صائم ایوب جن کی بیٹنگ کا موازنہ سعید انور سے کیا جا رہا ہے

@SaimAyub7

،تصویر کا ذریعہ@SaimAyub7

    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

کرکٹ کے میدان اگر پاکستان اور انگلینڈ کی 17 برس کے طویل عرصے کے بعد ہونے والی سیریز سے رنگ جمانے کے لیے تیار ہو رہے ہوں تو ایسے میں بھلا کسی دوسری بات پر کوئی کیوں توجہ دے گا؟

گذشتہ رات سے شائقینِ کرکٹ ایک نوجوان بیٹسمین کے بارے میں بات کر رہے ہیں اور پوچھ رہے ہیں کہ آخر یہ صائم ایوب کون ہیں؟

بائیں ہاتھ سے بیٹنگ کرنے والے صائم ایوب نے منگل کی شب اختتام کو پہنچنے والے قومی ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ میں قابل ذکر کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اخبارات کی شہ سرخیوں میں جگہ بنائی ہے۔

انھوں نے اس ٹورنامنٹ کی 12 اننگز میں 35 کی اوسط سے 416 رنز بنائے ہیں، اُن کا سٹرائیک ریٹ 155 رہا اور انھوں نے دو نصف سنچریاں بھی سکور کیں جن میں سب سے بڑا انفرادی سکور 92 ہے۔ یہ کارکردگی انھیں پلیئر آف دی ٹورنامنٹ بنا گئی لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس کارکردگی نے سندھ کی ٹیم کو فاتح بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ صائم ایوب اس ٹورنامنٹ کے لیے تشکیل پانے والی سندھ کی ٹیم میں شامل نہیں تھے لیکن احسان علی کے ان فٹ ہو جانے کی وجہ سے انھیں ٹیم میں شامل کیا گیا تھا۔

MOHD MASROOR

،تصویر کا ذریعہMOHD MASROOR

کراچی سے تعلق رکھنے والے بیشتر کرکٹرز کی طرح صائم ایوب کے ابتدائی کریئر پر بھی کوچ محمد مسرور کی محنت اور توجہ نظر آتی ہے۔

یہ ان دنوں کی بات ہے کہ جب صائم ایوب سکول میں کرکٹ کھیلنے کے ساتھ ساتھ باب وولمر کرکٹ کلب کی طرف سے کھیلتے تھے اور اصغر علی شاہ کرکٹ سٹیڈیم میں ہونے والے انڈر 16 میچ میں انھیں کھیلتا دیکھ کر محمد مسرور نے انھیں کراچی کی انڈر 16 ٹیم میں منتخب کیا تھا۔

صائم ایوب نے قومی انڈر 16 کے فائنل میں نصف سنچری بنائی تھی۔ ان کے سامنے جو بولرز تھے ان میں سے ایک فاسٹ بولر نسیم شاہ بھی تھے۔

یہ بھی پڑھیے

بیس سالہ صائم ایوب کی سب سے شاندار کارکردگی 2017 میں پاکستان انڈر 16 ٹیم کے ساتھ آسٹریلیا کے دورے کے دوران رہی تھی جب آخری میچ میں پاکستانی ٹیم کو جیتنے کے لیے 265 رنز کا ہدف ملا تھا اور محمد صائم نے 160 رنز کی شاندار اننگز کھیل کر پاکستانی ٹیم کو فتح دلا دی تھی۔

صائم ایوب کے ٹیلنٹ کو دیکھ کر پاکستان کرکٹ کلب نے انھیں اپنی ٹیم میں شامل کیا اور ساتھ ساتھ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے سکواڈ میں بھی انھیں جگہ دی گئی تاہم پی ایس ایل کے سات میچوں میں وہ کوئی قابل ذکر کارکردگی نہیں دکھا سکے تھے۔

صائم ایوب دو سال پاکستان کی انڈر 19 ٹیم کا حصہ رہے ہیں لیکن ان کی بدقسمتی تھی کہ عمدہ کارکردگی کے باوجود وہ جنوبی افریقہ میں منعقدہ انڈر 19 ورلڈ کپ کے لیے پاکستانی ٹیم میں سلیکٹ نہیں ہو سکے تھے۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 1

سوشل میڈیا پر صائم اور سعید انور ساتھ ساتھ

صائم ایوب چونکہ بائیں ہاتھ سے جارحانہ بیٹنگ کرتے ہیں اس لیے ہر کوئی ان میں ماضی کے نامور بیٹسمین سعید انور کی جھلک دیکھ رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سوشل میڈیا پر اسی بات پر دلچسپ تبصرے ہو رہے ہیں۔

ایک صارف وقاص علوی نے لکھا ہے ’صائم ایوب کو ابھرتے ہوئے اور سعید انور اور ڈیوڈ وارنر کے انداز میں کھیلتے ہوئے دیکھنا اچھا لگا۔ اگر وہ اسی طرح کھیلتے رہے تو قومی ٹیم سے انھیں باہر رہنا مشکل ہو گا۔ اس کا کریڈٹ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو جاتا ہے۔‘

X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 2

ایک صارف معظم کا کہنا ہے کہ کلاسی اوپنر نے مجھے سعید انور کی یاد دلا دی۔

تجزیہ کار ریحان الحق لکھتے ہیں ʹصائم کی ایک اور اچھی اننگز۔ میں جب بھی صائم کو بیٹنگ کرتا دیکھتا ہوں مجھے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے نبیل ہاشمی کی یہ بات یاد آ جاتی ہے کہ دادا دیکھنا یہ لڑکا بہت بڑا پلیئر بنے گا۔ ساری دنیا دیکھے گی۔‘