آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ایشیا کپ میں افغانستان بمقابلہ سری لنکا: سری لنکا سے چار وکٹوں سے شکست کے بعد سپر فور مرحلے میں افغانستان کے کیا امکانات ہیں؟
- مصنف, حمید شجاع
- عہدہ, بی بی سی، لندن
ایشیا کپ کے سوپر فور مرحلے کے پہلے میچ میں سری لنکا نے افغانستان کو ایک دلچسپ مقابلے کے بعد چار وکٹوں سے شکست دے کر راؤنڈ میں اپنی پہلی فتح ریکارڈ کروا دی۔
خیال رہے کہ ایشیا کپ کے گروپ سٹیج میں بھی دونوں ٹیمیں آمنے سامنے آئی تھیں اور افغانستان نے وہ میچ یکطرفہ مقابلے کے بعد بڑے مارجن سے جیتا تھا۔
آج پھر افغانستان کے اوپنر رحمان اللہ گرباز کی جانب سے بہترین بیٹنگ دیکھنے کو ملی اور انھوں نے آغاز میں ایک چانس ملنے کے بعد جارحانہ انداز اپنائے رکھا اور چھ چھکوں اور چار چوکوں کی مدد سے 84 رنز کی عمدہ اننگز کھیلی۔
ان کا ساتھ تیسرے نمبر پر بیٹنگ کرنے والے ابراہیم زدران نے دیا جنھوں نے 38 گیندوں پر 40 رنز بنائے۔ تاہم افغانستان کی ٹیم اس بہترین آغاز کا فائدہ آخری پانچ اوورز میں اٹھانے سے قاصر رہی اور صرف 37 رنز ہی بنا سکی۔
اس دوران سری لنکا نے نہ صرف رحمان اللہ اور ابراہیم کی وکٹ حاصل کر کے مومنٹم توڑا، بلکہ مزید تین کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھا کر افغانستان کو 190 کے سکور کے قریب نہیں جانے دیا۔ افغان ٹیم چھ وکٹوں کے نقصان پر 175 رنز ہی بنا سکی۔
اس ٹورنامنٹ میں افغانستان کی بولنگ کے خاصے چرچے رہے ہیں جو آج خاصی مرجھائی ہوئی تھی، افغانستان کے تمام ہی بولرز وہ کاکردگی نہ دکھا پائے جو وہ گذشتہ دو میچوں سے دکھاتے آئے ہیں۔
ادھر سری لنکا کے بلے باز تو جیسے موقع کی تلاش میں تھے۔ انھوں نے شروعات سے ہی جارحانہ انداز اپنائے رکھا اور کسال مینڈس اور نسانکا کی اوپننگ جوڑی نے سری لنکا کو 62 رنز کا عمدہ آغاز دیا۔
گناتھلکا اور راجہ پکشے نے بھی اس بات کو یقینی بنایا کے کسی بھی صورت رن ریٹ ٹیم پر حاوی نہ ہونے پائے اور یوں سری لنکا نے 175 رنز کا تعاقب باآسانی آخری اوور کی پہلی گیند پر حاصل کر لیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سری لنکا کی جیت کے باوجود شاندار اننگز کھیلنے پر پلیئر آف دی میچ کا ایوارڈ رحمان اللہ گرباز کو دیا گیا۔
افغانستان کے سری لنکا سے یہ میچ جیتنا کیوں اہم تھا؟
افغانستان کے لیے سری لنکا کے خلاف میچ جیتنا اس لیے بھی ضروری تھا کیونکہ ان کے اگلے دو میچ پاکستان اور انڈیا جیسی نسبتاً مضبوط ٹیموں کے خلاف ہیں۔
ایک اور نکتہ جو بلاشبہ دوسرے راؤنڈ میں افغانستان کے حق میں نہیں وہ یہ ہے کہ ان کے پاس پاکستان اور انڈیا کے خلاف میچوں کے درمیان آرام کرنے کا وقت نہیں ہے، کیونکہ 7 ستمبر کو وہ پاکستان کے خلاف اور 8 تاریخ کو انڈیا کے خلاف میچ کھیلیں گے۔
افغانستان کے کرکٹ شائقین نے بھی آن لائن میڈیا پر اس پر احتجاج کیا ہے اور ’ایشیا کرکٹ فیڈریشن‘ کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے کہ انھوں نے افغان ٹیم کو دو سخت میچوں کے درمیان آرام اور تیاری کے لیے ایک دن بھی نہیں دیا۔
بولنگ افغانستان کی کامیابی کا راز ہو سکتی ہے
افغانستان نے پہلے راؤنڈ میں اپنے دونوں میچ اچھی بولنگ کی وجہ سے جیتے کیونکہ مجیب زدران، راشد خان، فضل فاروقی اور دیگر نے سری لنکا اور بنگلہ دیش کو بہت کم رنز سے آؤٹ کیا۔
بیٹنگ کے میدان میں افغانستان آج بھی اسی مسئلے سے دوچار ہے جس کا اسے برسوں سے سامنا ہے، یعنی اس کے بلے باز لگاتار میچز میں اچھے رنز نہیں بنا سکتے۔
ایک اور اہم بات یہ ہے کہ پہلے راؤنڈ کے میچوں میں افغانستان کے اہداف چھوٹے تھے اس لیے تمام کھلاڑیوں کو کھیلنے کا موقع نہیں ملا۔
اب دوسرے راؤنڈ میں افغانستان کے لیے پاکستان اور انڈیا جیسی ٹیموں سے بڑے فرق سے گیمز جیتنا آسان نہیں ہو گا کیونکہ دونوں ہی عالمی سطح پر مضبوط ٹیمیں ہیں اور پہلے راؤنڈ میں اچھا کھیل چکی ہیں۔
انڈین بلے باز راشد خان، محمد نبی اور مجیب کی بولنگ سے بھی کسی حد تک واقف ہیں، کیونکہ ’آئی پی ایل‘ میں انھوں نے ان کا بہت سامنا کیا ہے۔
تاہم اس نکتے کو افغانستان کے حق میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے کیونکہ یہ بولر انڈین بلے بازوں کی کمزوری سے باخبر بھی کہے جا سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
پاکستان اور افغانستان کا میچ قدرے مختلف ہوتا ہے، کیونکہ ماضی میں جب ان دونوں ٹیموں کا آمنا سامنا ہوا تو نہ صرف کھلاڑی بلکہ تماشائی بھی جذباتی ہو جاتے ہیں۔
ماضی میں پاکستان کے خلاف کھیلنے والی افغان ٹیم کے بارے میں ہی ایسا لگ رہا تھا کہ کھلاڑی قدرے جذباتی ہیں یا دوسرے لفظوں میں دباؤ کا شکار ہیں۔
اگر افغان ٹیم پاکستان کو ہرانا چاہتی ہے تو یہ بہت ضروری ہے کہ کم از کم کھلاڑی زیادہ جذباتی نہ ہوں بلکہ واضح منصوبہ بندی کے ساتھ اور دباؤ کے بغیر کھیلیں۔
خلاصہ یہ کہ افغانستان کے لیے دوسرے راؤنڈ میں سری لنکا کے خلاف پہلا میچ جیتنا بہت ضروری تھا کیونکہ یہ اس کے لیے فائنل میں پہنچنے کا آسان ترین موقع ہو سکتا تھا۔
فائنل میں پہنچنا افغانستان کی ٹیم اور افغان کرکٹ کے لیے ایک تاریخی اور ممکنہ طور پر تقدیر بدلنے والا لمحہ ہو سکتا ہے۔
دنیا ئے کرکٹ کے اکثر تجزیہ کار اس بات پر متفق ہیں کہ افغانستان کے پاس ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں خاصی مضبوط ٹیم ہے، لیکن وہ ہمیشہ اس بات پر اصرار کرتے ہیں کہ اب افغانوں کو (اگلے) مرحلے میں قدم رکھنا چاہیے۔
اگلے مرحلے کا مطلب دنیا کی مضبوط ترین ٹیموں کو شکست دینا اور بڑے مقابلوں کے فائنل یا آخری مراحل میں پہنچنا ہے۔ اگر ایسا ہے تو ایشیا کپ 2022 افغانستان کے لیے اپنے کھیل کو اچھے انداز میں پیش کرنے اور ایک مضبوط ٹیم کے طور پر سامنے آنے کا بہترین موقع ہے۔
اس امید پر کہ افغانستان کرکٹ کی دُنیا میں ترقی کرے اور افغانستان میں شائقین کرکٹ کا بھی انتظار ختم ہو اور وہ تاریخی دن دیکھیں جب افغان کرکٹ ٹیم کے کپتان کسی بڑے ایونٹ کی ٹرافی ہوا میں بلند کریں۔