ایشیا کپ پر سمیع چوہدری کا کالم: 'فیصلہ پاکستان کا مڈل آرڈر ہی کرے گا'

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, سمیع چوہدری
- عہدہ, کرکٹ تجزیہ کار
38 برس قبل کھیلا جانے والا ایشیا کپ کا افتتاحی ٹورنامنٹ محض تین ٹیموں کے مابین تھا جسے سنیل گاوسکر کی قیادت میں انڈین ٹیم نے اپنے نام کیا۔ کئی ایک پُرپیچ رستوں سے گزرنے کے بعد آج یہ ایونٹ اپنے حجم میں دگنا ہو چکا ہے۔
ایشین کرکٹ کونسل کے قیام کا مقصد ایشیائی اقوام میں کرکٹ کی ترویج تھا، یہ مقصد کہیں زیادہ اور بہتر اہداف حاصل کر پاتا اگر اسے ایشیا کی دو بڑی کرکٹنگ اقوام کے مابین جغرافیائی و سیاسی مسائل درپیش نہ ہوتے۔ مگر پھر بھی یہ امر خوش آئند ہے کہ دھیرے دھیرے ایشیا کپ تین ٹیموں سے بڑھ کر چھ ٹیموں تک جا پہنچا ہے۔
اگر ایک جانب افغانستان اس خطے کی ابھرتی ہوئی کرکٹنگ قوت ہے تو دوسری جانب مسلسل دوسری بار کوالیفائی کرنے والی ہانگ کانگ کی اٹھان بھی قابلِ تحسین ہے جو اچھی مسابقتی کرکٹ کھیل رہی ہے اور پچھلے ایشیا کپ میں تو ایک بار انڈیا کے اوسان خطا کرتے کرتے رہ گئی تھی۔
آئی سی سی کی ٹی ٹونٹی رینکنگ میں ہانگ کانگ 23ویں نمبر پر ہے اور یہ ہندسہ اس امر کی غمازی کرتا ہے کہ وہ یہاں محض ایونٹ میں شراکت کی سعادت حاصل کرنے کو نہیں کھیلیں گے بلکہ اپنے تئیں بھرپور مقابلہ کریں گے اور ایک آدھ اپ سیٹ اپنے نام کرنے کی کوشش کریں گے۔
ٹی ٹوئنٹی ویسے بھی چھوٹے مارجن کی گیم ہوتی ہے، سو کوئی حیران کن نتیجہ ہرگز خلافِ توقع نہیں ہو گا۔
کرکٹنگ استعداد کے پیرائے میں دیکھا جائے تو متوقع ہے کہ افغانستان اس بار کئی ایک شائقین کو حیران کر ڈالے۔ جوناتھن ٹروٹ کی کوچنگ میں بیٹنگ پہ خصوصی توجہ دی جا رہی ہے اور بولنگ میں افغان سپنرز پہلے ہی اپنا نام پیدا کر چکے ہیں۔
دلچسپ مقابلہ بابر اعظم اور راشد خان کے درمیان ہو گا جو کہ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں جب بھی آمنے سامنے یوئے ہیں، جوڑ ہمیشہ کانٹے دار رہا ہے۔ بابر اعظم اگرچہ پیس بولنگ کے خلاف دلکش ڈرائیوز کھیلنے میں خاص شہرت رکھتے ہیں مگر راشد خان سے وہ پانچ دفعہ مات کھا چکے ہیں اور باہم مقابلے میں ان کی اوسط محض ساڑھے گیارہ رنز فی وکٹ ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بعینہٖ وراٹ کوہلی کے لیے بھی یہ ٹورنامنٹ بہت فیصلہ کن ہو گا کہ آیا وہ اپنی کھوئی ہوئی فارم بحال کر پائیں گے یا نہیں۔ ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ میں ان کی شمولیت کا دارومدار بھی ایشیا کپ کی کارکردگی پر ہو گا کیونکہ بالآخر یہیں سبھی ٹیمیں ورلڈ کپ کے لیے اپنے منصوبوں کو حتمی شکل دیں گی۔
پاکستان کے لیے بڑی پریشانی شاہین آفریدی کی عدم دستیابی ہے۔ انھی میدانوں میں کھیلے گئے پچھلے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں انڈیا کے خلاف پاکستان کی یادگار فتح میں کلیدی کردار شاہین نے ہی ادا کیا تھا۔ یہاں ان کی غیر موجودگی میں دیکھنا ہو گا کہ کیا نسیم شاہ اور محمد وسیم پاکستان کو پاور پلے میں کوئی ابتدائی کامیابی دلوا پاتے ہیں یا نہیں۔
کیونکہ افغانستان ہی کی طرح انڈیا بھی پاور پلے میں تیز کھیلنے کو ترجیح دیتا ہے۔ پچھلے ورلڈ کپ کی ناقص کارکردگی کے بعد نئے کوچ راہول ڈریوڈ کے تھنک ٹینک نے اس امر پہ خصوصی توجہ دی ہے کہ وہ رن ریٹ کے معاملے میں کسی سے پیچھے نہ رہ جائیں۔ ایسی صورت حال میں پاکستان کے پاس کامیابی کا واحد راستہ یہی ہو گا کہ وہ مخالف ٹاپ آرڈر کو قدم ہی نہ جمانے دے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
شاہین شاہ آفریدی کی عدم دستیابی اگرچہ پاکستان کے لیے بہت بڑا دھچکا ہے مگر دوسری جانب انڈیا بھی اپنے سپر سٹار جسپریت بمراہ کی انجری بھگت رہا ہے اور سری لنکا کو بھی چمیرا کی خدمات میسر نہیں ہوں گی۔ پاکستانی ٹیم کو بہرطور فائدہ عرب امارات کی کنڈیشنز کا ہو گا جو ان کے لیے دوسرے گھر کی سی حیثیت رکھتی ہیں۔
اگر پاکستان کو اس ٹورنامنٹ میں اپنی امیدیں برقرار رکھنا ہیں تو سب سے بڑا امتحان مڈل آرڈر کا ہو گا جو پہلے بھی کچھ خاص مؤثر نہیں تھا اور اب تو اسے کسی تجربہ کار کھلاڑی کا بھی ساتھ میسر نہیں ہے۔
محمد رضوان کی حالیہ فارم کو دیکھتے ہوئے یہ بعید از قیاس نہیں ہے کہ اننگز کا زیادہ تر بوجھ اب مڈل آرڈر پہ آن گرے گا اور مڈل آرڈر کی کارکردگی ہی پاکستان کے امکانات کا تناسب طے کرے گی۔













