نقلی آئی پی ایل میں ’زرعی مزدوروں کو کرکٹرز اور امپائر بنایا گیا‘

- مصنف, شکیل اختر
- عہدہ, بی بی سی اردو، دلی
دنیا کے سب سے بڑے کرکٹ ٹورنامنٹ انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کی ایک جعلی شکل کے ذریعے روسی جواریوں کو کروڑوں روپے کا دھوکہ دینے کے معاملے میں اب یہ انکشاف ہوا ہے کہ سٹیڈیم میں جن کرکٹرز کو کرکٹ میچ کھیلتے ہوئے دکھایا گیا تھا وہ دراصل زرعی مزدور تھے۔
یہی نہیں ’ٹھگوں‘ نے نقلی آئی پی ایل کے بارے میں شک نہ ہونے دینے کے لیے ایک معروف کمنٹیٹر کی ممیکری کے ذریعے کمنٹری بھی چلائی تھی۔
گجرات پولیس نے نقلی آئی پی ایل کے معاملے میں چار افراد کو گرفتار کیا ہے۔ ان پر جعلی میچ کا انتظام کرنے اور سوشل میڈیا کی ٹیلی گرام ایپ پر روس کے تین شہروں سے جواریوں سے داؤ لگوانے کا الزام ہے۔
اس معاملے کی تفتیش کرنے والے پولیس اہلکار بھاویش راٹھور نے بتایا کہ ’ان میں ایک ملزم روس کے ایک شراب خانے میں کام کرتا تھا۔ وہ يہاں آنے کے بعد روس کے کچھ لوگوں سے رابطے میں تھا۔ اس نے انھیں کرکٹ بیٹنگ کی طرف راغب کیا۔‘
ان کے مطابق مزید تفتیش سے پتا چلا ہے کہ اس نقلی آئی پی ایل کے فراڈ کے پیچھے اصل مشتبہ شخص ایک روسی شہری ہے جس کا نام ایفیموف بتایا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق ’آصف محمد اور اشوک چودھری روس میں ان کی مدد کر رہے تھے۔ آصف کا تعلق پاکستان سے بتایا جاتا ہے۔‘ گجرات پولیس کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ٹیلیگرام پر ملزموں کے پیغامات سے پتا چلتا ہے کہ ایفیموف اور ان کے انڈین معاونوں کے علاوہ دو روسی اور تین پاکستانی شہری بھی اس فراڈ میں شامل تھے۔
نقلی آئی پی ایل کرکٹ میچز گجرات میں ہی نہیں اتر پردیش، جالندھر اور پونے میں بھی کھیلے گئے تھے۔

اتر پردیش پولیس نے بھی دو افراد کو گرفتار کیا ہے جنھوں نے میرٹھ اور ہاپڑ میں مقامی کھلاڑیوں کی مدد سے میچز کا اہتمام کیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پولیس کا کہنا ہے کہ نقلی آئی پی ایل کے لیے چھوٹے چھوٹے شہروں اور قصبوں کا انتخاب کیا گیا تھا تاکہ کم پیسے میں سٹیڈیم اور کھیل کے میدان کرائے پر حاصل کیے جا سکیں۔ ’میرٹھ میں کم از کم بیس میچ کھیلے گئے تھے۔ میچز مسلسل جاری رکھنے کا مقصد یہ تھا کہ روس کے تین شہروں تویر، وورونیز اور ماسکو میں شراب خانوں میں الگ الگ وقت پر آنے والے گاہک ان میچوں پر بولی لگا سکیں۔‘
پولیس نے بتایا ہے کہ یہ میچ یوٹیوب چینل اور موبائل ایپ پر لائیو سٹریم کیے جاتے تھے۔ ایک ملزم شعیب داود نے پولیس کو بتایا کہ ’گجرات کے قصبے مولی پور میں آئی پی ایل کے جعلی میچ کے لیے چار، چار سو روپے میں 21 زرعی مزدوروں کو لایا گیا تھا۔‘
یہ بھی پڑھیے
’انھیں یونیفارم پہنا کر کرکٹر کے طور پر کھلایا گیا۔ ان میں کچھ کو امپائر بنایا گیا تھا اور اصل کا رنگ دینے کے لیے انھیں واکی ٹاکی بھی دی گئی تھی۔‘
انھوں نے مزید بتایا کہ ’مشہور کرکٹ کمنٹیٹر ہرشا بھوگلے سے ملتی جلتی آواز میں میمک کمنٹری بھی کرائی گئی۔ انٹرنیٹ سے تماشائیوں کی بھیڑ کی آواز ڈاؤن لوڈ کر کے میدان میں بھیڑ کا تاثر دینے کی کوشش کی جاتی تھی۔ پورا میچ پانچ اعلیٰ کوالٹی کے ایچ ڈی کیمروں کے ذریعے لائیو سٹریم کیا جاتا تھا۔‘
نقلی آئی پی ایل میچز اصل آئی پی ایل کے اختتام کے تین ہفتے بعد شروع کیے گئے تھے۔
انڈین پریمئر لیگ یعنی آئی پی ایل کرکٹ کی دنیا میں سب سے زیادہ پیسے والا ٹورنامنٹ ہے۔ انڈین قانون کے تحت گھوڑوں کی ریس کے علاوہ کسی بھی کھیل میں جوئے بازی کی اجازت نہیں۔
حالانکہ پولیس کا کہنا ہے کہ اس کے باوجود انڈیا میں کرکٹ میچوں کے دوران اربوں روپے کی غیر قانونی جوئے بازی ہوتی ہے۔











