم کے درمیان دلچسپ مقابلہ جاری ہے۔

نمبر دو پوزیشن پر کبھی یادو آگے نکل گئے تو کبھی بابر اعظم نے انھیں پیچھے چھوڑ دیا لیکن اب سوریا کمار یادو کی نظریں پہلی پوزیشن پر لگی ہوئی ہیں اور وہ عالمی نمبر ایک محمد رضوان سے اپنے پوائنٹس کا فرق کم کرتے جارہے ہیں۔

ٹم ڈیوڈ (آسٹریلیا)

26 سال کے ٹم ڈیوڈ سنگاپور میں پیدا ہوئے لیکن اب وہ آسٹریلوی کرکٹ ٹیم کا حصہ ہیں۔

چھ فٹ پانچ انچ طویل قامت ٹم ڈیوڈ کے کریئر کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ پہلا حصہ وہ، جس میں وہ سنگاپور کی نمائندگی کرتے ہوئے متعدد اہم اننگز کھیلتے نظر آئے اور جن میں ملائشیا کے خلاف صرف 32 گیندوں پر بنائے گئے ناقابل شکست 92 رنز نمایاں تھے۔ اس اننگز میں 7 چھکے اور 9 چوکے شامل تھے۔

ٹم ڈیوڈ کے کریئر کا دوسرا حصہ وہ ہے جب انھیں انٹرنیشنل کرکٹ میں آسٹریلیا کی نمائندگی کا موقع ملا اور وہ انڈیا کے خلاف تین میچوں کی سیریز کے لیے منتخب کیے گئے۔

ٹم ڈیوڈ کے کریئر کا سب سے اہم موقع وہ تھا جب اس سال آئی پی ایل کی نیلامی میں ممبئی انڈینز نے انھیں سوا آٹھ کروڑ روپے کے عوض حاصل کیا حالانکہ ان کے پاس نہ کسی آسٹریلوی ریاستی ٹیم کی طرف سے کھیلنے کا کنٹریکٹ تھا اور نہ ہی فرسٹ کلاس کرکٹ کا کوئی تجربہ۔

ٹم ڈیوڈ اس سے قبل آسٹریلوی بگ بیش میں ہوبارٹ ہریکینس کی طرف سے کھیلے تھے جس کے بعد ان کے پاس انگلش کاؤنٹی سرے، لاہور قلندرز، سینٹ لوشیا کنگز، رائل چیلنجرز بنگلور اور ملتان سلطانز کے کنٹریکٹ بھی آنے لگ گئے تھے۔

ٹم ڈیوڈ نیچرل پاور ہٹر ہیں۔ پاکستانی شائقین ان کے بولرز کے ساتھ بے رحمانہ سلوک کی جھلک اسی سال پی ایس ایل میں دیکھ چکے ہیں جس میں وہ سب سے زیادہ 21 چھکے لگانے والے بیٹسمین تھے۔ مجموعی رنز کے اعتبار سے وہ محمد رضوان اور شان مسعود کے بعد ملتان سلطانز کے تیسرے سب سے کامیاب بیٹسمین رہے تھے۔

شائقین کو ٹم ڈیوڈ سے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں کافی توقعات وابستہ ہیں جس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ٹم ڈیوڈ اس سال تمام ٹی ٹوئنٹی میچوں میں سب سے زیادہ چھکے لگانے والے بیٹسمین ہیں اور عام خیال یہی ہے کہ یہ سلسلہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بھی نہیں رکے گا۔

ڈیوڈ ملر (جنوبی افریقہ)

ڈیوڈ ملر کرکٹ کی دنیا میں ایک ایسے بیٹسمین کے طور پر مشہور ہیں جنھیں اپنے زوِر بازو پر بہت ناز ہے جس کا مظاہرہ وہ محدود اوورز کی کرکٹ میں تواتر سے کرتے آئے ہیں۔

بائیں ہاتھ سے بیٹنگ کرنے والے ڈیوڈ ملر ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں جنوبی افریقہ کی طرف سے سب سے زیادہ رنز بنانے والے بیٹسمین ہیں۔ وہ ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں چھکوں کی سنچری مکمل کرنے والے پہلے جنوبی افریقی بیٹسمین کے اعزاز کے بھی قریب ہیں۔

ڈیوڈ ملر کو دنیا 35 گیندوں کی سنچری کی وجہ سے یاد رکھتی ہے جو انھوں نے سنہ 2017 میں بنگلہ دیش کے خلاف سکور کی تھی جو ُاس وقت ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کی تیز ترین سنچری تھی۔

ڈیوڈ ملر کے اُس ریکارڈ کو صرف دو ماہ بعد انڈیا کے روہت شرما نے برابر کیا تھا اور پھر سنہ 2019 میں چیک ری پبلک کے وکرما سیکرا نے بھی ترکی کے خلاف اس ریکارڈ کی برابری کر لی تھی۔

ڈیوڈ ملر کی ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں دوسری سنچری بھی ان کے مخصوص جارحانہ انداز کی عکاسی کرتی ہے۔ گوہاٹی میں اگرچہ وہ انڈیا کے خلاف اپنی ٹیم کو جیت دلانے سے کچھ دور ہی رہ گئے لیکن 7 چھکوں اور 8 چوکوں کی مدد سے صرف 47 گیندوں پر بنائے گئی 106 رنز کی اننگز نے شائقین کو بہترین تفریح فراہم کی۔

فرنچائز کرکٹ ہو یا انٹرنیشنل کرکٹ، ڈیوڈ ملر کو ایک ہی انداز اور سوچ کے ساتھ بیٹنگ کرنا آتی ہے۔ اس سال آئی پی ایل میں ان کے بنائے گئے 481 رنز نے گجرات ٹائٹینز کو چیمپیئن بنوانے میں اتنا ہی اہم کردار ادا کیا جتنا ہاردک پانڈیا اور شبمان گل کا رہا تھا۔

ڈیوڈ ملر کو ایک خاص واقعے کی وجہ سے بھی یاد رکھا جاتا ہے۔ سنہ 2015 کی آئی پی ایل میں ان کے چھکے سے گیند ایڈن گارڈنز کولکتہ میں ڈیوٹی دینے والے ایک پولیس اہلکار الوک ایش کی دائیں آنکھ پر لگی تھی جس سے ان کی بینائی ضائع ہو گئی تھی۔

حارث رؤف (پاکستان)

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں حصہ لینے والی پاکستانی ٹیم کے کھلاڑیوں میں حارث رؤف سے زیادہ اور کون پرجوش ہوگا؟ اس کی سادہ سی وجہ یہ ہے کہ وہ اسی سرزمین پر دوبارہ کھیلنے پہنچے ہیں جہاں پہلی بار کھیل کر وہ دنیا بھر کی نظروں میں آئے تھے۔

حارث رؤف لاہور قلندرز کی پراڈکٹ ہیں جس نے انھیں نہ صرف پاکستان سپر لیگ کھیلنے کا موقع فراہم کیا بلکہ آسٹریلیا میں گریڈ کرکٹ کھیلنے بھی بھیجا تھا جہاں انھیں بگ بیش میں کھیلنے کا موقع ملا اور وہ دیکھتے ہی دیکھتے سب کی توجہ کا مرکز بن گئے۔

حارث رؤف کو جنوبی افریقی فاسٹ بولر ڈیل سٹین کے متبادل کے طور پر میلبرن سٹارز نے اپنے سکواڈ میں شامل کیا تھا اور انھوں نے اپنے دوسرے ہی میچ میں ہوبارٹ ہریکینس کے پانچ بیٹسمین آؤٹ کر ڈالے۔

بگ بیش میں حارث رؤف کی ایک اور قابل ذکر کارکردگی سڈنی تھنڈرز کے خلاف میچ میں رہی تھی جس میں انھوں نے ہیٹ ٹرک کی تھی۔

حارث رؤف انٹرنیشنل کرکٹ میں بھی اچھی کارکردگی دکھانے میں کامیاب رہے ہیں اور اس وقت وہ پاکستانی پیس اٹیک کا اہم حصہ بن چکے ہیں۔

حارث رؤف جب سے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں آئے ہیں اس کے بعد سے ان سے زیادہ وکٹیں کسی دوسرے بولر نے حاصل نہیں کی۔

یہ بھی پڑھیے

مبصرین اور تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ حارث رؤف کو آسٹریلوی وکٹوں اور کنڈیشنز کا بخوبی اندازہ ہے اور وہ اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔

گلین فلپس (نیوزی لینڈ )

25 سال کے گلین فلپس جنوبی افریقہ میں پیدا ہوئے لیکن وہ اس وقت نیوزی لینڈ کی ٹی ٹوئنٹی ٹیم کا اہم حصہ ہیں۔

فلپس اگرچہ پانچ سال سے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کھیل رہے ہیں لیکن گذشتہ دو سال کے دوران ان کی صلاحیتیں کھل کر سامنے آئی ہیں۔

سنہ 2020 میں ویسٹ انڈیز کے خلاف 51 گیندوں پر 108 رنز کی اننگز اس کی ابتدا تھی جس میں 10 چوکے اور 8 چھکے شامل تھے۔

دو ماہ قبل ویسٹ انڈیز ہی کے خلاف انھوں نے 41 گیندوں پر 76 رنز کی ایک اور جارحانہ اننگز کھیلی جس میں 4 چوکے اور 6 چھکے شامل تھے۔

گلین فلپس کیریبیئن لیگ، آئی پی ایل، دی ہنڈریڈ اور انگلینڈ میں ٹی ٹوئنٹی بلاسٹ کھیل چکے ہیں۔ کیریبیئن لیگ میں وہ زیادہ کامیاب رہے ہیں جس میں وہ ایک سنچری اور دس نصف سنچریاں بنا چکے ہیں۔

فلپس نے دو سال سے اپنی جارحانہ بیٹنگ کی جھلک انگلینڈ کے ٹی ٹوئنٹی بلاسٹ میں بھی دکھائی۔ گلوسٹر شائر کی نمائندگی کرتے ہوئے وہ گذشتہ سال 36 چھکوں کے ساتھ سرفہرست رہے تھے۔ ان کے بنائے گئے رنز 500 تھے۔ اس سال انھوں نے چار نصف سنچریوں کی مدد سے 340 رنز بنائے جن میں 17 چھکے شامل تھے۔

گلین فلپس تمام ٹی ٹوئنٹی میچوں میں اب تک 268 چھکے مار چکے ہیں جن میں سے 50 چھکے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں ہیں۔

جوز بٹلر (انگلینڈ)

یہ پاکستانی شائقین کی بدقسمتی رہی کہ وہ پاکستان انگلینڈ ٹی ٹوئنٹی سیریز میں جوز بٹلر کی بیٹنگ دیکھنے سے محروم رہے جو یقینی طور پر ان کے لیے بہترین تفریح ثابت ہوتی۔

جوز بٹلر اگرچہ ٹیم کے ساتھ تھے لیکن انھوں نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کو ذہن میں رکھتے ہوئے سات میں سے کسی ایک میچ میں بھی کھیلنے کا رسک نہیں لیا۔ اب سب کو اس بات کا انتظار ہے کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بٹلر کی کارکردگی کیسی رہتی ہے؟

جوز بٹلر کے بارے میں عام رائے یہی ہے کہ وہ مختصر دورانیے کی کرکٹ میں عصر حاضر کے سب سے خطرناک بیٹسمین ہیں۔ ان کے پاس سٹروکس کھیلنے کا وافر ذخیرہ موجود ہے جسے وہ وکٹ کی ہر جانب خوبصورتی سے استعمال کرتے ہیں۔

اس سال آئی پی ایل میں جوز بٹلر کی بیٹنگ بھلا کون بھول سکتا ہے جس میں انھوں نے راجستھان رائلز کی طرف سے کھیلتے ہوئے 17 میچوں میں 4 سنچریوں اور 4 نصف سنچریوں کی مدد سے 863 رنز بنائے تھے۔ پورے ٹورنامنٹ میں انھوں نے 45 چھکے اور 83 چوکے لگائے تھے۔

جوز بٹلر سنہ 2019 کا عالمی کپ جیتنے والی ٹیم میں شامل تھے۔ فائنل میں ان کی نصف سنچری سے زیادہ ان کا وہ رن آؤٹ یاد رکھا جاتا ہے جس نے انگلینڈ کو سپر اوور میں ڈرامائی جیت سے ہمکنار کیا تھا۔

اس سال اوئن مورگن کی ریٹائرمنٹ کے بعد جوز بٹلر کو ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی ٹیم کی قیادت سونپی گئی۔ بٹلر ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں سب سے زیادہ رنز کے اوئن مورگن کے انگلینڈ کے ریکارڈ کو اپنے نام کرنے کے قریب ہیں۔

وکٹ کیپنگ بٹلر کی اضافی خصوصیت ہے جس نے اعداد و شمار کے لحاظ سے انھیں ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں انگلینڈ کا سب سے کامیاب وکٹ کیپر بنا دیا ہے۔