سمیع چوہدری کا کالم: 'یہاں ریورس سوئنگ تو ہونا ہی تھی مگر ۔ ۔ ۔

کمنگز

،تصویر کا ذریعہPCB

،تصویر کا کیپشنجس انداز سے دونوں اوپنرز آؤٹ ہوئے، یہ پی پیس کے خلاف پاکستانی بیٹنگ کی دیرینہ کوتاہیوں کا بھی عکاس ہے
    • مصنف, سمیع چوہدری
    • عہدہ, کرکٹ تجزیہ کار

کراچی ٹیسٹ کے لیے بچھائی گئی اس پچ کے کیوریٹربھی پچھلے میچ کی طرح امام الحق کے کوئی رشتہ دار نہیں تھے بلکہ 'نیوٹرل' تھے۔ جو پاکستان کی آب و ہوا اور جیسی سال خوردہ وکٹیں انھیں میسر ہیں، اس کے مطابق انھوں نے اپنی سی کوشش کی۔

اب یہ تو قسمت کی بات ہے کہ جس دلدل میں اس وقت پاکستان گھرا ہے، یہاں آسٹریلیا بھی ہو سکتا تھا اگر کمنز ٹاس نہ جیتتے۔ لیکن اگر یہ کہا جائے کہ پہلے دو دن یہ پچ راولپنڈی کی طرح بے جان ہی تھی تو بالکل ذرا مبالغہ ہو گا۔ دراصل یہ آسٹریلوی بیٹنگ کی شاہکار پرفارمنس اور پاکستانی بولنگ کی کوتاہ ہمتی تھی کہ پچ ایسی بے ضرر دکھائی دی۔

اور بولنگ سے بھی بڑھ کر یہاں پاکستان کے لیے بڑی پریشانی بابر اعظم کی کپتانی تھی جو میچ کی چال کو سرے سے سمجھ ہی نہ پائے۔ پہلے روز جب شام کے سیشن میں ہلکی سی ریورس سوئنگ دیکھنے کو ملی تو بابر اعظم نے گیند حسن علی اور شاہین آفریدی کی بجائے سپنرز کو تھما دی۔

تزویراتی اعتبار سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ بابر اعظم اپنے پیسرز کو نئی گیند کے لیے تازہ دم ہونے کا وقفہ فراہم کر رہے تھے مگر سوال تو یہ ہے کہ جب اس وکٹ پہ پہلے نئی گیند سے کچھ نہیں ہو پایا تھا تو دوسری نئی گیند کیا چمتکار کر لیتی؟

یہ بھی پڑھیے:

ڈیٹا کے شواہد کے علاوہ جو بات ہمیشہ وسیم اکرم اور وقار یونس بھی کراچی کی وکٹ بارے دہراتے آئے ہیں کہ یہاں شام کے سیشن میں پرانی گیند ریورس سوئنگ ہونے لگتی ہے، تو یہ خاصا ناقابلِ فہم ہے کہ اتنی اہم بات بابر اعظم کیسے نظر انداز کر گئے۔

کیونکہ ڈیٹا اور دو لیجنڈز کی گواہی کے علاوہ منطق اور سائنس بھی یہی بتلاتی ہے کہ ساحلی علاقوں میں شام کے وقت چلنے والی سمندری ہوائیں گیند کے پرانے چمڑے کی حرکت پہ اثر انداز ہوتی ہیں اور ریورس سوئنگ پیدا ہوتی ہے۔ ان کے برعکس کمنز نے وکٹ لینے کے باوجود لیون کو اٹیک سے ہٹا دیا کہ تب سپن نہیں، ریورس سوئنگ کا وقت تھا۔

بابر اعظم

،تصویر کا ذریعہPCB

،تصویر کا کیپشنبابر اعظم نے ریورس سوئنگ کا موقع سونگھتے ہی گیند سپنرز کو تھما کر نئی گیند کا انتظار شروع کر دیا

جبکہ بابر اعظم نے ریورس سوئنگ کا موقع سونگھتے ہی گیند سپنرز کو تھما کر نئی گیند کا انتظار شروع کر دیا۔ حالانکہ یہ بات بابر اعظم سے زیادہ کسے معلوم ہو گی کہ ریورس سوئنگ صرف پرانا بال ہی ہو سکتا ہے۔

اور پھر فہیم اشرف کا استعمال بھی خلجان بھرا تھا، کہ جب وہ دونوں ساتھی پیسرز کی نسبت زیادہ کارآمد اور مؤثر ثابت ہو رہے تھے تو ان سے اتنے کم اوورز کیوں کروائے گئے۔ حالانکہ نعمان علی کے کوٹے کے ہی کچھ اوورز اگر فہیم نے پھینکے ہوتے تو پاکستانی بولنگ کی خجالت ذرا کم ہو سکتی تھی۔

یہ بات تو بالکل ہی ناقابلِ فہم ہے کہ دہائیوں کا تجربہ رکھنے والے ثقلین مشتاق اور محمد یوسف اس پچ کی تیسرے دن کی صورت حال سے آگاہ ہی نہ تھے اور اپنے کھلاڑیوں کو کوئی واضح پلان ہی نہ دے پائے۔ کیونکہ یہ تو طے تھا کہ سٹارک یہاں ریورس سوئنگ کریں گے اور وہ بھی ڈیڑھ سو کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے۔

سوال یہ تھا کہ پاکستان سٹارک کے جواب میں کیا لائے گا؟

اور جو جواب پاکستان اس کوالٹی ریورس سوئنگ اور پیس کے سامنے لایا، وہ کسی بھی زاوئیے سے حیران کن نہیں تھا۔ ہاں اگر کوئی پاکستان کی ٹیسٹ کرکٹ سے زیادہ شناسا نہ ہو تو وہ ضرور متحیر ہو سکتا ہے کہ پچھلے میچ میں سینچریوں کی ڈھیری لگانے والی بیٹنگ لائن اچانک بے اثر سی کیوں ہو گئی۔

2010 کے بعد سے اب تک پاکستان نے جتنی بھی ٹیسٹ کرکٹ کھیلی ہے، اس میں یہ بیٹنگ لائن ہمیشہ سپنرز کو مغلوب کر کے بڑے مجموعے جوڑتی آئی ہے۔ اس ٹاپ آرڈر اور مڈل آرڈر میں کبھی بھی پیس کے خلاف جارحیت دکھانے والا کوئی مؤثر بلے باز رہا ہی نہیں۔

بابر اعظم

،تصویر کا ذریعہPCB

،تصویر کا کیپشنسوال یہ تھا کہ پاکستان سٹارک کے جواب میں کیا لائے گا؟

مصباح اور یونس کی لمبی پارٹنرشپس ہوں یا پھر اظہر علی اور اسد شفیق کی پے در پے سینچریاں، سب سپن پہ غلبے کا نتیجہ تھیں جبکہ پیس کے خلاف تب بھی پاکستانی بلے باز خاموش خاموش سے نظر آیا کرتے تھے۔

سو، یہاں جب سوا دو دن کی تھکاوٹ کے بعد بھی پاکستان کو بیٹنگ کے لیے کمنز کی اجازت کا ہی انتظار کرنا پڑا تو تب تک یہ بات پاکستان کو ذہن نشین ہو چکی ہونا چاہئے تھی کہ اس میچ سے باعزت انخلا کا صرف ایک ہی راستہ ہے کہ سکور بورڈ کی بجائے گھڑی کو دیکھ کر بیٹنگ کی جائے۔

لیکن جس انداز سے دونوں اوپنرز آؤٹ ہوئے، یہ پی ایس ایل کے 'ہینگ اوور' اور شیڈولنگ کی مشکلات کے ساتھ ساتھ، پیس کے خلاف پاکستانی بیٹنگ کی دیرینہ کوتاہیوں کا بھی عکاس ہے۔ پلان یہ تھا کہ سٹرائیک بدلتے رہنے سے آسٹریلوی پیسرز کو ہم آہنگ ہونے کا موقع نہیں دیا جائے گا مگر نتیجہ یہ کہ خود ہی میچ سے ہم آہنگ نہیں ہو پائے۔ بھلا ٹیسٹ میچ میں رن آؤٹ کی نوبت ہی کیوں؟

جو نفسیاتی شکنجہ آسٹریلوی پیسرز نے پاکستان کے گرد کس دیا ہے، اس سے نکلنے کے لئے پاکستانی بیٹنگ لائن کو کوئی تاریخ ہی رقم کرنا ہو گی، یہاں محض مثبت کرکٹ سے بات بننے کی نہیں۔ یہ تو طے تھا کہ تیسرے دن کی اس شکستہ پچ پہ ریورس سوئنگ ہونا ہی تھی لیکن پاکستان وہ پندرہ اوورز کا مشکل مرحلہ اس سے بہت بہتر اور باوقار انداز میں گزار سکتا تھا جیسے اس نے گزارا۔