پاکستان بمقابلہ آسٹریلیا: لاہور ٹیسٹ میں آسٹریلیا کی فتح، سیریز ایک صفر سے مہمان ٹیم کے نام

کرکٹ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

آسٹریلیا نے پاکستان کو لاہور میں کھیلے جانے والے تیسرے کرکٹ ٹیسٹ میچ میں 115 رنز سے شکست دے کر تین میچوں کی سیریز ایک صفر سے جیت لی ہے۔

پیٹ کمنز کی ٹیم نے پاکستان کو اس میچ میں فتح کے لیے 351 رنز کا ہدف دیا تھا جس کے تعاقب میں پاکستانی ٹیم کھیل کے آخری دن 235 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی۔

پاکستانی ٹیم اور شائقین کی تمام امیدیں جمعے کو کپتان بابر اعظم سے وابستہ دکھائی دیتی تھیں لیکن چائے کے وقفے کے بعد پاکستانی کپتان کے آؤٹ ہونے سے یہ امیدیں دم توڑ گئیں۔

آخری دن کا کھیل جب شروع ہوا تو سب کے ذہنوں میں ایک ہی سوال تھا کہ آسٹریلوی کپتان کے اننگز ڈیکلیئر کرنے کے دلیرانہ فیصلے کے بعد بابر اعظم کی ٹیم کیا میچ جیتنے کے لیے میدان میں اترے گی یا پھر میچ ڈرا کرنا اس کا مقصد ہو گا اور اس جواب میدان میں اور میدان سے باہر موجود تمام شائقین اور ماہرین کو پہلے ہی سیشن میں پاکستانی بلے بازوں کی سست بلے بازی سے مل گیا۔

جمعے کو کھیل کا آغاز ہوا تو پاکستان کو فتح کے لیے مزید 278 رنز درکار تھے اور اس کی تمام وکٹیں باقی تھیں مگر پاکستانی اوپنرز گذشتہ روز کے سکور میں صرف چار رنز کا اضافہ ہی کر سکے اور 77 کے سکور پر عبداللہ شفیق کو کیمرون گرین نے وکٹوں کے پیچھے کیچ کروا کے مہمان ٹیم کو پہلی کامیابی دلوا دی۔

بابر اعظم

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنبابر اعظم سے پاکستانی ٹیم کو ایک مرتبہ پھر ویسی ہی اننگز درکار تھی جو انھوں نے کراچی ٹیسٹ کی چوتھی اننگز میں کھیلی تھی

اس اننگز کے دوران عبداللہ شفیق کو کئی مواقع ملے۔ جہاں چوتھے دن کے اختتامی لمحات میں سٹیو سمتھ نے ان کا آسان کیچ گرایا وہیں ڈی آر ایس کے باعث وہ اپنے خلاف دیے گئے ایک فیصلے کو تبدیل کروانے میں کامیاب رہے۔

پانچویں دن آسٹریلیا کو دوسری وکٹ کے لیے بھی زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑا اور اظہر علی صرف 17 رنز بنانے کے بعد اس اننگز میں نیتھن لیون کی پہلی وکٹ بنے۔ اس وقت پاکستان کا مجموعی سکور 105 رنز تھا۔

یہ بھی پڑھیے

راولپنڈی ٹیسٹ میچ میں دو سنچریاں بنانے والے امام الحق اور کپتان بابر اعظم نے لنچ تک سست روی سے بلے بازی کا سلسلہ جاری رکھا اور پاکستان کی رن بنانے کی اوسط فی اوور تین رنز سے کم ہی رہی۔

کھانے کے وقفے کے فوراً بعد لیون کی امام الحق کو ایک مخصوص لائن پر کھلانے کی مشق اس وقت بارآور ثابت ہوئی جب وہ سلی مڈآف پر سٹیو سمتھ کو کیچ دے بیٹھے۔

کرکٹ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اس نقصان کے بعد پاکستانی بلے باز مزید محتاط ہو گئے اور واضح نظر آنے لگا کہ ان کا مقصد اب میچ ڈرا کرنا ہے۔

تاہم آسٹریلوی بولرز کی جانب سے مثبت بولنگ کا ثمر انھیں جلد ہی فواد عالم کی وکٹ کی شکل میں ملا۔ پہلی اننگز میں مچل سٹارک کی گیند پر بولڈ ہونے والے فواد کو اس مرتبہ کپتان پیٹ کمنز نے ایل بی ڈبلیو کیا۔ فواد عالم نے علیم ڈار کے فیصلے کے خلاف تھرڈ امپائر سے مدد چاہی مگر وہ بھی ان کے کام نہ آ سکے۔

کراچی ٹیسٹ میں آسٹریلوی بولرز کے سامنے ڈٹ جانے والے محمد رضوان اس میچ میں اپنا وہی کردار نہ نبھا سکے اور بغیر کوئی رن بنائے کمنز کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہو کر آسٹریلوی کپتان کی دوسری وکٹ بنے۔ ری پلے میں دیکھا جا سکتا تھا کہ گیند ان کے پیر پر آف سٹمپ سے باہر لگی تھی لیکن رضوان نے امپائر کے فیصلے کے خلاف ریویو نہ لینے کا فیصلہ کیا اور پویلین لوٹ گئے۔

آسٹریلوی ٹیم آخری دن بابر اعظم کی وکٹ لینے کے دو مواقع سے فائدہ اٹھانے میں ناکام رہی۔ اننگز کے 76ویں اوور میں آسٹریلوی کپتان نے امپائر کی جانب سے بابر کو ناٹ آؤٹ قرار دیے جانے کے بعد ریویو لینے میں تاخیر کی جبکہ ری پلے میں دیکھا جا سکتا تھا کہ گیند ان کے بلے سے چھو کر فیلڈر کے پاس گئی تھی۔

اس کے چار اوورز کے بعد نیتھن لیون کی گیند پر ہیڈ بابر کا کیچ لینے میں ناکام رہے اور یوں بابر کو ایک اور نئی زندگی ملی۔

امام الحق

،تصویر کا ذریعہGetty Images

چائے کے وقفے کے بعد بابر نے نصف سنچری تو مکمل کی لیکن 55 کے سکور پر لیون نے ہی انھیں سمتھ کے ہاتھوں کیچ کروا کے ان کی اننگز کا خاتمہ کر دیا۔ اگلے ہی اوور میں مچل سٹارک نے ساجد خان کو کیچ کروا کے اپنی ٹیم کو ساتویں کامیابی دلوا دی۔

نیتھن لیون نے حسن علی اور شاہین آفریدی کو آؤٹ کر کے نہ صرف آسٹریلیا کو فتح سے ایک وکٹ دور لا کھڑا کیا بلکہ اننگز میں پانچ وکٹیں بھی مکمل کر لیں۔

کرکٹ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

آسٹریلیا کے لیے دسویں وکٹ کپتان پیٹ کمنز نے نسیم شاہ کو بولڈ کر کے حاصل کی۔ یہ اس اننگز میں ان کی تیسری اور میچ میں آٹھویں وکٹ تھی۔

لاہور ٹیسٹ میں آسٹریلیا نے ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کا فیصلہ کیا تھا اور پہلی اننگز میں 391 رنز بنائے تھے۔ جواب میں پاکستانی ٹیم مڈل اور لوئر آرڈر کی ناکامی کی وجہ سے 268 رنز ہی بنا پائی تھی۔دوسری اننگز میں آسٹریلیا نے تین وکٹوں کے نقصان پر 227 رنز بنا کر اننگز ڈیکلیئر کر دی تھی اور یوں پاکستان کو فتح کے لیے ڈیڑھ دن میں 351 رنز کا ہدف ملا تھا۔

خیال رہے کہ اس میچ میں فتح کی صورت میں جہاں ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن شپ کے پوائنٹس ٹیبل پر آسٹریلیا کی پہلی پوزیشن تو برقرار رہے گی وہیں پاکستان شکست کی وجہ سے اپنی دوسری پوزیشن کھو کر چوتھے نمبر پر چلا جائے گا۔