بابر اعظم اور محمد رضوان کی سنچریاں ، پاکستانی ٹیم کراچی ٹیسٹ ڈرا کرنے میں کامیاب

    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

پاکستانی کرکٹ ٹیم ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کا سب سے بڑا ہدف عبور کرنے میں ناکام رہ کر نئی تاریخ تو رقم نہ کر سکی لیکن اس نے حوصلہ مندی کا نیا باب ضرور لکھ دیا۔

کپتان بابر اعظم کے جرات مندانہ کریئر بیسٹ 196 اور محمد رضوان کے ناقابل شکست 104 رنز کی بدولت پاکستانی ٹیم آسٹریلیا کے خلاف کراچی ٹیسٹ ڈرا کرنے میں کامیاب ہوگئی۔

جب پانچویں دن کا کھیل ختم ہوا تو پاکستان نے 443 رنز بنائے تھے اور اس کے سات کھلاڑی آؤٹ ہوئے تھے۔

شکست کا خدشہ یا ڈرا کا راستہ؟

پاکستانی ٹیم کو میچ کے چوتھے دن جب 506 رنز کا بھاری بھرکم ہدف ملا تھا تو کئی لوگوں نے اپنا فیصلہ صادر کر دیا تھا کہ جیت تو دور کی بات اگر پاکستانی ٹیم نے میچ بچا بھی لیا تو یہ کسی معجزے سے کم نہ ہو گا۔

بدھ کی صبح بابر اعظم اور عبداللہ شفیق نے پاکستان کی دوسری اننگز 192 رنز دو کھلاڑی آؤٹ پر شروع کی تو سامنے 90 اوورز کا مشکل سفر موجود تھا جس میں جیت کے امکانات بھی تھے اور شکست کے خدشات بھی جبکہ ایک راستہ ڈرا کی طرف بھی جا رہا تھا۔

دونوں بیٹسمینوں نے کوئی خطرہ مول لیے بغیر محتاط انداز میں بیٹنگ شروع کی جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ پہلا اور دوسرا چوکا دن کے ساتویں اوور میں بابراعظم نے سویپ سن کو لگاتار گیندوں پر مارا۔

پہلے سیشن میں پاکستانی ٹیم نے 28 اوورز میں 62 رنز کا اضافہ کیا لیکن ساتھ ہی اسے عبداللہ شفیق کی وکٹ کا نقصان بھی اٹھانا پڑا۔

عبداللہ شفیق جو بڑے اعتماد سے بیٹنگ کررہے تھے کھانے کے وقفے سے صرف آٹھ منٹ پہلے پیٹ کمنز کی باہر جاتی ہوئی گیند کو کھیلنے کی غلطی کر بیٹھے لیکن اس بار سٹیو سمتھ غلطی کرنے کے لیے تیار نہیں تھے اور انھوں نے سلپ میں کیچ لے کر پاکستان کے نقطہ نظر سے سب سے اہم شراکت کا خاتمہ کر دیا۔

یاد رہے کہ سمتھ نے عبداللہ شفیق کا 20 کے انفرادی سکور پر کیچ پیٹ کمنز ہی کی گیند پر گرایا تھا۔ عبداللہ شفیق نے جس شاٹ کا انتخاب کر کے اپنی وکٹ گنوائی اس پر یقیناً وہ خود کو معاف نہیں کریں گے اور وہ صرف چار رنز کی کمی سے اپنی دوسری ٹیسٹ سنچری مکمل نہ کر سکے۔

انھوں نے سات گھنٹے 48 منٹ طویل اننگز میں 305 گیندوں کا سامنا کیا۔ ان کی اننگز میں چھ چوکے اور ایک چھکا شامل تھا۔ عبداللہ شفیق اور بابر اعظم نے تیسری وکٹ کے لیے 228 رنز کا اضافہ کیا۔

پاکستانی ٹیم کو ایک اور بڑا دھچکا فواد عالم کی وکٹ کی صورت میں اٹھانا پڑا جو صرف نو رنز بنا کر پیٹ کمنز ہی کی گیند پر وکٹ کیپر الیکس کیری کے ہاتھوں کیچ ہوگئے۔ پاکستان کی چوتھی وکٹ 277 رنز پر گری۔

میچ کو آسٹریلیا کے ہاتھ میں جانے سے روکنے کے لیے پاکستان کے پاس اب آخری مستند پارٹنرشپ بابراعظم اور رضوان کی شکل میں کریز پر تھی۔

ایک موقع پر رضوان کیمرون گرین کی گیند پر بیٹ ہوئے تو بابراعظم نے ان کے پاس جا کر انھیں محتاط رہنے کو کہا لیکن خود بابراعظم کی دھڑکنیں اس وقت تیز ہوئیں جب 157 کے انفرادی سکور پر نیتھن لائن کی گیند پر ان کے خلاف ایل بی ڈبلیو کی اپیل ہوئی۔ امپائر علیم ڈار نے ناٹ آؤٹ دیا جس پر آسٹریلوی ٹیم نے ریویو لیا لیکن ڈی آر ایس نے علیم ڈار کے فیصلے کو درست قرار دے دیا۔

بابر اعظم پر قسمت بھی مہربان رہی۔ سویپسن کی لگاتار دو گیندوں پر ان کے کیچ آسٹریلوی فیلڈرز کے ہاتھوں سے نکل گئے۔ پہلے ٹریوس ہیڈ اور پھر مارنس لبوشین گیند کو اپنے قابو میں کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ ُاس وقت بابر 161 رنز پر کھیل رہے تھے۔

آخری سیشن کا بدلتا رنگ

چائے کے وقفے پر پاکستانی ٹیم نے 310 رنز بنائے تھے اور اس کے چار کھلاڑی آؤٹ ہوئے تھے۔ آخری سیشن میں پاکستانی ٹیم کے پاس 36 اوورز تھے جن میں اس کے پاس دو آپشنز تھے۔

میچ جیتنے کے لیے اسے 196 رنز بنانے تھے اور شکست سے بچنے کے لیے اپنی چھ وکٹیں محفوظ رکھنی تھیں لیکن میچ نے اس وقت ڈرامائی صورتحال اختیار کی جب نیتھن لائن نے لگاتار گیندوں پر بابر اعظم اور فہیم اشرف کو آؤٹ کر کے سنسنی پھیلا دی۔

بابر اعظم ڈبل سنچری سے چار رنز کی دوری پر ایک میراتھن اننگز کھیلنے کے بعد مارنس لبوشین کے ہاتھوں کیچ ہوئے۔ انھوں نے 10 گھنٹے سات منٹ طویل اننگز میں 425 گیندیں کھیلیں اور 21 چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے 196 رنز بنائے۔

بابر نے رضوان کے ساتھ پانچویں وکٹ کے لیے 115 رنز کا اضافہ کیا۔

بابراعظم نے میچ کے بعد کہا کہ پاکستانی ٹیم کو ان کی اس اننگز کی بہت ضرورت تھی اور وہ اسے اپنے کریئر کی اہم ترین اننگز سمجھتے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر وہ آؤٹ نہیں ہوتے تو پھر ہدف کا تعاقب کرنے کے بارے میں سوچا جا سکتا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

پاکستانی ٹیم کی مشکلات میں اس وقت مزید اضافہ ہوگیا جب نیتھن لائن نے ہی ساجد خان کو سلپ میں سمتھ کے ہاتھوں کیچ کروا دیا۔ یہ سمتھ کا اس اننگز میں تیسرا کیچ اور لائن کی چوتھی وکٹ تھی۔

اس مرحلے پر پاکستانی اننگز کے آٹھ اوورز ابھی بھی باقی تھے تاہم محمد رضوان اور نعمان علی آسٹریلوی بولنگ کے وار سہہ گئے۔ ان دونوں نے 46 گیندوں کا سامنا کرتے ہوئے 29 رنز کا اضافہ کیا اور اسی دوران رضوان سنچری مکمل کرنے میں بھی کامیاب رہے۔

تجربہ کار محمد رضوان کا ساتھ دینے والے نعمان علی کی تعریف نہ کرنا زیادتی ہوگی جنھوں نے کریز پر 37 منٹ گزارتے ہوئے 18 گیندوں کا سامنا کیا۔

میچ کے بعد بابر اعظم کا کہنا ہے کہ وہ فہیم اشرف کی وکٹ گرنے کے باوجود ڈریسنگ روم میں پرامید تھے کیونکہ انھیں علم تھا کہ محمد رضوان کریز پر تھے جبکہ انھیں اپنے ٹیل اینڈرز پر بھی بھروسہ تھا کہ وہ میچ بچا سکتے ہیں۔

بابر اعظم کا مختلف روپ اور ریکارڈز

پاکستان کے لیے کراچی ٹیسٹ بچانے والے بابر اعظم حال ہی میں پاکستان سپر لیگ میں اپنی بیٹنگ اور کپتانی کے انداز پر تنقید کی زد میں آئے تھے۔ کراچی کنگز کے دس میچوں میں وہ صرف دو نصف سنچریاں بنانے میں کامیاب ہو سکے تھے جبکہ ان کی ٹیم بھی آخری نمبر پر آئی تھی۔

بابر اعظم کے لیے بیٹنگ کے اعتبار سے یہ سیریز اس لیے بھی اہم ہے کہ انھوں نے آخری ٹیسٹ سنچری فروری 2020ء میں بنگلہ دیش کے خلاف راولپنڈی ٹیسٹ میں بنائی تھی جس کے بعد 20 اننگز کے انتظار کے بعد انھوں نے یہ سنچری سکور کی ہے۔

بابر اعظم نے اپنی اس اننگز میں چند اہم ریکارڈز بھی قائم کیے۔ انھوں نے اس اننگز میں 10 گھنٹے سات منٹ بیٹنگ کی جو کسی ٹیسٹ میچ کی چوتھی اننگز میں کسی بھی پاکستانی بیٹسمین کی وقت کے اعتبار سے سب سے بڑی اننگز ہے۔

اس سے قبل 2006ء میں شعیب ملک نے سری لنکا کے خلاف کولمبو ٹیسٹ کی چوتھی اننگز میں اپنے 148 رنز 488 منٹ میں بنائے تھے۔

بابر اعظم چوتھی اننگز میں گیندوں کےاعتبار سے بھی سب سے بڑی اننگز کھیلنے والے پاکستانی بیٹسمین بن گئے ہیں۔ انھوں نے اپنی اس اننگز میں 425 گیندیں کھیلیں۔

اس سے قبل شعیب ملک نے اپنی 148 رنز کی اننگز میں 369 گیندوں کا سامنا کیا تھا۔

بابر اعظم رنز کے اعتبار سے چوتھی اننگز میں سب سے بڑی اننگز کھیلنے والے پاکستانی بیٹسمین بھی بن گئے ہیں۔ ان سے قبل یونس خان نے 2015ء میں سری لنکا کے خلاف پالیکیلے ٹیسٹ کی چوتھی اننگز میں 171 رنز بنائے تھے۔

بابر اعظم کے علاوہ تین دیگر بیٹسمین ٹیسٹ میچ کی چوتھی اننگز میں پانچ سو یا زائد منٹ بیٹنگ کر چکے ہیں جن میں مائیک ایتھرٹن (643 منٹ)، دلیپ وینگسارکر (522 منٹ) اور عثمان خواجہ (522 منٹ) شامل ہیں۔

بابر اعظم ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں چوتھی اننگز میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے کپتان بھی بن گئے ہیں۔ ان سے قبل یہ اعزاز انگلینڈ کے کپتان مائیک ایتھرٹن کا تھا جنھوں نے 1995ء میں جنوبی افریقہ کے خلاف جوہانسبرگ میں 185 رنز کی اننگز کھیلی تھی۔