پاکستان بمقابلہ آسٹریلیا تیسرا ٹیسٹ میچ: ’شاید پاکستان کو خوابوں کا پیس اٹیک مل گیا ہے‘، سمیع چوہدری کا کالم

    • مصنف, سمیع چوہدری
    • عہدہ, کرکٹ تجزیہ کار

جس طرح سے پاکستان نے دوسرے دن کی بولنگ کا آغاز کیا، وہ ہرگز اس کارکردگی کے شایانِ شان نہ تھا جو وہ پہلے دن دکھلا چکے تھے۔ نئی گیند کے ساتھ پاکستان کے پاس جو برتری پانے کا سںہرا موقع تھا، وہ گنوا دیا گیا۔

شاہین شاہ آفریدی لاہور کی وکٹ سے ایسے ہی مانوس ہیں جیسے اپنے ہاتھ کی لکیروں سے۔ یہیں چند ہفتے پہلے اُنھوں نے اپنی پی ایس ایل ٹیم لاہور قلندرز کو ان کی پہلی ٹرافی جتوائی۔ قلندرز کے اس سفر میں شاہین کی بولنگ فارم کلیدی حیثیت رکھتی تھی۔

لیکن کل صبح جب اُنھیں سرخ گیند تھمائی گئی تو شاید کوئی بھی لاہور کی اس سست وکٹ پر ایسے تُند آغاز کی توقع نہیں کر رہا تھا۔

عمومی شہرت کے برعکس یہاں آفریدی کا پہلا نہیں، بلکہ دوسرا اوور تھا جو آسٹریلوی ٹاپ آرڈر کے لیے تباہ کُن ثابت ہوا۔ اوپر تلے وارنر اور لبوشین کی وکٹیں حاصل کر کے شاہین نے گویا پاکستان کے لیے ایک خواب ناک آغاز میسر کر دیا۔

اگر پاکستان فیلڈنگ میں بھی ویسی ہی مستعدی دکھا پاتا جو آفریدی کی بولنگ میں تھی تو شاید آسٹریلوی بیٹنگ اننگز دوسری صبح ہی نہ دیکھ پاتی۔ مگر عثمان خواجہ اور سٹیو سمتھ کی صبر آزما پارٹنرشپ کے بیچ پاکستان نے کئی مواقع گنوائے۔

اگرچہ وکٹ کی سستی کے اعتبار سے یہ بہت دقیق چانسز تھے مگر بحیثیتِ مجموعی یہ تسلی بخش فیلڈنگ نہیں تھی۔

پاکستان نے یہاں اپنی ٹیم کے چناؤ میں ایک خاصا عجیب سا فیصلہ کیا کہ فہیم اشرف کو ڈراپ کر کے ان کی جگہ نسیم شاہ کو بولنگ اٹیک میں شامل کیا۔ حالانکہ نسیم شاہ کی واپسی کے لیے حسن علی بھی جگہ خالی کر سکتے تھے جو فارم اور فٹنس کے مسائل سے دوچار ہیں۔

لیکن اس ساری بحث سے قطع نظر نسیم شاہ نے یہاں وہ بولنگ کر ڈالی جس کی توقعات، ذرا عجلت میں کچھ سال پہلے ہی ان سے وابستہ کر لی گئی تھیں۔ اب شائقین کے لیے یہ ہضم کرنا ذرا مشکل ہوتا ہے کہ ایسے شور و غوغا سے ٹیم میں آنے والے نئے سٹار نے آتے ہی اپوزیشن کے پرخچے کیوں نہیں اڑا دیے۔

مگر انٹرنیشنل ٹیسٹ کرکٹ میں مسابقت کا معیار دنیا کے تمام کھیلوں سے بالاتر ہے۔ کوئی ڈومیسٹک فرسٹ کلاس میں بھلے کتنی ہی دھماکے دار کارکردگی کیوں نہ دکھا کر آیا ہو، یہاں سب سے بڑے سٹیج پر اترتے ہی ایک دم معجزے بپا نہیں کرنے لگتا۔

بالخصوص نوجوان فاسٹ بولرز کے لیے یہ ارتقا قدرے تکلیف دہ سا ہوتا ہے۔ اس میچ سے پہلے نسیم شاہ نے جتنی بھی ٹیسٹ کرکٹ کھیلی، ایک دو کے سوا کوئی بھی میچ قابلِ ذکر نہیں تھا حالانکہ اسی دوران وہ کم عمر ترین ہیٹ ٹرک کا ریکارڈ بھی بنا چکے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

لیکن وقت کے ساتھ ساتھ نسیم نے اپنی فطری جارحیت کو خاصا سِدھا لیا ہے اور اس کی جگہ غیر متزلزل ڈسپلن نے لے لی ہے۔ اس میچ میں نسیم کی بولنگ سے یہ بالکل عیاں تھا کہ وہ بے وجہ جارحیت کے بجائے وکٹوں کے حصول کے لیے محنت اور تسلسل سے بلے بازوں کی ’ذہن سازی‘ کر رہے تھے۔

ایشیائی وکٹیں فاسٹ بولرز کے لیے ہمیشہ کڑا امتحان ثابت ہوتی آئی ہیں۔ اور ان وکٹوں پر کامیاب ترین پیسرز وسیم اکرم اور وقار یونس دونوں کی بولنگ میں قدرِ مشترک یہ تھی کہ وہ ان دھیمی باؤنس والی پچز پر مڈل سٹمپ اور فُل لینتھ کو ہدف بنایا کرتے تھے۔

اور یہی نسیم شاہ نے بھی کیا۔ اُنھوں نے زبردستی کوئی مواقع پیدا کرنے کے بجائے بلے بازوں کے ذہن پڑھنے کو ترجیح دی۔ ان وکٹوں پر ایسی لائن و لینتھ کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ بلے باز فرنٹ فٹ پر جھکنے پر مجبور ہو رہتے ہیں اور ایل بی ڈبلیو کے امکانات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔

بعینہٖ اگر ریورس سوئنگ شروع ہو جائے تو یہ لینتھ بلے بازوں کو تشکیک میں مبتلا کر دیتی ہے۔ وہی تشکیک جو یہاں ہمیں مچل سٹارک اور نیتھن لیون کی بیٹنگ میں نظر آئی۔ جن دو گیندوں پر اُنھیں پویلین لوٹنا پڑا، دونوں ہی ریورس سوئنگ پر عبور کی عکاس تھیں۔

اگرچہ پاکستان صبح کے سیشن میں وہ بولنگ نہ کر پایا جو پہلے روز کی شہ سرخی رہی تھی مگر لنچ کے بعد کے سیشن میں پاکستان نے جس مہارت سے بولنگ کی وہ نظم و ضبط اور صلاحیت کی عمدہ مثال تھی جس نے یہ یقینی بنایا کہ آسٹریلیا یہاں پہلی اننگز میں ہی میچ لے نہ اڑے۔

یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ پاکستان کو یہاں کوئی برتری حاصل ہے مگر یہ برتری حاصل ضرور کی جا سکتی ہے اگر پاکستان اپنی بیٹنگ اننگز اسی جذبے سے شروع کرے جیسے یہ کراچی میں تمام ہوئی تھی۔

اور شکست و فتح تو بھلے تین روز بعد طے ہو گی مگر فی الوقت یہ نوید ہی کم نہیں کہ پاکستان کو شاید اپنا خوابناک پیس اٹیک مل گیا ہے۔