وقار یونس کی ’ہندوؤں کے بیچ نماز‘ سے متعلق بیان پر معافی: ’کرکٹ تو متحد کرتی ہے تقسیم نہیں‘

وقار

،تصویر کا ذریعہGetty Images

پاکستان اور انڈیا کا کرکٹ میچ ہو اور بات صرف گراؤنڈ تک ہی محدود رہے، یہ کم کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔ یہ میچ کھیل ہی نہیں بلکہ ایک ایسی تقریب کی شکل اختیار کر جاتا ہے جس کے بارے میں میچ سے پہلے اور بہت بعد تک باریک بینی سے تجزیے کیے جاتے ہیں۔

میچ سے پہلے دونوں ملکوں کے ٹی وی چینل مل کر ’ٹاکرے‘ ٹیلی کاسٹ کرتے ہیں، میچ کے دوران میراتھان ٹرانسمیشنز ہوتی ہے جبکہ میچ کے بعد نتیجے کے اعتبار سے تنقید یا تعریف کی جاتی ہے اور اس دوران اکثر سابق کھلاڑی اور تجزیہ کار جوش خطابت میں ایسی باتیں بھی کہہ جاتے ہیں جو وہ عام حالات میں کرنے سے گریز کرتے ہیں۔

منگل کو جب پاکستان نے ورلڈ کپ مقابلوں کی تاریخ میں انڈیا کو پہلی مرتبہ شکست دی تو اس جیت کا جشن اگلے روز بھی منایا جاتا رہا اور اس حوالے سے ٹی وی ٹاک شوز پر پاکستان کی فتح کی کہانی ہی موضوع بحث رہی۔

ایسے ہی ایک ٹاک شو پر پاکستان کے سابق کپتان اور فاسٹ بولر وقار یونس سے بھی ایسے ہی کلمات ادا ہوئے جن کے بارے میں سرحد پار خاص طور پر تنقید کی جا رہی ہے۔

انھوں نے میچ کے سب سے بہترین لمحات کا ذکر کرتے ہوئے رضوان کی بیٹنگ کے بارے میں بات کی اور پھر کہا کہ ’سب سے اچھی بات جو رضوان نے کی، اس نے ماشااللہ گراؤنڈ میں ہندوؤں کے بیچ میں کھڑے ہو کر نماز پڑھی اور یہ میرے لیے بہت خاص تھا۔‘

انڈیا کے معروف کمنٹیٹر ہرشا بھوگلے نے اس حوالے سے وقار یونس جیسے انسان کا یہ کہنا کہ 'رضوان کا ہندوؤں کے درمیان نماز پڑھنا ان کے لیے سپیشل تھا، میرے لیے انتہائی مایوس کن باتوں میں سے ایک ہے۔

ہرشا بھوگلے

،تصویر کا ذریعہTwitter/bhogleharsha

’ہم میں سے اکثر لوگ ایسی باتوں کو نظر انداز کرنے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں اور کھیل کے بارے میں بات کرتے ہیں، لیکن یہ بات سُننا انتہائی تکلیف دہ تھا۔‘

انھوں نے مزید لکھا کہ ’مجھے امید ہے کہ پاکستان میں کھیل سے صحیح معنوں میں محبت کرنے والوں کو اس بیان کا خطرناک پہلو نظر آیا ہو گا اور وہ اس بارے میں مایوسی کا اظہار کرنے میں میرا ساتھ دیں گے۔ ایسے بیانات سے کھیلوں سے محبت کرنے والوں کو لوگوں کو یہ بتانے میں بہت مشکل ہوتی ہے کہ یہ صرف کھیل ہے، ایک کرکٹ میچ ہے۔‘

'آپ امید کرتے ہیں کہ کرکٹرز ہمارے کھیل کے سفیر ہوتے ہیں اس لیے وہ زیادہ ذمہ داری کا ثبوت دیں گے۔ ہمیں کرکٹ کی دنیا کو متحد کرنا ہے اسے مذہبی بنیادوں پر تقسیم نہیں کرنا۔'

ہرشا بھوگلے کی ٹویٹ کے بعد جہاں دیگر افراد کی جانب سے بھی وقار پر تنقید کی گئی، وہیں وقار یونس کی جانب سے اب اس حوالے سے معافی بھی مانگی گئی ہے۔

وقار یونس نے معافی میں کیا کہا؟

اے سپورٹس کے پروگرام پویلین میں پاکستان اور نیوزی لینڈ کے میچ کے بعد نشریات کے اختتام پر بات کرتے ہوئے وقار یونس کا کہنا تھا کہ ’میری نیت کبھی بھی ایسی نہیں تھی اور نہ میں کبھی مذہب پر بات کرتا ہوں یا پنگا لیتا ہوں، میں بہت پرجوش تھا کہ پاکستان میچ جیت گیا اور اس جوش میں میں نے رضوان کے نماز پڑھنے سے متعلق بات کرتے ہوئے کچھ ایسے الفاظ کہہ دیے جس سے ہو سکتا ہے کہ کسی کے جذبات مجروح ہوئے ہوں۔‘

’میں معافی مانگتا ہوں اگر کسی کو میری وجہ سے تکلیف ہوئی ہے۔ میرا کہنا کا مطلب یہ ہرگز نہیں تھا، یہ ایک میچ کے بارے میں تھا، اور جوش خطابت میں ایسا ہو جاتا ہے، میں معافی مانگتا ہوں۔‘

X پوسٹ نظرانداز کریں
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام

یہاں شو کے میزبان فخر عالم نے کہا کہ ’دوسرے ملک سے اس پر جو ردِ عمل آ رہا ہے اس میں شاید پاکستان کی جیت کا بھی عمل دخل ہو۔‘ اس پر وقار یونس نے کہا کہ ’یہ بھی میں کہنا چاہتا تھا کہ کیونکہ پاکستان میچ جیتا تو اسے زیادہ بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا کیونکہ ان کے پاس کوئی اور وجہ نہیں تھی، لیکن پھر بھی میں یہ سمجھتا ہوں کہ مجھے یہ نہیں کہنا چاہیے تھا، یہ غلط تھا، اس لیے آگے بڑھتے ہیں۔‘

یہ بھی پڑھیے

اس پروگرام میں معافی مانگنے کے کچھ ہی دیر بعد وقار یونس نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے بھی ٹویٹ کی اور معافی مانگنے کے بعد لکھا کہ ’کھیل لوگوں کو نسل، رنگ اور مذہب کی تفریق سے بالاتر ہو کر متحد کرتے ہیں۔‘

سوشل میڈیا پر ردِ عمل

بختاور

،تصویر کا ذریعہTwitter/BakhtawerShaikh

ایک صارف بختاور شیخ نے اس بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ 'بطور مسلمان مجھے فخر تھا کہ (رضوان) نے نماز نہیں چھوڑی اور اس کے لیے وقت نکالا۔ لیکن بس بات یہیں تک تھی۔ اس سے ان کا ہندوؤں کے درمیان نماز پڑھنے وغیرہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ مجھے وقار یونس کے اس بیان پر بہت مایوسی ہوئی ہے۔ پتا نہیں کب میچور ہوں گے ہم۔'

ولید

،تصویر کا ذریعہTwitter/@Waleedfarrukh

صارف ولید فرخ نے ہرشا بھوگلے کی بات سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ ہم بھی یہی چاہتے ہیں کہ کھیل سے سیاست اور مذہب کو نہ جوڑا جائے لیکن ہمارے ملک میں کچھ افراد پوائنٹ سکور کرنے اور دائیں بازو کے افراد میں مقبولیت کے لیے اییسے بیانات دیتے ہیں۔ ایسے لوگ دونوں ہی ممالک میں ہیں۔

نسیم

،تصویر کا ذریعہTwitter/@NA__SR__EEN3

نسرین نامی صارف نے لکھا کہ ’رضوان نے تو صحیح کیا۔ نماز ہر چیز سے پہلے آنی چاہیے، اس میں کچھ غلط نہیں تھا اور میرے خیال میں کسی کو برا بھی نہیں لگا۔ لیکن جو وقار نے کہا وہ غلط تھا، اور 'ہندوؤں کے بیچ' جیسے الفاظ کا استعمال انتشار اور تقسیم پیدا کرتا ہے۔ یہ بہت غیر ذمہ دارانہ الفاظ تھے۔‘

’یہ وقار یونس کی جانب سے مضحکہ خیز بات، بالکل مضحکہ خیز۔ اور یہ بیان رضوان کی جانب سے شامی کے لیے پوسٹ کیے گئے بہترین پیغام کے لیے بھی انتہائی نقصان دہ ہے۔‘