ایشیا کپ میں انڈیا بمقابلہ پاکستان: یہ شکست، شکست سی لگتی نہیں ہے، سمیع چوہدری کا کالم

پاکستان

،تصویر کا ذریعہReuters

    • مصنف, سمیع چوہدری
    • عہدہ, کرکٹ تجزیہ کار

عجیب بات ہے کہ ہندسوں اور لفظوں کے بکھیڑے میں اسے محض ایک شکست ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔ بیچ میں کیا کیا موڑ آئے اور کہانی نے کب کب، کس کس ڈھب سے کروٹ بدلی، یہ سب بالآخر بے معنی سا رہ جاتا ہے کہ حاصلِ جمع تو بہر صورت شکست ہی ہے۔

مگر یہ کشمکش پھر بھی کسی جواب کی کھوج میں سرگرداں ہے کہ شکست ہونے کے باوجود بھی یہ شکست سی لگ کیوں نہیں رہی؟ کیونکہ ایسے تاریخی حریف سے ایسے نایاب مقابلے میں کسی بھی رنگ کی شکست قابلِ قبول نہیں ہے لیکن یہ کیسی ہار ہے کہ اس ہار میں بھی ایک عجیب تسلی سی ہے۔

ابھی ہفتہ بھر پہلے پاکستان کے سکواڈ میں ایک تشویش برپا تھی جب اچانک معلوم پڑا کہ شاہین شاہ آفریدی دستیاب نہ ہوں گے۔ اور پھر جب دو ہی روز پہلے یہ خبر کان پڑی کہ محمد وسیم کو بھی خارج از امکان ٹھہرا دیا گیا ہے تو گویا نزع کی سی کیفیت تھی۔

اور ایسے میں مڈل آرڈر کی ناپختگی بھلا کیسے کوئی تسلی دلا پاتی کہ پی سی بی اور پالیسیوں کا تسلسل دو یکسر متضاد کیفیات ہیں۔ ستم ظریفی ملاحظہ ہو کہ دو برس بیتنے کو ہیں مگر محمد حفیظ اور شعیب ملک کا کوئی متبادل تیار نہیں کیا جا سکا۔ حیدر علی کو بھی جو مواقع ملے، وہ تجربات کی ہی نذر ہوتے رہے کہ کبھی اوپننگ ہو تو کبھی مڈل آرڈر کی ذمہ داری۔

اور ابھی بھی عالم یہ تھا کہ جب سکواڈ کا اعلان ہوا تو ہمہ قسمی میڈیا یک زباں ہو کر شعیب ملک کی واپسی کے مطالبے دہرانے لگا۔ ستم ظریفی دیکھیے کہ پچھلے دو برس میں بورڈ کے چیئرمین، سی ای او اور سلیکٹر سے لے کر بولنگ کوچ و ہیڈ کوچ تک بدل کر دیکھ لیے، نہیں بدلا تو پاکستان کے مڈل آرڈر کا المیہ۔

پاکستان

،تصویر کا ذریعہReuters

اس ناتواں مڈل آرڈر کے ساتھ انڈیا جیسے مکمل بولنگ اٹیک کا سامنا کرنا کسی امتحاں سے کم نہ تھا۔ جس برق رفتاری سے ہاردک پانڈیا شارٹ پچ گیندیں پھینک رہے تھے، وہاں یہ سُجھانے کے لیے کسی ارسطو کی دانش درکار نہیں کہ شعیب ملک اور محمد حفیظ بھی سامنا کرتے تو لگ بھگ وہی کچھ کر پاتے جو اس نوآموز مڈل آرڈر نے کیا۔

وقار یونس نے بطور کوچ اپنی بیشتر کرکٹ عرب امارات میں کھیلی ہے اور وہ ان گنے چنے لوگوں میں سے ہیں جنھیں ان کنڈیشنز کی گہری شناسائی ہے۔ مگر آسٹریلوی کیوریٹر نے دبئی میں جو پچ بچھا رکھی تھی، اس پر تو وقار یونس بھی گڑبڑا گئے کہ یہاں تو پرتھ کا سا گماں ہوتا تھا۔ دبئی کی پچ پر کبھی اس قدر گھاس دیکھنے کو نہیں ملی جیسی افغانستان کے میچ میں تھی۔

یہ بھی پڑھیے

ایک دن کی کرکٹ اور دبئی کی تمازت جذب کرنے کے بعد اگرچہ گھاس کچھ ماند ضرور پڑی تھی مگر بلے بازوں کے لیے خطرات سوا ہو گئے تھے کہ اب وکٹ سے دوہری پیس پیدا ہو رہی تھی۔ ہارڈ لینتھ پر کچھ گیندیں ایسے پھنس رہی تھیں جن سے رنز بٹورنے کی کوشش کرنا وکٹ گنوانے کے مترادف تھا۔

جس درستی اور مہارت سے انڈیا نے شارٹ پچ کا ہتھیار استعمال کیا، اس کے لیے راہول ڈریوڈ کی ٹیم لائقِ تحسین ہے۔ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں شاید ہی اس سے پہلے کبھی شارٹ پچ کا ایسا دانشمندانہ اور مؤثر استعمال دیکھا گیا ہو کہ پاکستان کے ابتدائی پانچوں بلے باز اسی شارٹ پچ کے دام میں پھنسے۔

مگر اس کے باوجود حارث رؤف اور شاہنواز ڈاہانی کی آخری وکٹ کی پارٹنرشپ قابلِ قدر تھی کہ اس نے پاکستان کو مقابلے میں ایک نئی زندگی سی بخش دی۔

پاکستان

،تصویر کا ذریعہReuters

اور اس کے بعد جو کچھ بیتا، وہ خوابناک سا تھا۔ یادوں میں جو چند لمحے نقش رہیں گے، وہ نسیم شاہ کی ان سوئنگ ہو گی جو عجیب پھرتی سے راہول کے بلے کا اندرونی کنارہ چھوتے ہوئے سٹمپس سے ٹکرا گئی۔

محمد نواز کی پے در پے دو کلیدی وکٹیں ہوں یا پھر وہ گیند جو رویندرا جدیجا کے تخمینوں کو سبھی اندازوں کو مات کر کے مڈل سٹمپ سے جا ٹکرائی۔ یا پھر نسیم شاہ کی وہ پکچر پرفیکٹ ڈلیوری جو یادیو کا آف سٹمپ لے اڑی۔

اس میں دو رائے نہیں کہ پاکستان نے مجموعی طور پر یہاں اپنی بہترین کرکٹ نہیں کھیلی۔ مگر مڈل آرڈر کے انہدام کے بعد جس طرح سے پاکستان میچ میں واپس آیا اور جیسی حیران کن بولنگ سے اسے آخری اوور تک جمائے رکھا، وہ بھی یادگار رہے گا۔

کہ آخر کچھ تو ایسا تھا جو یہ شکست ہونے کے باوجود شکست کی سی لگتی نہیں ہے۔