پی ایس ایل 7 پر سمیع چوہدری کا کالم: 'مگر وہاب نے اپنا کوٹہ پورا کیا'

وہاب

،تصویر کا ذریعہPCB

    • مصنف, سمیع چوہدری
    • عہدہ, کرکٹ تجزیہ کار

وہاب ریاض ایک دلچسپ بولر ہیں۔ جس رفتار سے وہ بولنگ کرتے ہیں، کسی بھی بیٹنگ لائن کے لئے ڈراؤنا خواب بن سکتے ہیں۔ اور جس دن وہاب اپنے جوبن پہ ہوں، شین واٹسن جیسوں کے بھی طوطے اڑا دیتے ہیں۔

لیکن جس دن وہاب ریاض کی فارم ساتھ نہ دے رہی ہو تو وہ اپنی ہی ٹیم کے لئے وہی ڈراؤنا خواب بن جاتے ہیں اور میلوں دور سے تحسین کے لئے آئے تماشائی انہی کی بولنگ پہ سر پیٹتے نظر آتے ہیں۔

یہ وہاب ریاض کی بری فارم کا دن تھا۔ اور یہ بری فارم ان کی بولنگ ہی نہیں، فہم و فراست پہ بھی اثر انداز ہوئی۔ ان کی کپتانی بھی عجیب و غریب فیصلوں میں گِھری نظر آئی۔

اسلام آباد یونائیٹڈ کے لیے ایلکس ہیلز کی واپسی ہی واحد خوشی کی خبر نہیں تھی بلکہ شاداب خان کی انجری سے بحالی اور حسن علی کی الیون میں شمولیت بھی تازہ ہوا کا جھونکا تھی۔ کیونکہ ان کھلاڑیوں کی عدم دستیابی سے ہی یونائیٹڈ کی شکستوں کی لڑی جڑی تھی۔

اور پھر گویا کسی سکرپٹ کے مانند پہلے حسن علی کی درستی نے زلمی کی بیٹنگ کو زک پہنچائی تو بیٹنگ میں وہی کام ہیلز کی کاوش نے دکھایا۔

یہاں زلمی صرف بدقسمتی کو ہی موردِ الزام نہیں ٹھہرا سکتی بلکہ کچھ کمی کوشش میں بھی رہ گئی۔ اگر شروع ہی میں ذرا حاضر دماغی دکھائی جاتی تو ہیلز کی اتنی لمبی اننگز شاید شروع ہی نہ ہو پاتی۔

اور پھر وہاب ریاض کے قائدانہ فیصلے تو یکسر ناقابلِ فہم تھے۔ جب علی ماجد تین اوورز میں مہنگے ثابت ہو چکے تھے تو سلمان ارشاد کو جلدی اٹیک میں کیوں نہ لایا گیا؟

اور پھر حسین طلعت جو پچھلے میچ کے ڈیتھ اوورز میں ایسے کلیدی ثابت ہوئے تھے، ان سے بولنگ ہی نہ کروائی گئی؟

اور پھر جب خدا خدا کر کے وہاب ریاض نے شعیب ملک کے مشورے پہ حسین طلعت کو آخری اوور پھینکنے کے لئے گیند تھما ہی دیا تھا تو پھر اچانک واپس ہاول کی طرف کیوں چلے گئے۔

ٹی ٹونٹی کے ڈیتھ اوورز میں جس طرح کی مار دھاڑ ہوتی ہے، وہاں ڈوائن براوو، ڈیوڈ ویزے اور لیوس گریگری جیسے بولرز اس لئے عموماً کارگر ثابت ہوتے ہیں کہ وہ رفتار کے بدلاؤ کے ساتھ کٹرز پھینکنے میں مہارت رکھتے ہیں۔ اسی لئے وہ بیٹسمین کے لئے غلطی کے مواقع پیدا کرتے ہیں۔

شاداب

،تصویر کا ذریعہPCB

یہ بھی پڑھیے

اور یہاں حسین طلعت کی شکل میں وہاب ریاض کو بھی ایسا ہی ایک آپشن دستیاب تھا۔ اور حسین طلعت نے پچھلے میچز میں خاصی موثر بولنگ بھی کر رکھی تھی مگر نجانے وہاب ریاض کو کیا سوجھی کہ ان سے رجوع ہی نہ کیا۔ قائدانہ سپیل پھینکنے کا جوش اپنی جگہ مگر ذرا دیکھ تو لیتے کہ تین اوورز میں انہیں کتنے رنز پڑ چکے تھے۔

سو بجائے اس کے کہ وہ ورائٹی اور کٹرز کے ماہر کو استعمال میں لاتے، وہاب ریاض خود وہی کچھ کرنے کی کوشش میں جُت گئے جو حسین طلعت بغیر کسی کوشش کے کر لیتے ہیں۔

زلمی نے بہت زبردست کرکٹ کھیلی۔ شعیب ملک کی اننگز قابلِ دید تھی۔ اور سلمان ارشاد کا سپیل تو ایسا تھا کہ جو دیکھے، سحر میں مبتلا ہو جائے۔ کمنٹری باکس میں وقار یونس مدح سرا تھے تو کریز پہ کھڑے ایلکس ہیلز غلطاں و پیچاں۔ مگر یہ سب کاوشیں بے ثمر رہ گئیں۔

اگر وہاب ریاض سلمان ارشاد کو ذرا پہلے اٹیک میں لے آتے اور اپنے حصے کے دو اوورز حسین طلعت کو بخش دیتے تو شاید نتیجہ مختلف ہو سکتا تھا۔ مگر انہوں نے اپنا کوٹہ پورا کیا اور ان کی فارم نے ہی زلمی کا اس ایونٹ میں سفر تمام کر دیا۔