سہ فریقی سیریز: ولیمسن کا خواب ادھورا ہی رہ گیا

،تصویر کا ذریعہPCB
- مصنف, سمیع چوہدری
- عہدہ, کرکٹ تجزیہ کار
پچھلے دو سال میں حارث رؤف نے 49 میچوں میں 62 وکٹیں حاصل کی ہیں اور ان کے ڈیبیو سے اب تک کوئی بھی فاسٹ بولر ٹی ٹونٹی انٹرنیشنلز میں اس قدر کامیاب ثابت نہیں ہوا۔ اور ان کی نمایاں کامیابی بھی میچ کے مشکل ترین مراحل یعنی ڈیتھ اوورز میں رہی ہے جہاں انھوں نے 43 اننگز میں 38 وکٹیں حاصل کی ہیں۔
کرائسٹ چرچ کی یہ شام بھی دراصل حارث رؤف کے نام ہی رہی جنھوں نے میچ کے انیسویں اوور میں پانسہ پلٹ دیا۔
کیوی اننگز شروع سے ہی الجھی الجھی نظر آ رہی تھی اور انیسویں اوور میں نیشم اور چیپمین کسی نہ کسی طرح اسے 160 کے مجموعے کے قریب پہنچانے کی تگ و دو میں تھے مگر حارث رؤف نے اوپر تلے تین وکٹیں گرا کر کیویز کے سارے ارمان چُور کر دیے۔
ماڈرن کرکٹ میں اگر کوئی کپتان ٹاس جیتتے ہی بیٹنگ کا فیصلہ کر لے تو یہ خاصی اچنبھے کی بات ہوتی ہے۔ بالخصوص جب میچ شام کے اوقات میں کھیلا جا رہا ہو اور اوس کا کردار بہت فیصلہ کن ہونے کا امکان ہو، وہاں ایسا فیصلہ کسی اندھے داؤ کے جیسا نظر آتا ہے۔
ولیمسن شاید اپنی بیٹنگ لائن پہ ضرورت سے کچھ زیادہ ہی اعتماد کر بیٹھے تھے کہ یہ فیصلہ کرتے وقت انھوں نے پاکستانی بولنگ اٹیک کی صلاحیتوں کو زیادہ درخورِ اعتنا نہ سمجھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
شاہین شاہ آفریدی کی انجری کے بعد حارث رؤف صحیح معنوں میں اس اٹیک کے لیڈر بن کر ابھرے ہیں اور یہاں انھوں نے ہی اننگز کا پہلا اوور ایسی نفاست سے پھینکا کہ کیوی اوپنرز اپنی روایتی جارحیت کا اظہار کرنے سے معذور ٹھہرے۔ نئی گیند کے سامنے اس وکٹ پہ ہاتھ کھولنا ویسے بھی بہت دشوار تھا۔
محمد وسیم نے پچھلے میچ میں جو مثالی ڈسپلن دکھایا تھا، یہاں بھی انھوں نے سلسلہ وہیں سے جوڑا جہاں سے منقطع ہوا تھا۔ کیوی بلے بازوں کے پاس ان کے ڈسپلن کا کوئی جواب نہ تھا۔ کیوی بلے باز مچلتے ہی رہ گئے کہ اننگز کے کسی مرحلے میں تو انہیں کھل کھیلنے کی سہولت حاصل ہو پائے۔
محمد نواز کے آخری اوور کے سوا سپنرز کے باقی ماندہ آٹھ اوورز میں ولیمسن اور ڈیون کانوئے یکسر بے بسی کی تصویر بنے نظر آئے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ بھی پڑھیے
کیوی اننگز کا بیشتر حصہ کسی سست رو قدیم ون ڈے کرکٹ میچ کا منظر پیش کرتا رہا۔
شاید ولیمسن کا گمان تھا کہ آخری چھ اوورز میں بازو کھول کر، وہ سکور بورڈ پہ ایک تگڑا مجموعہ جڑیں گے اور پھر اپنے پیس اٹیک کی مدد سے پاور پلے کے اوائل میں ہی پاکستان کی دو اہم ترین وکٹیں اڑا کر مڈل آرڈر کو امتحان میں ڈال دیں گے۔ محمد رضوان کی حد تک تو ان کی پلاننگ خوب ثمر آور رہی مگر جس لمحے اش سوڈھی اٹیک میں آئے تو چوتھے نمبر پہ آئے شاداب خان نے اپنی ٹریڈ مارک بیٹنگ سے ولیمسن کے سارے سپنے توڑ ڈالے۔

،تصویر کا ذریعہPCB
بابر اعظم پچھلے میچ میں اگرچہ بہت جلد دام میں آ گئے تھے مگر یہاں انھوں نے اننگز کے آغاز سے ہی باؤنڈری کو نشانے پہ رکھا اور اپنے سٹرائیک ریٹ سے اس لو سکورنگ مقابلے کی ساری سنسنی اڑا کر رکھ دی۔
جہاں انھوں نے شاداب اور نواز کو بیٹنگ آرڈر میں اوپر لا کر کیوی بولرز کے پلان چوپٹ کیے، وہیں انھوں نے اپنے جارحانہ سٹرائیک ریٹ کے باوجود یہ بھی یقینی بنایا کہ رضوان کی غیر موجودگی میں اننگز کو آخر تک لے چلیں اور ہر طرح کی انہونی کو خارج از امکان کر ڈالیں۔
اگر حارث رؤف کا انیسواں اوور اور بابر اعظم کی یہ ناقابلِ شکست اننگز حائل نہ ہوتی تو شاید ولیمسن کے سپنے سچ ہو جاتے مگر بابر اعظم کی اس کاوش سے ولیمسن کا خواب ادھورا ہی رہ گیا۔











