پاکستان بمقابلہ آسٹریلیا پہلا ون ڈے: ٹریوس ہیڈ اور امام الحق کی سنچریاں، آسٹریلیا کی 88 رنز سے جیت

    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

یہ بات دل کو تسلی دینے کے لیے تو اچھی تھی کہ آسٹریلوی ٹیم میں ڈیوڈ وارنر اور گلین میکسویل شامل نہیں اور نہ ہی سٹیو سمتھ موجود اور بولنگ لائن بھی ورلڈ کلاس پیٹ کمنز، مچل سٹارک اور جوش ہیزل ووڈ کے بغیر تھی۔

مطلب یہ کہ پاکستان کے خلاف پہلا ون ڈے انٹرنیشنل کھیلنے والی آسٹریلوی ٹیم کو قابو کرنا آسان تھا لیکن پھر بھی ایسا نہ ہو سکا اور ایرون فنچ کی ٹیم نے پاکستان کو پہلے ون ڈے انٹرنیشنل میں 88 رنز کی شکست سے دوچار کر دیا۔

آسٹریلیا کے سکور 313 رنز سات کھلاڑی آؤٹ کے جواب میں پاکستانی ٹیم 225 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی۔

ٹریوس ہیڈ اتنے ظالم تو نہ بنو

لاہور کے گرم موسم میں ٹریوس ہیڈ کو پاکستانی بولنگ کی درگت بناتے دیکھ کر کون یہ کہہ سکتا تھا کہ یہ وہ بیٹسمین ہے جس نے اپنا آخری ون ڈے نومبر 2018 میں کھیلا تھا۔

ٹریوس ہیڈ کو پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں ہاتھ کھولنے کا موقع نہ مل سکا تھا لیکن اس کی کسر انھوں نے پہلے ون ڈے میں پوری کر دی۔

بابر اعظم نے ٹاس جیت کر آسٹریلیا کو بیٹنگ دی تو ان کے ہم منصب ایرون فنچ اور ٹریوس ہیڈ نے پہلی وکٹ کی سنچری شراکت قائم کر ڈالی۔

اس پوری شراکت میں ایرون فنچ اپنے مزاج کے برخلاف خاموش نظر آئے اور ٹریوس ہیڈ کے جارحانہ شاٹس آگ برساتے رہے۔

اس دوران پہلا ون ڈے انٹرنیشنل کھیلنے والے محمد وسیم جونیئر نے اپنی چوتھی گیند پر ٹریوس ہیڈ کو آؤٹ کیا لیکن ڈی آر ایس نے علیم ڈار کا فیصلہ غلط ثابت کر دکھایا جس کے بعد ٹریوس ہیڈ کسی کے قابو میں آنے کو تیار نہ تھے۔

حسن علی کے برے دن ابھی ختم نہیں ہوئے ہیں۔ وہ ایک ایسے بولر تھے جو ٹریوس ہیڈ کی جارحیت کی زد میں آئے۔

اپنا پہلا ون ڈے انٹرنیشنل کھیلنے والے لیگ سپنر زاہد محمود نے اپنے تیسرے اوور میں ایرون فنچ کو 23 رنز پر وکٹ کیپر رضوان کے ہاتھوں کیچ کروایا تو آسٹریلیا کا سکور 15ویں اوور میں 110 ہو چکا تھا۔

ٹریوس ہیڈ اپنی دوسری ون ڈے سنچری 70 گیندوں پر 12 چوکوں اور تین چھکوں کی مدد سے مکمل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔

یہ ون ڈے میں کسی بھی آسٹریلوی بیٹسمین کی پاکستان کےخلاف تیز ترین سنچری بھی ہے۔ اس سے قبل ڈیوڈ وارنر نے سنہ 2017 میں ایڈیلیڈ میں 78 گیندوں پر سنچری مکمل کی تھی۔

یہ بتانا بھی ضروری ہو گا کہ ٹریوس ہیڈ کی پہلی سنچری بھی پاکستان ہی کے خلاف تھی۔ سنہ 2017 میں انھوں نے ایڈیلیڈ میں تین چھکوں اور نو چوکوں کی مدد سے 128 رنز کی اننگز کھیلی تھی۔

ٹریوس ہیڈ سنچری مکمل کرنے کے بعد اپنی اننگز کو مزید آگے نہ لے جا سکے اور افتخار احمد کی گیند پر خوشدل شاہ کے ہاتھوں کیچ ہو گئے۔

اپنا تیسرا ون ڈے انٹرنیشنل کھیلنے والے بین میکڈرمٹ پہلی نصف سنچری مکمل کرنے میں کامیاب ہو گئے تاہم 55 کے انفرادی سکور پر وہ رن آؤٹ ہو گئے۔

یہ وہی بین میکڈرمٹ ہیں جن کے والد کریگ میکڈرمٹ نے سنہ 1987 کے عالمی کپ سیمی فائنل میں اسی قذافی سٹیڈیم میں پاکستان کی پانچ وکٹیں حاصل کی تھیں اور آسٹریلیا کو فائنل میں پہنچا دیا تھا۔

ٹریوس ہیڈ کیا آؤٹ ہوئے جارحانہ بیٹنگ کا انداز بھی ساتھ لے گئے۔ ان کے آؤٹ ہونے کے بعد 72 گیندیں باؤنڈری کے بغیر چلی گئیں۔ کپتان بابراعظم کی اپنے سپنرز کے ذریعے شکنجہ کسنے کی حکمت عملی کامیاب رہی۔

خوشدل شاہ نے سعود شکیل کے عمدہ کیچ کی بدولت مارنس لبوشین کی وکٹ حاصل کی اور زاہد محمود اپنے آخری اوور میں وکٹ کیپر الیکس کیری کو بولڈ کرنے میں کامیاب ہو گئے۔

مارکس سٹوئنس تمام تر کوشش کے باوجود ہاتھ نہ کھول سکے۔ ان کی 42 گیندوں پر 26 رنز کی اننگز کا خاتمہ حارث رؤف نے کیا۔

یہ وہی سٹوئنس ہیں جو نیوزی لینڈ کے خلاف ایڈن پارک میں گیارہ چھکے لگا چکے ہیں لیکن قذافی سٹیڈیم میں حالات ان کے لیے مختلف تھے۔

حارث رؤف نے اپنی دوسری وکٹ شان ایبٹ کو بولڈ کر کے حاصل کی۔

پاکستان کے تینوں سپنرز زاہد محمود، افتخار احمد اور خوشدل شاہ نے مجموعی طور پر 26 اوورز میں 145 رنز دیے اور چار وکٹیں حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔

ساتھ ساتھ وہ فی اوور صرف پانچ اعشاریہ پانچ رنز دینے کے ذمہ دار بھی تھے۔ آسٹریلیا نے آخری دس اوورز میں 81 رنز بنائے جس کی بڑی وجہ کیمرون گرین کے ناقابل شکست 40 رنز تھے۔

امام الحق کی سنچری ناکافی

پاکستان نے ایک بڑے ہدف کے تعاقب میں پہلی وکٹ جلد ہی گنوا دی۔ فخر زمان جنھوں نے اننگز کے پہلے ہی اوور میں شان ایبٹ کی گیندوں پر دو چوکے لگائے تھے، 18 رنز بنا کر انھی کی گیند پر ٹریوس ہیڈ کو کیچ دے گئے۔

ایک بار پھر پاکستانی بیٹنگ کی امیدوں کا محور بابراعظم تھے جن کے لیے اس وقت تک سب کچھ اچھا تھا جب تک انھوں نے اپنی 18ویں نصف سنچری مکمل کر لی تھی لیکن اس کے بعد کے لمحات ان کے لیے کٹھن رہے۔

مچل سوئپسن کی گیند پر ان کے خلاف ایل بی ڈبلیو کی اپیل امپائر آصف یعقوب نے رد کر دی۔

آسٹریلوی ریویو ضائع گیا لیکن پھر سوئپسن ہی کی گیند پر ایل بی ڈبلیو دیے جانے پر بابر نے ریویو لیا لیکن اس بار آصف یعقوب کا فیصلہ آسٹریلیا کے حق میں درست ٹھہرا۔ یوں سوئپسن کو ون ڈے انٹرنیشنل میں پہلی وکٹ مل گئی۔

بابراعظم نے اپنی 57 رنز کی اننگز میں ون ڈے انٹرنیشنل کے چار ہزار رنز بھی مکمل کیے۔ وہ ہاشم آملا کے بعد تیز ترین چار ہزار رنز مکمل کرنے والے دوسرے بیٹسمین ہیں۔

بابراعظم اور امام الحق کی پارٹنرشپ 96 رنز پر کیا ٹوٹی اس نے وکٹیں گرنے کا راستہ بنا دیا۔ سعود شکیل ٹریوس ہیڈ کی گیند پر لبوشین کو آسان سا کیچ تھما کر سب کو حیران کر گئے۔

محمد رضوان کے لیے بڑھتے ہوئے دباؤ کو کم کرنا آسان نہ رہا اور اسی کشمکش میں وہ ایڈم زیمپا کو سوئپ کرنے کی کوشش میں وکٹ کیپر الیکس کیری کے ہاتھوں کیچ ہو گئے۔

افتخار احمد اپنے کھاتے میں ایک اور مایوس کن اننگز کا اضافہ کر گئے۔

پاکستانی ٹیم کی آخری امید اوپنر امام الحق سے وابستہ تھی جنھوں نے ون ڈے انٹرنیشنل میں اپنی آٹھویں سنچری 92 گیندوں پر چھ چوکوں اور3 چھکوں کی مدد سے مکمل کی لیکن یہ امید نیتھن ایلیز کی پہلی ون ڈے وکٹ کی صورت میں دم توڑ گئی۔

اُسوقت پاکستانی ٹیم کو 66 گیندوں پر جیت کے لیے 110 رنز درکار تھے۔

ایڈم زیمپا نے لگاتار گیندوں پر حسن علی اور محمد وسیم جونیئر کو آؤٹ کیا اور ساتھ ہی ون ڈے انٹرنیشنل میں اپنی 100 وکٹیں بھی مکمل کر ڈالیں۔ انھوں نے اس میچ میں چار وکٹیں صرف 38 رنز دے کر حاصل کیں جو ان کے کریئر کی بہترین کارکردگی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

جیت کا انتظار طویل ہوتا ہوا

پہلے ون ڈے انٹرنیشنل میں آسٹریلیا کی جیت کو ماضی قریب کے اعداد وشمار اور حالات و واقعات کے تناظر میں دیکھنے کے بعد یہ نہیں کہا جاسکتا کہ یہ کوئی حیران کن بات تھی۔

ابھی چند روز پہلے آسٹریلیا نے پاکستان کو ٹیسٹ سیریز میں شکست دی۔ کچھ دور جائیے تو اس نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں میتھیو ویڈ کی چھکے چھڑا دینے والی بیٹنگ کی بدولت پاکستانی کھلاڑیوں کے چہروں سے مسکراہٹ چھینی تھی۔

اس سے دور جائیں تو سنہ 2019 کا عالمی کپ یاد آ جائے گا اور اس سے ایک سال پیچھے متحدہ عرب امارات میں آسٹریلوی ٹیم کے نام کے آگے پانچ صفر کی جیت درج ہے۔

دونوں ٹیموں کے درمیان آخری 16 میچز میں سے 15 ون ڈے انٹرنیشنل ویسے ہی آسٹریلوی ٹیم کی بالادستی کو ثابت کرتے ہیں اور سب سے اہم بات یہ کہ پاکستان کے خلاف آخری 10 کے 10 ون ڈے انٹرنیشنل آسٹریلیا نے جیت رکھے ہیں۔

آسٹریلوی ٹیم کو سیریز سے قبل درپیش مشکلات

یاد رہے کہ پاکستان کے دورے پر آئی ہوئی آسٹریلوی کرکٹ ٹیم، ون ڈے سیریز سے قبل اپنے دو کھلاڑیوں اور ٹیم کے فزیوتھراپسٹ کے مثبت کووڈ ٹیسٹ کی وجہ سے پریشانی میں مبتلا ہو گئی تھی۔

لیفٹ آرم سپنر ایشٹن ایگر کا کووڈ ٹیسٹ مثبت آ گیا تھا جس کی وجہ سے وہ ون ڈے سیریز سے باہر ہو گئے تھے۔ ایشٹن ایگر پندرہ ون ڈے انٹرنیشنل کھیل چکے ہیں جن میں انھوں نے 14 وکٹیں حاصل کر رکھی ہیں۔

آسٹریلوی ٹیم کے فزیو تھراپسٹ برینڈن ولسن کا کووڈ ٹیسٹ بھی منگل کی صبح مثبت آیا تھا جبکہ دیگر تمام کھلاڑیوں اور کوچنگ سٹاف کے کووڈ ٹیسٹ کے نتائج منفی آئے ہیں۔

یاد رہے کہ پیر کے روز آسٹریلیا کے نمبر دو وکٹ کیپر جوش انگلز کا کووڈ ٹیسٹ بھی مثبت آیا تھا جس کے بعد انھیں پانچ روز کے لیے آئسولیٹ کر دیا گیا تھا اور آسٹریلیا سے وکٹ کیپر میٹ رینشا کو طلب کرلیا گیا تھا۔

سپنر ایشٹن ایگر کا مثبت کووڈ ٹیسٹ کی وجہ سے ون ڈے سیریز سےباہر ہوجانا آسٹریلوی کرکٹ ٹیم کے لیے بڑا دھچکہ ہے۔

اس سے قبل مہمان ٹیم پہلے ون ڈے انٹرنیشنل میں آل راؤنڈر مچل مارش کی خدمات سے بھی محروم ہو چکی ہے وہ کولہے کی تکلیف میں مبتلا ہیں۔ ان کی جگہ کیمرون گرین کو ٹیم میں شامل کیا گیا ہے۔

مچل مارش کے بارے میں آسٹریلوی ٹیم منیجمنٹ کو امید ہے کہ وہ اگلے دو میچوں کے لیے فٹ ہو جائیں گے۔

مچل مارش متحدہ عرب امارات میں ہونے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں نیوزی لینڈ کے خلاف فائنل کے مین آف دی میچ تھے اس میچ میں انھوں نے77 رنز ناٹ آؤٹ کی میچ وننگ اننگز کھیلی تھی۔

واضح رہے کہ پاکستان کے خلاف ون ڈے سیریز کھیلنے والی ٹیم میں اس کے متعدد تجربہ کار کھلاڑی شامل نہیں ہیں جنھوں نے ٹیسٹ سیریز میں حصہ لیا تھا۔

ٹیسٹ ٹیم کے کپتان پیٹ کمنز، جوش ہیزل ووڈ اور ڈیوڈ وارنر آئی پی ایل کھیلنے انڈیا جا چکے ہیں جبکہ سٹیو سمتھ ان فٹ ہو جانے کے باعث ون ڈے سیریز سے باہر ہوئے ہیں اور مچل سٹارک کو ون ڈے ٹیم میں شامل نہیں کیا گیا۔

کیا سمتھ اور خواجہ کے ٹیسٹ بھی مثبت آئے تھے؟

پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان کراچی ٹیسٹ سے قبل بھی چند آسٹریلوی کرکٹرز کے کووڈ ٹیسٹ مثبت آنے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔

اس سلسلے میں ایک پاکستانی اخبار نے یہ خبر دی تھی کہ سٹیو سمتھ اور عثمان خواجہ کے کووڈ ٹیسٹ مبینہ طور پر مثبت آئے تھے لیکن آسٹریلوی ٹیم منیجمنٹ نے ان نتائج کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا اور اس نے اپنے طور پر دوبارہ کووڈ ٹیسٹ کرائے تھے جن کے نتائج منفی آئے تھے۔

خبر کے مطابق یہ صورتحال متنازع ہو سکتی تھی لیکن دونوں کرکٹ بورڈ کے باہمی اتفاق کی وجہ سے صورتحال پر قابو پا لیا گیا تھا۔