نیوزی لینڈ اور انگلینڈ کے دورے منسوخ: کیا پاکستان کے مالی نقصان کا ازالہ ممکن ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
گذشتہ چند دنوں میں نیوزی لینڈ اور انگلینڈ کی ٹیموں کی جانب سے پاکستان کے دورے منسوخ کرنے کی وجہ سے جہاں شائقین کے دل افسردہ ہیں تو وہیں یہ سوال بھی پوچھا جا رہا ہے کہ اس سے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کو ہونے والے نقصان کا ازالہ کیسے ہوگا۔
اب پاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے اپنی ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’نیوزی لینڈ اور انگلینڈ کے دوروں کی منسوخی سے پاکستان ٹیلی ویژن کو کروڑوں روپے کا نقصان ہوا۔ دونوں بورڈز کے خلاف قانونی کارروائی کے لیے وکلا سے مشورہ کریں گے۔‘
اس میں کوئی شک نہیں کہ نیوزی لینڈ کی ٹیم کے میچ شروع ہونے سے کچھ دیر پہلے کھیلنے سے انکار اور وطن واپس چلے جانے اور پھر انگلینڈ کی ٹیم کے پاکستان نہ آنے کے فیصلے سے پاکستان کرکٹ بورڈ اور پاکستان ٹیلی ویژن کو بے تحاشہ مالی نقصان ہوا ہے۔
بی بی سی کو ملنے والی معلومات کے مطابق ان دونوں ٹیموں کے دورے نہ ہونے سے ہونے والے نقصان کی مالیت تقریباً 40 کروڑ روپے ہے، چونکہ نیوزی لینڈ ٹیم کے خلاف ہونے والی سیریز کے تمام مالی معاہدے ُبک ہو چکے تھے، لہٰذا اس مد میں یہ نقصان تقریباً 20 کروڑ روپے بتایا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ اور پاکستان ٹیلی ویژن کے درمیان 2020 سے 2023 تک کا معاہدہ ہے جس کی آمدنی ریوینیو شیئر ماڈل کے تحت ان دونوں اداروں میں تقسیم ہوتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہTwitter
دوسری جانب پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین رمیز راجہ نے پیر کے روز اپنے ویڈیو پیغام میں واضح طور پر کہا ہے کہ نیوزی لینڈ کی ٹیم کے اچانک چلے جانے سے جو مالی نقصان پاکستان کرکٹ بورڈ کو ہوا ہے وہ ضرور پورا ہو گا، وہ یہ معاوضہ نیوزی لینڈ سے دلوا کر رہیں گے اور اس سلسلے میں کوئی رعایت نہیں برتیں گے۔
رمیز راجہ نے منگل کے روز ہونے والی پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ مالی نقصان کے ازالے کے لیے آئی سی سی میں ایک پلیٹ فارم موجود ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ آئی سی سی کی ذیلی کمیٹی میں جائے گا جیسا کہ انگلینڈ کرکٹ بورڈ مانچسٹر ٹیسٹ نہ کھیلنے پر انڈین کرکٹ بورڈ کے خلاف اس کمیٹی میں گیا تھا۔
رمیز راجہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹیو ڈیوڈ وائٹ کے اس بیان سے سب نے یہ اندازہ لگا لیا ہوگا جس میں اُنھوں نے کہا کہ ایک حد تک وہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو ہونے والے مالی نقصان کو دیکھیں گے کیونکہ ’اُنھیں بھی پتہ ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے ساتھ اُنھوں نے زیادتی کی اور یہ رقم اچھی خاصی ہوتی ہے‘۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
رمیز راجہ کا کہنا ہے کہ جو پروٹوکول ہوگا وہ اس کی پیروی کریں گے اور اس کے لیے خوب لڑیں گے۔
قانونی چارہ جوئی ممکن ہے؟
جہاں تک رمیز راجہ کا تعلق ہے تو اُنھوں نے واضح طور پر یہ بات بتا دی ہے کہ وہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو ہونے والے مالی نقصان کے ازالے کے لیے آئی سی سی کا راستہ ہی اختیار کریں گے جو ایک رکن کرکٹ بورڈ کر سکتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
لیکن دوسری جانب وفاقی وزیر فواد چوہدری کی قانونی چارہ جوئی سے متعلق بات کا تعلق ہے تو یہ فی الحال پہلے قدم کے طور پر ایک سیاسی بیان معلوم ہوتا ہے جیسا کہ گذشتہ چند روز کے دوران متعدد وفاقی وزرا اور سیاست دانوں کی طرف سے سامنے آتے رہے ہیں۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ قانونی چارہ جوئی کون کرے گا؟ پاکستان ٹیلی ویژن، پاکستان کرکٹ بورڈ یا خود حکومت؟ فواد چوہدری کی ٹویٹ سے فی الحال کوئی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔
یہ بھی پڑھیے
انگلینڈ کا دورہ پاکستان منسوخ: ’جب پاکستان کو مغربی بلاک کی ضرورت تھی تو انھوں نے ہماری مدد نہیں کی‘
آئی سی سی کیا کر سکتا ہے؟
رمیز راجہ اور فواد چوہدری نے اگرچہ مالی نقصان کے ازالے کے لیے اپنے اپنے طور پر جو طریقہ کار اختیار کرنے کی بات کی ہے اس میں یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ اگر کوئی کرکٹ بورڈ اپنی حکومت کی ہدایت پر کوئی سیریز کھیلنے سے انکار کرتا ہے تو پھر اس میں آئی سی سی بھی کچھ نہیں کر سکتا۔
ہم ماضی میں دیکھ چکے ہیں کہ انڈین کرکٹ بورڈ پاکستان کے ساتھ نہ کھیلنے کا ہمیشہ ایک ہی جواز پیش کرتا رہا ہے کہ اسے اپنی حکومت کی طرف سے پاکستان کے ساتھ کھیلنے کی اجازت نہیں۔
پاکستان کرکٹ بورڈ نے انڈیا کے ساتھ آئی سی سی فیوچر ٹور پروگرام کے تحت ہونے والی چھ سیریز نہ ہونے پر ہونے والے چھ کروڑ 30 لاکھ ڈالرز کے مالی نقصان کے ازالے کے لیے آئی سی سی کی تنازعات سے متعلق کمیٹی سے رجوع کیا تھا لیکن پاکستان کرکٹ بورڈ کو اس کیس میں شکست ہو گئی تھی اور ایک بھی پیسہ ملنے کے بجائے وکیلوں کی فیس کی مد میں اسے 20 لاکھ ڈالر ادا کرنے پڑے تھے۔

،تصویر کا ذریعہEPA
موجودہ حالات میں پاکستان کرکٹ بورڈ مالی نقصان کے ازالے کے لیے یقینی طور پر نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ پر بھرپور دباؤ ڈال رہا ہے اور اس ضمن میں رمیز راجہ نے پہلے ہی دن ٹویٹ کی تھی کہ نیوزی لینڈ اب ہمیں آئی سی سی میں سنے گا لیکن پاکستان کرکٹ بورڈ اس مسئلے کا غیر جذباتی حل بھی چاہتا ہے۔
اسے یہ معلوم ہے کہ نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیم کو آئندہ سال بھی پاکستان کا دورہ کرنا ہے لہٰذا وہ یہی چاہے گا کہ نیوزی لینڈ ٹیم اگلے سال پاکستان آئے اور اس منسوخ شدہ دورے کے میچز کو بھی ایڈجسٹ کیا جائے۔
تاہم رمیز راجہ اب انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کی کسی بات کا اعتبار کرنے کے لیے تیار دکھائی نہیں دے رہے اور یہ بات بظاہر اُنھوں نے انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ پر بھی واضح کر دی ہے۔












