پاکستان بمقابلہ آسٹریلیا پہلے ون ڈے پر سمیع چوہدری کا کالم: پاکستان خوف سے ہار گیا

    • مصنف, سمیع چوہدری
    • عہدہ, کرکٹ تجزیہ کار

یہ شاید خوف کا حصار تھا کہ بابر اعظم ٹاس کے وقت بھول ہی گئے کہ ان کی اپنی قوت کیا تھی اور حریف کی کمزوری کہاں تھی۔ آسٹریلوی بیٹنگ بلاشبہ اپنی اصل قوت سے کہیں نحیف تھی مگر بابر کو یہ بھی یاد رہنا چاہیے تھا کہ آج ان کی اپنی بولنگ بھی کہاں کوئی تگڑی تھی؟

حسن علی جیسی فارم پی ایس ایل سے لے کر چلے آ رہے ہیں، وہ چیخ چیخ کر کہہ رہی ہے کہ انجری سے بحالی کے بعد وہ اپنی استطاعت سے زیادہ زور آزما رہے ہیں۔ اولوالعزمی کے اقوال اپنی جگہ، یہ بہرطور ایک حقیقت ہے کہ انسانی جسم کی بھی کچھ حدود و قیود ہیں۔

پچھلے دونوں ٹیسٹ میچز میں حسن کی فارم سے یہ بالکل واضح تھا کہ وہ یہاں اٹیک کی قیادت کرنے کے قابل نہیں تھے لیکن عین وقت پر شاہین شاہ آفریدی کے ان فٹ ہونے سے حسن علی ہی اس کردار کے لیے اکلوتے امیدوار بن کر سامنے آئے۔

پر یہ تو بابر اعظم کو طے کرنا تھا کہ وہ اپنے بہترین مگر تھکے ہوئے گھوڑے پر شرط لگائیں گے یا کوئی نئی چال آزمائیں گے۔

اور پھر ٹاس جیت کر پہلے بولنگ کا فیصلہ بجائے خود بابر کی مدافعانہ حکمتِ عملی کا ثبوت تھا کیونکہ حسن علی کی ایسی فارم، شاداب خان کی عدم دستیابی اور پھر شاہین آفریدی کی بھی غیر موجودگی میں پاکستانی بولنگ اٹیک اس قابل نہیں تھا کہ پہلے بولنگ کر کے آسٹریلوی بیٹنگ کے بخیے ادھیڑ دیتا۔

کیونکہ وارنر، سمتھ اور میکسویل کی غیر حاضری کے باوجود اس ٹاپ آرڈر میں ایرون فنچ، ٹریوس ہیڈ، مارنس لبوشین اور ایلکس کیری جیسے مصدقہ بلے باز موجود تھے۔ اگر تو شاہین اور شاداب دستیاب ہوتے تو بابر کے لیے آسٹریلوی اننگز کی بساط سمیٹنا شاید واقعی ایسا دشوار نہ ہوتا۔

اس کے برعکس اگر پہلے بالکل نوآموز آسٹریلوی بولنگ کا امتحان لینا تزویراتی اعتبار سے زیادہ بہتر رہتا کہ دوسری اننگز میں پاکستانی سپنر زیادہ کارگر ثابت ہو سکتے تھے۔

لیکن اس کے باوجود بابر نے ٹاس جیتتے ہی بولنگ کا فیصلہ کر لیا حالانکہ عمومی حالات میں یہ فیصلہ بہترین ثابت ہوتا کہ دوسری اننگز میں اوس ہدف کے تعاقب کو آسان تر کر دیتی ہے لیکن سوال یہ تھا کہ کیا اپنی اصل قوت سے محروم یہ بولنگ اٹیک پاکستانی بلے بازوں کو کوئی قابلِ حصول ہدف دے پائے گا؟

بابر کے لیے اس سوال کا جواب اثبات میں ہی تھا کہ ان کو توقع تھی، حسن علی اور وسیم جونئر آسٹریلوی ٹاپ آرڈر پر بھی ویسی ہی یلغار کر دیں گے جو بنگلہ دیشی بیٹنگ پر کی تھی۔اور اگر پاکستان کو جلد دو تین وکٹیں مل جاتیں تو پھر سپن کے تو آپشن ہی بہت تھے۔

یہ بھی پڑھیے

ڈھائی سو کے لگ بھگ ہدف ہوتا اور پاکستان اوس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہنستے کھیلتے یہ عبور کر جاتا۔

لیکن ٹریوس ہیڈ نے ایسی برق رفتاری سے آسٹریلوی اننگز کا رخ موڑا کہ بابر کو کوئی متبادل پلان سوچنے کا موقع ہی نہ ملا۔ صاف نظر آ رہا تھا کہ پیسرز کی نئی گیند کھل کر بلے پر آ رہی تھی اور فوراً سپنرز کو اٹیک میں لانے کی ضرورت تھی۔

مگر خوف نے ساری فہم و فراست کو ایسا یرغمال بنایا کہ بابر بولنگ میں تبدیلی لائے بھی تو پھر پیس کو ہی لائے۔ اگر ہیڈ کے خلاف شروع میں ہی آف سپنر استعمال کر لیا جاتا تو شاید حالات مختلف ہو سکتے تھے مگر جب تک بابر سپن کو اٹیک میں لائے، تب تک ہیڈ اپنے قدم کریز پر گاڑ چکے تھے۔

پچھلے دو ماہ میں بابر اعظم بطور کپتان اتنے تواتر سے ہارے ہیں کہ اب ان کے فیصلوں میں ایک ذہنی خلجان سا جھلکتا ہے۔ کنفیوژن کی انتہا دیکھنا ہو تو پاکستان کا بولنگ کارڈ دیکھ لیجیے کہ دن کے بہترین پیسر حارث رؤف کے دو اوورز بچے ہی رہ گئے اور بابر حسن علی کا کوٹہ پورا کرواتے رہ گئے۔

اور بھلے اوس کوئی بھی امید بندھاتی، یہ تو واضح تھا کہ لاہور کی پچ دوسری اننگز میں سست ہو جاتی ہے۔ سپنرز کو ٹرن ملنے لگتا ہے اور گیند ٹھیک سے بلے پر نہیں آتی۔ پاکستان کے لیے ایسے خطیر ہدف کے تعاقب کا واحد امکان یہی تھا کہ ٹاپ آرڈر پاور پلے میں اننگز کا مومینٹم طے کر دیتا۔

مگر قسمت کی خوبی دیکھیے کہ فخر کا روانی سے چلتا بلا اچانک دھوکہ کھا گیا اور پاکستانی بیٹنگ پھر سے اپنے ہی خول میں محصور ہو گئی۔ وہیں سے اس جدوجہد کا آغاز ہو گیا کہ کسی نہ کسی طرح میچ کو آخری دس اوورز تک لے جایا جائے اور ’بس پھر ہم دیکھ لیں گے۔‘

لیکن میچ کو آخر تک کھینچتے کھینچتے پاکستان کے سبھی پیادے ایک ایک کر کے گرتے چلے گئے۔

پھر آخری دس اوورز تو آئے مگر تب تک وہ سبھی پویلین لوٹ چکے تھے، جن کا خیال تھا کہ آخری دس اوورز آ جائیں تو پھر ہم دیکھ لیں گے۔