فاطمہ ثنا کا گلی کرکٹ سے ایمرجنگ پلیئر آف دی ایئر تک کا سفر: ’ابھی تو میرے سفر کا آغاز ہوا ہے‘

فاطمہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کی جانب سے پاکستان کرکٹ ٹیم کی فاسٹ بولر فاطمہ ثنا کو سال کی بہترین ابھرتی ہوئی کھلاڑی کا اعزاز دیا گیا ہے۔

اس سے قبل خواتین کی سال کی بہترین ایک روزہ میچوں کی ٹیم میں بھی 20 سالہ فاطمہ ثنا کو شامل کیا گیا ہے۔ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ پاکستان کی کسی خاتون کھلاڑی کو آئی سی سی کا سالانہ ایوارڈ دیا گیا ہے۔

فاطمہ ثنا نے سنہ 2021 میں ایک روزہ میچوں میں 24 کی اوسط سے 20 وکٹیں حاصل کیں، جس میں ایک فائیور بھی شامل تھا۔

کراچی سے تعلق رکھنے والی فاطمہ ثنا کی کرکٹ کی کہانی کا آغاز روایتی انداز میں گلیوں میں کرکٹ کھیل کر ہی ہوا تھا۔ گھر میں سب سے چھوٹی اور لاڈلی بہن ہونے کے ناتے وہ اپنے بھائیوں کے ساتھ کرکٹ کھیلنے جایا کرتیں اور یوں یہ شوق جنون میں بدل گیا۔

فاطمہ ثنا نے سنہ 2019 میں جنوبی افریقہ کے خلاف سیریز میں ڈیبیو کیا تھا جہاں انھیں ڈیانا بیگ کی جگہ ٹیم میں کھلایا گیا تھا۔ فاطمہ نے آغاز میں ہی اپنی بولنگ سے سب کو متاثر کیا تھا۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 1

سنہ 2020 میں بھی فاطمہ نے اپنی بہترین کارکردگی جاری رکھی اور انھیں پی سی بی کی جانب سے سال 2020 کی ابھرتی ہوئی کھلاڑی کا ایوارڈ دیا گیا۔

تاہم سنہ 2021 فاطمہ کے لیے بہترین سال ثابت ہوا اور انھوں نے اس سال ویسٹ انڈیز کے خلاف ایک میچ میں پانچ کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا، یہ آٹھ برس کے بعد پہلی مرتبہ تھا کہ پاکستان کی طرف سے کسی بولر نے پانچ کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا ہو۔ اس سے قبل سعدیہ یوسف نے سنہ 2013 میں آئرلینڈ کے خلاف فائیو فار لیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

فاطمہ نے اس میچ میں اپنی آلراؤنڈ قابلیت بھی دکھائی تھی اور بہترین بیٹنگ کا مظاہرہ بھی کیا تھا۔

فاطمہ

،تصویر کا ذریعہTwitter/@FatimaSana

پانچ بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹی فاطمہ ثنا نے کراچی ریجن سے انڈر 16 اور انڈر 19 کرکٹ کھیلی جس کے بعد پہلے انھیں پاکستان اے میں جگہ ملی اور یہ منزلیں طے کرتے ہوئے وہ پاکستان کرکٹ ٹیم تک پہنچیں۔

اپنے گذشتہ انٹرویوز میں فاطمہ کی جانب سے یہ کہا گیا ہے کہ وہ انگلش فاسٹ بولر جیمز اینڈرسن سے بہت متاثر ہیں۔ تاہم سال 2021 فاطمہ کی جانب سے بہترین بولنگ کا مظاہرہ کیا گیا اور انھوں نے ویمنز کرکٹ کے لیے مجموعی طور پر ایک مشکل سال میں اچھی کارکردگی دکھائی۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 2

فاطمہ دنیا کی بہترین فاسٹ بولر بننے کا خواب دیکھتی ہیں اور ان کی پسندیدہ کھلاڑی ثنا میر ہیں۔ وہ اپنے گذشتہ انٹرویوز میں بھی یہ بات کر چکی ہیں اور ان کی ایک رشتہ دار کا بھی یہی کہنا تھا کہ انھیں ان کے گھر کی جانب سے مکمل معاونت ملی ہے اور ان کے بھائیوں اور والد کے ساتھ ساتھ والدہ نے بھی ان کی خوب ہمت بندھائی ہے۔

فاطمہ ثنا نے ایک ٹویٹ میں مبارکباد دینے والوں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ’ابھی تو میرے سفر کا آغاز ہوا ہے۔‘

عروج

،تصویر کا ذریعہTwitter/@uroojmumtazkhan

فاطمہ ثنا کو مبارکبادیں دینے کا سلسلہ اب بھی جاری ہے اور ساتھی کرکٹرز کے علاوہ وزیرِ انسانی حقوق شیریں مزاری کی جانب سے بھی انھیں مبارکباد دی گئی ہے۔

پاکستان کے سابق وکٹ کیپر کامران اکمل نے فاطمہ ثنا کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ پورے ملک کو آپ پر فخر ہے۔

جبکہ شان نامی ایک صارف نے لکھا کہ ’کراچی کی گلیوں سے انٹرنیشنل کرکٹ تک فاطمہ ثنا وہ کھلاڑی ہیں جنھوں نے پہلی بار آئی سی سی ایوراڈ جیتا ہے۔ ثنا ہمیں تم پر فخر ہے۔

مرینا

،تصویر کا ذریعہTwitter/@MarinaMI24

پاکستان ویمن کرکٹ ٹیم کی سابق سیلیکٹر عروج ممتاز نے لکھا کہ ’فاطمہ ہمیں تم پر بہت فخر ہے۔ یہ ایک بہترین آغاز ہے اور میں تمھیں ایک بہترین کریئر کے دعا دیتی ہوں۔ پاکستان کے لیے ایسے ہی قابلِ فخر بنتی رہو۔‘

کمنٹیٹر مرینا اقبال نے لکھا کہ ’یہ صرف ایک آغاز ہے۔ ان کے بارے میں سب سے اچھی بات یہ ہے کہ یہ سیکھنا چاہتی ہیں اور سب بڑے لیول پر پرفارم کرنا چاہتی ہیں۔‘