پاکستان بمقابلہ نیوزی لینڈ: واہموں میں الجھی بیٹنگ لائن، سمیع چوہدری کا کالم

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, سمیع چوہدری
- عہدہ, کرکٹ تجزیہ کار
جب حکمتِ عملی محض یکطرفہ ہو اور تصورات اذہان پہ یکسر واضح نہ ہوں تو روزمرہ کی کیفیات کو بھی واہموں میں بدلتے دیر نہیں لگتی اور پھر یہ واہمے تمام تر قابلیتوں اور صلاحیتوں کو پچھاڑ کر المیے پیدا کر دیتے ہیں۔
اگر پاکستان کی بیٹنگ لائن سپن کے سامنے ڈھیر ہو جائے تو یہ تحیر کی بات ہو گی۔ لیکن اگر سپنر بھی مائیکل بریسویل جیسے جز وقتی ہوں تو یہ انہدام کسی المیے سے کم نہیں۔ یہاں پاکستان کی بیٹنگ لائن واہموں میں الجھی، المیوں کا تعاقب کرتی نظر آئی۔
جب رمیز راجہ نے کیوی کرکٹ بورڈ کو اس ٹرائی سیریز کا خیال پیش کیا تھا تو تسمانین کنڈیشنز میں ورلڈ کپ کی تیاری ان کے پیشِ نظر تھی۔ تب بھلا یہ کس کے گمان میں تھا کہ کرائسٹ چرچ کی پچ بھی ابوظہبی کی پچ جیسا رویہ اختیار کر لے گی اور ورلڈ کپ کی تیاری کی یہ ساری مشق ایک طرح سے بے سود ہو کر رہ جائے گی۔
ابھی تک اس سیریز میں کھیلے گئے پانچوں میچز میں سکورنگ کی شرح کسی بھی لحاظ سے ان کنڈیشنز سے مطابقت نہیں رکھتی جو ورلڈ کپ کے دوران ٹیموں کو درپیش ہوں گی۔ ایسے میں اس سیریز کو ورلڈ کپ کی تیاری سے تعبیر کرنا بالکل بے جا ہو گا۔
نہ تو اس پچ میں کرائسٹ چرچ جیسا روایتی باؤنس تھا اور نہ ہی گیند کھل کر بلے پہ آ رہی تھی۔ بابر اعظم اگرچہ ٹاس کے وقت فیصلہ کرتے ہوئے اس امر کو بھانپ نہ پائے مگر ولیمسن بہت جلد اس وکٹ کا مزاج جان گئے اور پاور پلے کے عین اوائل میں ہی سپنرز کو اٹیک میں لے آئے۔
مچل سینٹنر نے چھٹی سے واپس آتے ہی پاکستانی بلے بازوں کے لیے عرصۂ حیات تنگ کر دیا۔ بلے بازوں کے ذہن کو پڑھ کر انھوں نے ایسی لائن و لینتھ اختیار کی جس نے محض تشکیک اور واہموں کو ہوا دی۔ وکٹ میں بہت زیادہ ٹرن نہیں تھا مگر باؤنس کی کمی اور سپنرز کی ڈرفٹ نے بابر اعظم جیسے یکتائے روزگار کھلاڑی کو بھی بےبس کر چھوڑا۔
شاید انھی واہموں کا اثر تھا کہ بابر اعظم کی کپتانی بھی عمومی فہم کو فراموش کر بیٹھی اور جہاں ولیمسن نے سپن کے 13 اوورز کی بدولت پاکستانی اننگز کو جائے رفتن نہ پائے ماندن کی عملی تصویر بنائے رکھا، وہاں بابر اعظم نے پاور پلے میں کسی بھی سپنر کو آزمانے سے گریز کیا۔
یہ احتراز کیوں برتا گیا؟ اس کی کوئی قابلِ فہم توجیہہ تاحال سامنے نہیں آ سکی کیونکہ ابھی تو یہ ڈریسنگ روم اسی احساسِ زیاں میں گم ہے کہ کیوی سرزمین پہ ٹی ٹونٹی کی تاریخ میں پہلی بار پوری اننگز بغیر کسی چھکے کے ختم ہو جانے کا ریکارڈ ان کے نصیب کیونکر ہو گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یہ مروّجہ کرکٹنگ حقیقت ہے کہ جہاں وکٹ میں سپنرز کے لیے ٹرن نہ ہو مگر گرفت ہو اور ڈرفٹ مل رہی ہو، وہاں سپنرز کے لیے سب سے موثر نئی گیند کے ساتھ بولنگ کرنا ہوتا ہے۔ اگرچہ اس مجموعے پہ کیوی بیٹنگ لائن کے سامنے جیت کی امید محض دیوانے کا خواب تھا مگر ایسے مواقع پہ بولنگ کپتان شکست و فتح سے بے نیاز ہو کر، اپنی لگی بندھی روٹین سے ہٹ کر، تجربات کو ترجیح دیتے ہیں اور بسا اوقات اتفاقات کی بدولت ہی میچ میں کچھ دلچسپی پیدا کر جاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
وہ تو بھلا ہو فِن ایلن کا کہ خود ہی کریز سے باہر نکل کر پاکستان کو ایک کامیابی دے دی ورنہ جس ڈگر پہ کیوی اوپنرز چل رہے تھے، بعید نہیں تھا کہ دس وکٹوں کی شکستِ فاش بابر کی ٹیم کا مقدر ہوتی اور ورلڈ کپ سے عین پہلے اس طرح کی اعتماد شکن ناکامی سے بڑی بدشگونی بھلا کیا ہوتی؟
پاکستان کے پاس محمد نواز اور شاداب خان کی شکل میں دو ورلڈ کلاس سپنرز موجود تھے اور اس میں دو رائے نہیں کہ پاور پلے میں لیگ سپن کو آزمانا بہت بڑے جُوے کے مترادف ہوتا ہے مگر یہاں بابر اعظم محمد نواز اور افتخار احمد کو بخوبی استعمال میں لا سکتے تھے۔
پیسرز کے ہاتھ سے نئی گیند بہت کھل کر بلے پہ آتی ہے اور اگر فِن ایلن جیسے بلے باز کے ہاتھ کھلے ہوئے ہوں تو نسیم شاہ اور ڈاہانی کی برق رفتاری الٹا گلے پڑ جایا کرتی ہے۔ ایسے حقیر ہدف پہ اگر شروع کے پانچ اوورز ہی بیٹنگ لائن کے حق میں چلے جائیں تو باقی ماندہ اننگز بالکل بے معنی سی ہو جاتی ہے۔
پاکستان کی اس ٹیم کی بنیادی قوت اس کا بولنگ اٹیک ہے اور اس کی بیشتر کامیابیاں بھی اسی بولنگ اٹیک اور ٹاپ آرڈر بیٹنگ کی مرہونِ منت رہی ہیں۔ اور اگر بابر اعظم یہاں اپنے بولنگ وسائل کا درست استعمال کر پاتے تو میچ بھلے پاکستان کے حق میں نہ جاتا، مارجن بہرحال کم ہو سکتا تھا۔












