انگلینڈ کرکٹ بورڈ نے مردوں اور خواتین کی ٹیموں کا دورہ پاکستان منسوخ کر دیا

،تصویر کا ذریعہEPA
انگلینڈ کرکٹ بورڈ نے مردوں اور خواتین کی ٹیموں کی جانب سے اکتوبر میں ہونے والا پاکستان کا دورہ منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
انگلش ٹیم نے آئندہ ماہ ورلڈ ٹی 20 مقابلوں سے قبل دو ٹی 20 میچ کھیلنے کے لیے پاکستان آنا تھا جبکہ انگلش خواتین کی ٹیم بھی اسی ماہ پاکستان کا دورہ کرنے والی تھی۔
یاد رہے کہ انگلینڈ کے مردوں کی ٹیم نے سنہ 2005 کے بعد پہلی مرتبہ پاکستان کا دورہ کرنا تھا جبکہ ان کی خواتین کی ٹیم اس سے پہلے کبھی بھی پاکستان کھیلنے نہیں آئی ہے۔
انگلش بورڈ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’ہم سمجھ سکتے ہیں کہ یہ فیصلہ پی سی بی کے لیے انتہائی مایوس کن ہو گا، جنھوں نے اپنے ملک میں بین الاقوامی کرکٹ کی واپسی کی میزبانی کے لیے انتھک محنت کی ہے۔ گذشتہ دو موسم گرما کے دوران ان کی انگلش اور ویلش کرکٹ کے لیے حمایت دوستی کا مظاہرہ کرتی ہے۔ پاکستانی کرکٹ پر اس فیصلے کے اثرات کے لیے ہم خلوص دل سے معذرت خواہ ہیں اور سنہ 2022 میں اپنے اہم دوروں کے منصوبوں پر زود دیتے ہیں۔‘
یاد رہے کہ پاکستان نے 2020 اور 2021 میں وبا کے دوران انگلینڈ کے دورے کیے تھے۔ 2020 میں تو خاص طور پر پاکستان نے میچوں کے لیے بائیو سکیور ببل کی کڑی شرائط پر اتفاق کیا تھا۔
رمیز راجہ: ’اس وقت ہمیں انگلینڈ کی ضرورت تھی‘
انگلش بورڈ کے فیصلے کے ردِ عمل میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے نومنتخب چیئرمین رمیز راجہ نے بی بی سی ورلڈ سروس سے بات کرتے ہوئے کہا: ’میں بہت زیادہ مایوس ہوں اور اتنے ہی شائقین بھی۔ اس وقت ہمیں انگلینڈ کی ضرورت تھی۔
’جب پاکستان کو مغربی بلاک کی ضرورت تھی تو انھوں نے ہماری مدد نہیں کی‘۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے مزید کہا ’سکیورٹی دنیا میں کسی جگہ بھی مسئلہ ہو سکتا ہے۔ جس طرح مغربی بلاک نے مسئلے کو ہینڈل کیا ہے، اس سے (ہمیں) لگتا ہے کہ ہمیں غیر اہم سمجھا گیا ہے۔‘
پاکستان کی طرف سے 57 ٹیسٹ میچ کھیلنے والے رمیز راجہ نے مزید کہا کہ ’وہ ذہنی تھکاوٹ کا کہہ سکتے ہیں، لیکن یہ ناکافی ہے۔‘
اس سے پہلے رمیز راجہ نے ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ ’اپنے وعدے سے دستبردار اور اپنی کرکٹ کی برادری کے ایک ایسے رکن کو اس وقت چھوڑ دینے سے جب اسے اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے، انگلینڈ سے مایوسی ہوئی ہے۔ ہم انشااللہ یہ وقت بھی گزار لیں گے۔ یہ پاکستان ٹیم کے لیے ایک ویک اپ کال ہے کہ وہ دنیا کی بہترین ٹیم بن جائے تاکہ ٹیمیں اس کے ساتھ کھیلنے کے لیے قطار میں لگیں، بغیر کسی عذر کے۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
انگلش بورڈ نے دورہ منسوخ کرنے کی وجوہات کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ہمارے کھلاڑیوں اور سٹاف کی ذہنی اور جسمانی بہبود ہماری اولین ترجیح ہے اور آج ہم جس وقت میں رہ رہے ہیں اس میں یہ اور بھی ضروری ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ اس خطے میں سفر کے بارے میں خدشات ہیں اور ہمیں یقین ہے کہ ایسی صورتحال میں آگے بڑھنے سے کھلاڑیوں پر دباؤ میں اضافہ ہو گا، جو پہلے ہی محدود کووڈ ماحول میں طویل عرصے تک رہنے کے بعد اس سے نمٹ رہے ہیں۔
'ہمارے ٹی 20 مینز سکواڈ کے لیے اس میں ایک اضافی پیچیدگی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ایسے حالات میں دورہ کرنا آئی سی سی مینز ٹی 20 ورلڈ کپ کے لیے مثالی تیاری نہیں ہو گی، جہاں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ ہماری 2021 کی اولین ترجیح ہے۔'

،تصویر کا ذریعہTwitter/@englandcricket
واضح رہے کہ اس سے پہلے گذشتہ ہفتے راولپنڈی میں پاکستان اور نیوزی لینڈ کی ٹیموں کے درمیان 17 ستمبر کو کھیلے جانے والا پہلا ایک روزہ میچ آغاز سے صرف چند گھنٹے قبل منسوخ کر دیا گیا تھا اور نیوزی لینڈ کی ٹیم نے سکیورٹی خدشات کی وجہ سے پاکستان کا دورہ جاری رکھنے سے بھی انکار کر دیا تھا۔
اس کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے جمعے کو جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا تھا کہ دونوں ممالک کے مابین ہونے والی ون ڈے اور ٹی 20 سیریز ملتوی کر دی گئی ہے اور نیوزی لینڈ کی ٹیم نے سیریز نہ کھیلنے کا ’یکطرفہ‘ فیصلہ کیا ہے۔
دوسری جانب اتوار کے روز نیوزی لینڈ کرکٹ کے چیف ایگزیکٹو ڈیوڈ وائٹ نے کہا تھا کہ جمعے کے روز نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کو حکومت کی جانب سے ’مخصوص اور مصدقہ‘ خطرے کی اطلاع کے بارے میں آگاہ کیا گیا تھا جس کی تصدیق نیوزی لینڈ کرکٹ کے سکیورٹی کنسلٹنٹس کے علاوہ آزادانہ طور پر بھی کی گئی تھی۔
ڈیوڈ وائٹ نے بتایا کہ ’اس خطرے کی بنیادی نوعیت کے بارے میں تو پی سی بی کو آگاہ کر دیا گیا تھا لیکن اس کی مخصوص تفصیلات نہ بتائی جا سکتی تھیں، نہ بتائی جائیں گی۔۔۔ نہ ہی نجی حیثیت میں اور نہ ہی عوامی طور پر۔‘
یہاں یہ بات بڑی اہمیت کی حامل ہے کہ نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیم کو آئندہ سال دوبارہ پاکستان کا دورہ کرنا ہے جس میں اسے تین ون ڈے انٹرنیشنل اور دو ٹیسٹ کھیلنے ہیں۔ یہ ون ڈے انٹرنیشنل میچز آئی سی سی سپر لیگ کا حصہ ہوں گے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کی یہ کوشش ہوگی کہ وہ موجودہ دورے کی منسوخی کے نتیجے میں متاثر ہونے والے میچز آئندہ سال نیوزی لینڈ ٹیم کے پاکستان کے دورے میں ایڈجسٹ کروا کر انھیں ممکن بنائے۔
یہ بھی پڑھیے
پنڈی کرکٹ سٹیڈیم میں کھیلی جانے والی یہ سیریز ویسے تو آئی سی سی کرکٹ ورلڈ کپ سپر لیگ میں شمار نہیں کی جا رہی تھی لیکن ایک طویل عرصے کے بعد ہونے والی اس دوطرفہ سیریز کی پاکستان میں کرکٹ کی مکمل واپسی کے لیے اہمیت اپنی جگہ تھی۔
یاد رہے کہ سنہ 2002 میں کراچی میں ہونے والے دوسرے ٹیسٹ میچ کے دوران دونوں ٹیموں کے قیام کی جگہ شیریٹن ہوٹل کے قریب دھماکہ ہوا تھا جس کے بعد یہ سیریز منسوخ کر دی گئی تھی اور اس کے 18 برس بعد نیوزی لینڈ کا پاکستان کا یہ پہلا دورہ تھا۔

،تصویر کا ذریعہTWITTER/BABAR AZAM
پاکستان میں سری لنکن ٹیم پر حملہ
سری لنکن ٹیم پر حملے کے بعد چھ سال تک پاکستان میں کوئی بین الاقوامی کرکٹ نہیں کھیلی گئی تھی۔ سنہ 2015 میں مہمان ٹیموں نے دوبارہ پاکستان آنا شروع کیا اور سنہ 2019 میں 12 سال بعد سری لنکن کرکٹ ٹیم نے دوبارہ پاکستان آکر ٹیسٹ میچ کھیلا تھا۔
خیال رہے کہ تین مارچ 2009 کو لاہور میں لبرٹی چوک میں سری لنکا کی ٹیم پر اس وقت حملہ کیا گیا تھا جب پاکستان اور سری لنکا کے درمیان کھیلے جانے والے ٹیسٹ میچ کا تیسرا دن شروع ہونا تھا۔
مقامی وقت کے مطابق صبح نو بجے 12 شدت پسندوں نے مہمان کرکٹ ٹیم پر اس وقت حملہ کیا جب وہ ایک کوچ میں میچ کھیلنے کے لیے سٹیڈیم جا رہی تھی۔
اس واقعے میں حفاظت پر مامور چھ پولیس اہلکار اور ایک ڈرائیور ہلاک ہوئے تھے۔ حملہ آور خودکار رائفلز، گرنیڈ اور راکٹ لانچرز سے لیس تھے۔
اس حملے کی وجہ سے پاکستان دسویں کرکٹ ورلڈ کپ کا میزبان بننے سے محروم ہو گیا تھا اور پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ ختم ہو گئی تھی۔ اس کے بعد پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کی بحالی کے لیے بعض ٹیموں نے پاکستان کے دورے کیے اور پاکستان سپُر لیگ کو بھی متحدہ عرب امارات سے پاکستان منتقل کیا گیا لیکن اب پہلے نیوزی لینڈ کی جانب سے پاکستان میں ہوتے ہوئے ’سکیورٹی خدشات‘ کی وجہ سے دورہ ملتوی کرنے اور اب انگلینڈ کی جانب سے دورہ منسوخ کرنے سے ایک مرتبہ پھر یہ بحث زور پکڑ گئی ہے کہ اس کے پاکستان کرکٹ پر کیا اثرات ہوں گے۔
انگلینڈ کے کھلاڑی بھی پاکستان آ کر پاکستان سپر لیگ کے میچز کھیل چکے ہیں جبکہ جنوبی افریقہ کی ٹیم نے بھی اس سال کے آغاز میں پاکستان کا دورہ کیا تھا۔
نیوزی لینڈ کے ماضی میں منسوخ ہونے والے دورے
نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیم کی غیر ملکی دورے منسوخ یا ادھورا چھوڑ کر جانے کی کہانی بڑی پرانی ہے۔
سنہ 1987 میں نیوزی لینڈ کی ٹیم سری لنکا کے دورے پر تھی لیکن پہلے ٹیسٹ کے بعد کولمبو میں ہونے والے بم دھماکے میں سو سے زائد افراد کی ہلاکت کے بعد اس نے یہ دورہ ختم کر دیا تھا۔
1992 میں نیوزی لینڈ ٹیم کے متعدد کھلاڑیوں نے کولمبو میں ٹیم ہوٹل کے قریب ہونے والے بم دھماکے کے بعد سری لنکا کا دورہ جاری رکھنے سے انکار کر دیا تھا اور وطن واپس چلے گئے تھے۔ ان میں مارک گریٹ بیچ، گیون لارسن، راڈ لیتھم، ولی واٹسن اور کوچ وارن لیز شامل تھے۔
2001 میں نیوزی لینڈ کی ٹیم پاکستان کے دورے پر روانہ ہوئی اور وہ ابھی سنگاپور پہنچی تھی کہ نائن الیون کا واقعہ رونما ہو گیا اور وہ وہیں سے وطن واپس روانہ ہو گئی۔
2002 میں نیوزی لینڈ کی ٹیم پاکستان کے خلاف کراچی ٹیسٹ کھیلنے کے لیے اپنے ہوٹل سے سٹیڈیم کے لیے روانہ ہونے والی تھی کہ اس دوران فرانسیسی انجینئرز کی خودکش حملے میں ہلاکت کے واقعے نے اسے دورہ ختم کر کے وطن واپس جانے پر مجبور کر دیا تھا۔












