سہ فریقی ٹی ٹوئنٹی سیریز: پاکستانی بلے باز سپن کے جال میں پھنس گئے، نیوزی لینڈ 9 وکٹوں سے فاتح

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
نیوزی لینڈ نے اپنے سپنرز کی شاندار کارکردگی کے نتیجے میں پاکستان کو سہ فریقی ٹی ٹوئنٹی سیریز کے چوتھے میچ میں 9 وکٹوں سے شکست دیدی ہے۔ یہ اس سیریز میں پاکستانی ٹیم کی پہلی شکست اور نیوزی لینڈ کی دوسری کامیابی ہے۔
پاکستانی ٹیم ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 7 وکٹوں کے نقصان پر صرف 130 رنز تک پہنچ پائی۔
پاکستانی اننگز کی سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ اس میں ایک بھی چھکا شامل نہیں تھا۔ آخری بار پاکستانی ٹیم نے سنہ 2014 میں دبئی میں آسٹریلیا کے خلاف جو ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کھیلا تھا اس میں کوئی چھکا شامل نہیں تھا۔
جواب میں نیوزی لینڈ نے اوپنرز ڈیون کانوے اور فن ایلن کی 117رنز کی اوپننگ پارٹنر شپ کے ذریعے صرف ایک وکٹ کے نقصان پر 17ویں اوور میں ہدف عبور کر لیا۔
نیوزی لینڈ کا خطرناک سپن جال
بابر اعظم اور محمد رضوان نے اننگز شروع کی تو ان کے سامنے ٹرینٹ بولٹ موجود نہ تھے۔

،تصویر کا ذریعہPCB
ٹم ساؤتھی اور مچل سینٹنر کے پہلے دو اوورز میں 20 رنز کے حوصلہ افزا آغاز کے بعد پاکستانی ٹیم نے محمد رضوان کی شکل میں پہلی وکٹ 30 کے سکور پر گنوائی جو آف سپنر مائیکل بریسویل کی گیند پر جمی نیشم کو کیچ دے گئے۔
پاکستان نے پاور پلے کے چھ اوورز میں ایک وکٹ کے نقصان پر 42 رنز بنائے۔ نیوزی لینڈ کو ساتویں اوور میں شان مسعود کی وکٹ بھی مل جاتی لیکن لیگ سپنر اش سوڈھی کی گیند پر مارک چیپمین کیچ لینے میں ناکام رہے۔
تاہم نیوزی لینڈ کو زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑا اور ٹیم میں واپس آنے والے لیفٹ آرم سپنر مچل سینٹنر کی گیند پر بریسویل نے کیچ لے کر شان مسعود کے کھاتے میں ایک اور مایوس کن اننگز کا اضافہ کر دیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
چوتھے نمبر پر بیٹنگ کے لیے آنے والے شاداب خان کے مقدر میں اس بار کامیابی نہیں لکھی تھی۔ سینٹنر نے لانگ آن پر ٹم ساؤتھی کے کیچ کی مدد سے ایک اور اہم وکٹ حاصل کر ڈالی۔
پاکستان کے لیے سب سے بڑا دھچکہ کپتان بابر اعظم کی وکٹ تھی جو 21 رنز بنا کر مائیکل بریسویل کی گیند پر وکٹ کیپر کانوے کے ہاتھوں کیچ ہو گئے۔ پاکستان کی چوتھی وکٹ صرف 65 کے سکور پر گری۔
رضوان کے بعد بابر کے بھی آؤٹ ہونے کا مطلب یہ تھا کہ پاکستانی ٹیم نوشتہ دیوار پڑھ چکی تھی۔
اش سوڈھی کو پہلی کامیابی کے لیے اپنے آخری اوور تک انتظار کرنا پڑا جب انھوں نے حیدر علی کو لانگ آن پر ٹم ساؤتھی کے ہاتھوں کیچ کرا دیا۔

،تصویر کا ذریعہTWITTER/@BLACKCAPS
پانچویں وکٹ کے گرنے پر سکور بورڈ پر 77 کا ہندسہ پاکستانی بیٹنگ کی مکمل مایوسی بیان کر رہا تھا۔
کپتان کین ولیم سن کے چہرے پر اطمینان بلاوجہ نہیں تھا۔ جس طرح ان کے سپنرز نے بنگلہ دیش کو اپنے جال میں جکڑا تھا اس سے کہیں زیادہ مؤثر انداز میں وہ پاکستانی بیٹسمینوں کو قابو کرنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔
مائیکل بریسویل تینوں سپنرز میں سب سے زیادہ کامیاب رہے۔ انھوں نے اپنے 4 اوورز کا اختتام صرف 11 رنز کے عوض 2 وکٹوں کی متاثرکن کارکردگی پر کیا۔
بریسویل، سوڈھی اور سینٹنر کے 12 اوورز میں صرف 61 رنز بنے اور وہ 5 اہم وکٹیں لے کر پاکستانی بیٹنگ کی کمر توڑ گئے۔
یہ بات سب کے لیے حیران کن تھی کہ نیوزی لینڈ میں ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل ہو اور پہلی پانچ وکٹیں سپنرز حاصل کر جائیں۔
آصف علی اور افتخار احمد نے پانچ وکٹیں گرنے کے بعد 51 رنز کا اضافہ کیا لیکن کسی بھی موقع پر یہ دونوں بولنگ پر حاوی نظر نہیں آئے۔

،تصویر کا ذریعہPCB
افتخار احمد اننگز کے آخری اوور میں 27 رنز بنا کر ٹم ساؤتھی کی گیند پر تھرڈ مین پر ٹکنر کے ہاتھوں کیچ ہوئے۔ محمد نواز آئے اور گئے۔ پہلی ہی گیند پر ساؤتھی نے انھیں متبادل فیلڈر مارٹن گپٹل کے ہاتھوں کیچ کرا دیا۔
آصف علی 20 گیندوں کا سامنا کرتے ہوئے 25 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے۔ ایک سال قبل افغانستان کے خلاف چار چھکوں والی 27 رنز ناٹ آؤٹ کے بعد وہ 18 اننگز میں محض دوسری مرتبہ 25 رنز سکور کرنے میں کامیاب ہو سکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
اوپنرز کی سنچری پارٹنر شپ
میزبان ٹیم کو ہدف تک پہنچنے کے لیے جلد بازی کی قطعاً ضرورت نہیں تھی۔ فن ایلن اور ڈیون کانوے نے پاکستانی بولنگ کو سیٹ ہونے نہیں دیا۔ دونوں نے پاور پلے میں57 رنز کا اضافہ کیا۔
شاہنواز دھانی سب سے زیادہ نشانے پر رہے جن کی بولنگ پر فن ایلن نے تین چھکے لگائے۔ دوسری جانب کانوے بھی محمد وسیم سے کوئی رعایت برتنے کے لیے تیار نہیں تھے۔
نیوزی لینڈ نے پاکستانی اننگز کو سپنرز سے قابو کیا تھا لیکن پاکستانی ٹیم نے پاور پلے میں کسی سپنر کو لانے کی کوشش نہیں کی۔ نیوزی لینڈ نے تین ہندسوں تک تیزی سے قدم بڑھاتے ہوئے 11ویں اوور میں سنچری مکمل کی جس کے بعد محض رسمی کارروائی رہ گئی تھی۔

،تصویر کا ذریعہPCB
فن ایلن ایک چوکے اور چھ چھکوں کی مدد سے 62 رنز بنا کر شاداب خان کی گیند پر اسٹمپڈ ہوئے۔
ڈیون کانوے کی 49 رنز کی اننگز میں پانچ چوکے شامل تھے۔
یہ چوتھا موقع ہے کہ نیوزی لینڈ نے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچ 9 وکٹوں سے جیتا ہے۔ ان چار میں سے دو کامیابیاں پاکستان کے خلاف ہیں۔ اس سے قبل نیوزی لینڈ نے پاکستان کو سنہ 2020 میں ہملٹن میں 9 وکٹوں سے شکست دی تھی۔
نیوزی لینڈ کی ٹیم پاکستان کو ایک مرتبہ 10 وکٹوں سے بھی شکست دے چکی ہے۔
’پوری ٹیم ایک چھکا نہیں مار سکی‘
میچ کے آغاز میں ہی پاکستان کے بلے بازوں کی کارکردگی نے شائقین کو مایوس کر دیا جس کا اظہار سوشل میڈیا پر بھی کیا گیا جہاں مڈل آرڈر پر سوالات پہلے ہی گردش کر رہے ہیں۔
نعیم سیال نے لکھا کہ ’کب تک بیٹنگ کا بوجھ بابر اور رضوان اٹھاتے رہیں گے؟ مڈل آرڈر میں کیوں تبدیلی نہیں کر رہے۔ کیا پاکستان میں صرف یہی تین بیٹسمین رہ گئے ہیں جن کو بار بار چانس ملنے پر بھی پرفارمنس نہیں مل رہی۔ کیوں نئے ٹیلنٹ کو لیکر نہیں آ رہے؟‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 1
ایک صارف نے میچ میں پاکستان کی جانب سے ایک بھی چھکا نہ لگائے جانے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’ہماری پوری ٹیم سے میچ میں ایک چھکا نہیں لگ سکا جبکہ نیوزی لینڈ کی ٹیم کے ایک بلے باز نے پانچ چھکے لگائے۔‘
یہ تنقید بہت سے شائقین نے کی کیونکہ ٹی ٹونٹی میں چھکوں چوکوں ہی کی توقع کی جاتی ہے۔
تاہم دوسری جانب نیوزی لینڈ کے بلے بازوں نے جس رفتار سے بیٹنگ کا آغاز کیا اور جس آسانی سے گیند کو یکے بعد دیگرے باؤنڈری پار کروائی اس کے بعد عادل عثمان یہ لکھنے پر مجبور ہوئے کہ ’نیوزی لینڈ کا سکورنگ ریٹ دیکھ کر ایسا لگ رہا ہے جیسے پچ صرف پاکستان کے لیے سست تھی۔ اس ٹیم کی جیت کا دارومدار رضوان بابر کی کارکردگی پر ہوتا ہے۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 2
ایک اور صارف شاہد کاہلوں نے کپتانی پر اعتراض کیا کہ ’نیوزی لینڈ نے سپنرز کے ذریعے پاکستانی بلے بازوں کو قابو میں کیا لیکن پاکستان کے کپتان نے پہلے چھ اوور فاسٹ بولر سے کروائے۔‘












