آصف علی اور افغان بولر میں گرماگرمی جس نے شائقین اور سوشل میڈیا کو اپنی لپیٹ میں لیا

گذشتہ رات پاکستان اور افغانستان کے درمیان میچ کے اختتامی اوورز کسی بھی مداح کے لیے خاصے اعصاب شکن ہوتے اور اس کا اظہار سنجے منجریکر نے اپنی ٹویٹ میں بھی کیا کہ ’شاید یہ اُن کی کمنٹری کے کریئر کے بہترین میچوں‘ میں سے ایک تھا۔

تاہم ان اوورز میں گرما گرمی اُس وقت عروج پر پہنچ گئی جب افغان بولر فرید احمد نے پاکستانی بلے باز آصف علی کو آؤٹ کیا اور بات ان کے درمیان تلخ کلامی تک جا پہنچی۔ اور پھر میچ کے اختتام پر پاکستانی کھلاڑیوں کا ’جذباتی انداز‘ یقیناً اُس تلخ کلامی کا جواب تھا۔

وہ میچ کا ایک اہم موڑ تھا۔ پاکستان کو جیت کے لیے آٹھ گیندوں پر 12 رنز درکار تھے۔ آصف علی، جو اس سے پہلے بھی آخری گیندوں پر چھکوں کی مدد سے پاکستان کو جتا چکے ہیں، فرید کو مڈ وکٹ کے اوپر سے ایک چھکا مار چکے تھے۔

لیکن فرید نے حاضر دماغی کا مظاہرہ کرتے ہوئے شارٹ گیند کروائی اور آصف شارٹ فائن لیگ کو کیچ دے بیٹھے۔

فرید جذبات میں جشن مناتے ہوئے آصف علی کے پاس گئے جو اس وقت رن لینے کی کوشش میں کریز پر آگے تک پہنچ چکے تھے۔ دونوں ایک دوسرے کے کافی قریب تھے جب فرید نے جشن منانے کی کوشش اور آصف کے قریب بازو ہوا میں لہرایا۔

اس دوران انھوں نے کیا کہا یہ تو وہ دونوں ہی بہتر جانتے ہیں لیکن آصف نے پہلے بازو اُن کی جانب بڑھایا اور لفظی تکرار کے دوران اپنا بلا بھی گھمایا۔

تاہم جو بھی کہا گیا ہو آئی سی سی کے میچ ریفری اینڈی پائیکرافٹ نے پاکستان کے آصف علی اور افغانستان کے فرید احمد پر آئی سی سی کے ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی پر میچ فیس کا پچیس پچیس فیصد جرمانہ عائد کیا ہے۔

بدھ کو جب دونوں کھلاڑی آپس میں الجھ پڑے تھے تو دوسرے کھلاڑیوں اور امپائر نے بیچ بچاؤ کروایا تھا اور پاکستانی بولر حسن علی بھی افغان کھلاڑی کو سمجھاتے نظر آئے تھے۔

حیران کُن بات یہ ہے کہ اس وقت تک میچ ایک اچھے سپرٹ میں کھیلا جا رہا تھا۔ حارث رؤف اور محمد راشد خان سے مسکراتے ہوئے باتیں کرتے دکھائی دیے۔

لیکن اب میچ ایک سنسنی خیز موڑ پر تھا۔ آصف علی کے آؤٹ ہونے کے بعد پاکستان کے نو کھلاڑی آوٹ ہو چکے تھے اور اب کریز پر نوجوان نسیم شاہ موجود تھے جو یہ سب دیکھ اور سُن چکے تھے۔

اگلے اوور کی پہلی دو گیندوں پر دو چھکے مار کر انھوں نے پاکستان کو فتح سے ہمکنار تو کروایا ہی لیکن ساتھ ہی جس انداز میں جشن منایا اس میں جذبات اور شاید افغان کھلاڑی سے تلخ کلامی کا جواب بھی موجود تھا۔

نسیم شاہ ہی نہیں آصف علی سمیت پاکستانی ٹیم کے متعدد کھلاڑی گراؤنڈ میں آ کر نسیم کا ساتھ دیتے دکھائی دیے۔

ایک صارف نے لکھا کہ حسن علی جس طرح سے میدان میں دوڑتے ہوئے آئے اس سے پاکستان ٹیم میں اتحاد کی خوبصورتی نظر آئی۔

شارجہ کے گراؤنڈ میں ہی یہ بات ختم ہو جاتی تو بہتر تھا، لیکن اس کے بعد پہلے یہ تماشائیوں کے سٹینڈز تک پہنچی جہاں بظاہر افغان مداحوں کو سیٹیں اکھاڑتے دیکھا جا سکتا ہے اور انھیں پاکستانی مداحوں کی جانب اچھالتے بھی۔

یہی گرما گرمی سوشل میڈیا پر بھی دیکھنے کو مل رہی ہے جہاں ایک جانب پاکستانی صارفین افغان کھلاڑی اور شائقین کے رویے کی شکایت کرتے نظر آئے تو دوسری جانب ’بین آصف علی‘ یعنی آصف علی پر پابندی عائد کرنے جیسا ٹرینڈ بھی چلا جس میں کچھ افغان کھلاڑیوں کی جانب سے بھی ٹویٹ کیے گئے۔

فخر عالم نے ٹویٹر پر لکھا کہ ’افغان کرکٹ شائقین کا رویہ مایوس کُن ہے۔ آئی سی سی کو یقینی بنانا چاہیے کہ تمام سٹیڈیم محفوظ ہوں۔ امید ہے کہ مقامی حکام ان افراد کے خلاف کارروائی کریں گے۔‘

متحدہ عرب امارات کی جانب سے بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ اس میچ کے بعد سٹیڈیم میں ہنگامہ آرائی کا جائزہ لے رہے ہیں۔

دوسری جانب افغان کھلاڑی آفتاب عالم نے ٹویٹر پر لکھا کہ ’امید ہے کہ آئی سی سی آصف علی پر پابندی لگائے گی کیونکہ اُن کی جانب سے ایسا دوسری بار کیا گیا ہے۔‘

یاد رہے کہ آئی سی سی ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ میں بھی آصف علی نے افغانستان کے خلاف چھکوں سے میچ جتوایا تھا۔

آئی سی سی اس واقعے پر کیا کارروائی کرتا ہے، اس پر آج میچ امپائرز کی جانب سے فیصلہ متوقع ہے۔

لیکن افغانستان پاکستان میچوں میں عام طور پر سوشل میڈیا پر اس قسم کی گرما گرمی تو دیکھی جاتی ہے لیکن گراؤنڈ میں دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں کے درمیان باہمی احترام کا مظاہرہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ اس کی وجہ متعدد افغان کھلاڑیوں کی پی ایس ایل میں شرکت بھی ہے۔

ایسے میں چند لوگوں نے اس گرما گرمی کو پاکستان اور افغانستان کے درمیان تاریخی تنازعات کی روشنی میں دیکھا تو کسی نے یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ کھیل کو کھیل ہی رہنے دیں تو بہتر ہے۔

معاملہ شارجہ تک ہی محدود نہیں رہا بلکہ پاکستان میں بھی ایسے واقعات ہوئے جو اس میچ سے ہی جڑے تھے۔

افراح مسکان نے لکھا کہ کہ وہ اپنی دوست کے ساتھ اسلام آباد کے ایک ریسٹورنٹ میں میچ دیکھ رہی تھیں جہاں پاکستانیوں کی جانب سے جیت کے جشن پر وہاں موجود افغان شائقین کے ساتھ جھڑپ ہو گئی۔