پی ایس ایل: شاہنواز دھانی کی اچھی بولنگ کی بدولت ملتان سلطانز فائنل میں، لاہور قلندرز کو 28 رنز سے شکست

شاہنواز دھانی

،تصویر کا ذریعہPCB

    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

پاکستان سپر لیگ میں بدھ کی شب ملتان سلطانز نے کوالیفائر راؤنڈ میں لاہور قلندرز کو 28 رنز سے شکست دے کر لگاتار دوسرے سال پاکستان سپر لیگ کے فائنل میں قدم رکھ دیے ہیں۔

اگرچہ ملتان سلطانز نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے دو وکٹوں پر 163 رنز بنائے تھے لیکن شاہنواز دھانی اور ڈیوڈ ولی کی عمدہ بولنگ کے ذریعے زبردست کم بیک کرتے ہوئے انھوں نے لاہور قلندرز کو 135 رنز نو کھلاڑی آؤٹ پر محدود کر دیا۔

شاہنواز دھانی بھرے ہوئے قذافی سٹیڈیم کے سامنے مرکز نگاہ تھے۔ اُنھوں نے صرف 19 رنز دے کر تین وکٹیں حاصل کیں اور ایک غیر معمولی کیچ بھی لیا۔

تاہم لاہور قلندرز کے لیے فائنل تک رسائی کی امیدیں ختم نہیں ہوئی ہیں۔ وہ پہلے ایلیمنیٹر کی فاتح ٹیم سے جیت کر فائنل میں پہنچ سکتی ہے۔ پہلا ایلیمنیٹر جمعرات کو پشاور زلمی اور اسلام آباد یونائیٹڈ کے درمیان کھیلا جائے گا۔

ملتان سلطانز کی خاموش اننگز

شاہین شاہ آفریدی نے محمد رضوان کو پہلے ٹاس میں شکست دی اور پھر قلندرز کی عمدہ بولنگ نے اُنھیں کھل کر کھیلنے نہیں دیا۔ اگرچہ اُنھوں نے نصف سنچری ضرور سکور کی لیکن یہ کہیں 19 ویں اوور میں جا کر مکمل ہوئی۔ اس کے برعکس ملتان سلطانز کا سکور دو وکٹوں کے نقصان پر 163 رنز تک لانے میں رائلے روسو کی نصف سنچری اہمیت کی حامل رہی۔

ملتان سلطانز کو بڑے سکور تک روکے رکھنے میں لاہور قلندرز کے سپنرز محمد حفیظ اور سمت پاٹل کا کردار بہت اہم رہا جنھوں نے اپنے آٹھ اوورز میں صرف 47 رنز دے کر دو وکٹیں حاصل کیں۔

لاہور قلندرز

،تصویر کا ذریعہPCB

ملتان سلطانز نے یہ میچ جارحانہ بیٹنگ کے لیے مشہور ٹم ڈیوڈ کے بغیر کھیلا جن کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ کووڈ میں مبتلا ہیں۔

سلطانز کو ابتدا ہی میں شان مسعود کا نقصان برداشت کرنا پڑا جن کے لیے لگاتار دوسرے میچ میں دو ہندسوں میں آئے بغیر آؤٹ ہونا تکلیف دہ تھا۔

عامر عظمت اپنے کپتان کے ساتھ 47 رنز کی شراکت قائم کر کے آؤٹ ہوئے جس میں ان کا اپنا حصہ پانچ چوکوں کی مدد سے 33 رنز کا رہا۔ ان کے اعتماد کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اُنھوں نے شاہین آفریدی کے ایک ہی اوور میں دو چوکے لگائے۔ یہی سلوک اُنھوں نے زمان خان کے ساتھ بھی روا رکھا تھا۔

لاہور قلندرز کے دونوں سپنرز محمد حفیظ اور سمت پاٹل نے رضوان اور رائلے روسو کو پانچ اوورز تک بڑے سٹروکس سے باز رکھا اس دوران صرف ایک چوکا دیکھنے میں آیا لیکن پھر تیز بولرز کے آنے کے بعد رنز کی رفتار میں کچھ تیزی آنی شروع ہوئی۔

رضوان اور رائلے کی شراکت نے سکور بورڈ پر تین ہندسے بھی سجائے اور روسو نے حارث رؤف کو ایک چوکا اور چھکا لگاتے ہوئے نصف سنچری بھی مکمل کی لیکن اسی اوور میں رضوان نے آؤٹ ہونے کے دو مواقع بھی فراہم کیے جن سے قلندرز کے فیلڈرز فائدہ نہ اٹھا سکے۔

رضوان نے 51 گیندوں کا سامنا کرتے ہوئے 53 رنز بنائے جس میں صرف تین چوکے شامل تھے۔ اس اننگز میں اُنھوں نے 13 وہ گیندیں کھیلیں جن پر کوئی رن نہ بن سکا۔

رائلے روسو نے 65 رنز کی اننگز 42 گیندوں پر کھیلی جس میں ملتان سلطانز کی اننگز کا واحد چھکا اور سات چوکے شامل تھے۔

دونوں نے تیسری وکٹ کی شراکت میں 113 رنز کا اضافہ 79 گیندوں پر کیا۔

لاہور قلندرز

،تصویر کا ذریعہPCB

شاہنواز دھانی چھا گئے

لاہور قلندرز کا آغاز بھی اچھا نہ رہا اور وہ 48 رنز پر وہ تین اہم وکٹوں سے محروم ہو چکے تھے۔ عبداللہ شفیق پانچ رنز بنا کر آصف آفریدی کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہوئے۔ کامران غلام 20 رنز بنا کر شان مسعود کی گیند پر رن آؤٹ ہوئے اور محمد حفیظ تیسری ہی گیند کا سامنا کرتے ہوئے بغیر کوئی رن بنائے خوشدل شاہ کی بولنگ پر رضوان کے ہاتھوں سٹمپڈ ہو گئے۔

فخر زمان اور ہیری بروک نے ابتدا میں جوش کے بجائے ہوش سے کام لیا کیونکہ سامنے عمران طاہر جیسا ذہین بولر ہو تو پھر احتیاط لازم ہے لیکن پھر اسی عمران طاہر کے فخر زمان نے چھکے چھڑا دیے۔

فخر زمان نے عمران طاہر کے تیسرے اوور میں لگاتار تین چھکے مارے اور جب خوشدل شاہ سامنے آئے تو ایک اور چھکے سے گیند کو ڈیپ مڈ وکٹ باؤنڈری کے پار پہنچا دیا۔ ان دو اوورز نے ملتان سلطانز کے ہیڈ کوچ اینڈی فلاور کے چہرے پر پریشانی پیدا کر دی اور وہ اور بولنگ کوچ اوٹس گبسن سٹریٹجک ٹائم میں رضوان اور شاہنواز دھانی کو سمجھاتے نظر آئے۔

یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ شاہنواز دھانی اپنے پہلے ہی اوور میں ہیری بروک کو 13 رنز پر ایل بی ڈبلیو کر کے لاہور قلندرز کو چوتھا نقصان پہنچا گئے۔

اگلے اوور میں ڈیوڈ ولی کے مہلک وار نے لاہور قلندرز کو ہلا کر رکھ دیا کیونکہ گرنے والی وکٹ فخر زمان تھی جو 63 رنز بنا کر ایل بی ڈبلیو ہوئے۔ ان کی 45 گیندوں کی اننگز میں دو چوکے اور چار چھکے شامل تھے۔

یہ بھی پڑھیے

ملتان سلطانز

،تصویر کا ذریعہPCB

ابھی قلندرز اس جھٹکے سے سنبھلی بھی نہ تھی کہ شاہنواز دھانی نے فل سالٹ کو بھی ایک رن پر پویلین کی راہ دکھا دی۔ یہ تین وکٹیں صرف 12 گیندوں پر گری تھیں۔

شاہنواز دھانی کا کام یہیں ختم نہیں ہو گیا بلکہ اُنھوں نے ڈیوڈ ولی کی گیند پر سمت پاٹل کا ڈیپ مڈ وکٹ پر ڈائیو مارک خوبصورت کیچ لے کر قلندرز کی مایوسی میں مزید اضافہ کر دیا۔

لاہور قلندرز کو آخری تین اوورز میں 42 رنز درکار تھے۔ کریز پر نئے بیٹسمین کپتان شاہین آفریدی تھے جنھوں نے زلمی کے خلاف چار چھکوں کی نہ بھولنے والی اننگز کھیلی تھی لیکن اس مرتبہ شاہنواز دھانی نے اُنھیں ایک رن پر بولڈ کر دیا۔

ڈیوڈ ویزے رومان رئیس کی گیند پر آٹھ رنز بنا کر ایل بی ڈبلیو ہوئے تو لاہور قلندرز کے حامی تماشائی گراؤنڈ سے باہر جانا شروع ہو گئے تھے۔

میچ کا آخری اوور شاہنواز دھانی کروانے آئے تو حارث رؤف اور زمان خان کے لیے 36 رنز بنانا ایورسٹ سر کرنے کے مترادف ہو چکا تھا۔ لیکن حارث رؤف نے پہلی گیند پر چھکا مارا تب بھی دھانی کے چہرے پر مسکراہٹ تھی کیونکہ اس کے بعد صرف وائیڈ کا ایک رن بن سکا۔

شاہنواز دھانی، رضوان، رضوان

،تصویر کا ذریعہTwitter

’دھانی کو میچ سے باہر رکھنا ممکن نہیں‘

سوشل میڈیا پر جہاں لاہور قلندرز کے فینز اپنی ٹیم کی شکست پر مایوس ہیں وہیں ملتان سلطانز کے حامی دھانی کے حوصلے کی داد دے رہے ہیں۔

اس دوران سابق پاکستانی کپتان شاہد آفریدی کو ’یہ دیکھ کر بہت خوشی ہوئی کہ دھانی آج بھی اپنی ناقابل یقین صلاحیت کو اسی طرح استعمال کر رہے ہیں جیسے وہ اس سے پچھلے سال پرفارم کر رہے تھے۔‘

ایک صارف نے لکھا کہ لاہور قلندرز کے کپتان شاہین شاہ آفریدی نوجوان مگر سمجھدار ہیں۔ ’جب بھی لاہور قلندرز کو شکست ہوئی، شاہین شاہ آفریدی نے سب سے پہلے جس چیز کے بارے میں بات کی وہ اپوزیشن کو ان کی کارکردگی کا کریڈٹ دینا ہے اور وہ پی ایس ایل 2022 جیتنے کے مستحق ہیں۔‘

دھانی

،تصویر کا ذریعہTwitter

وہ مزید کہتے ہیں کہ ’دھانی کو میچ سے باہر رکھنا ممکن نہیں۔‘

ملتان کے کپتان محمد رضوان کی تعریف کرتے ہوئے زینب عباس کہتی ہیں کہ ان کی کپتانی آج شاندار رہی ہے۔ ان کے مطابق وہ وقت پر دھانی کو لائے، فیلڈ کو بہترین سیٹ کیا اور بولنگ میں صحیح موقع پر تبدیلیاں کیں۔