حیدر علی: پیدائش کے 15 دن بعد پولیو کا شکار ہونے والے کھلاڑی جنھوں نے پاکستان کے لیے پہلا پیرالمپک گولڈ میڈل حاصل کیا

    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

’ہم بیرون ملک صرف اور صرف اپنے ملک کا نام روشن کرنے کے لیے جاتے ہیں۔ جب پاکستان کا پرچم لہرایا جا رہا تھا تو اس وقت میری آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔ میں اپنی کیفیت بیان نہیں کرسکتا۔‘

یہ الفاظ تھے پاکستانی پیرالمپک ایتھلیٹ حیدر علی کے جنھوں نے جمعے کو ٹوکیو پیرالمپکس کے ڈسکس تھرو مقابلے میں ملک کی تاریخ کا پہلا طلائی تمغہ اپنے نام کیا۔

حیدرعلی نے سٹینڈنگ ڈسکس تھرو ایونٹ میں 55 اعشاریہ 26 میٹرز کے فاصلے پر تھرو کر کے گولڈ میڈل جیت لیا اور یہ ان کی ذاتی طور پر بھی بہترین کارکردگی ہے۔ دوسرے نمبر پر آنے والے ایتھلیٹ سے ان کی تھرو تین میٹرز آگے تھی۔

یاد رہے کہ حیدر علی پیرالمپک مقابلوں میں پاکستان کے سب سے کامیاب اور جانے پہچانے ایتھلیٹ ہیں۔

انھوں نے 2008 میں بیجنگ میں منعقدہ پیرالمپکس میں چاندی اور 2016 میں ریو ڈی جنیرو میں ہونے والے پیرالمپکس میں کانسی کے تمغے جیتے تھے تاہم ان دونوں مقابلوں میں انھوں نے لانگ جمپ کے ایونٹ میں حصہ لیا تھا۔

گولڈ میڈل جیتنے کے بعد ٹوکیو سے بی بی سی اردو کو دیے گئے انٹرویو میں حیدر علی کا کہنا تھا: ’میرے گولڈ میڈل کے بعد دوسرے کھلاڑیوں کو بھی حوصلہ ملے گا کہ وہ بھی ملک سے باہر بین الاقوامی مقابلوں میں کامیابیاں حاصل کرسکتے ہیں۔ میری یہ کارکردگی نوجوانوں کے لیے بھی پیغام ہے کہ وہ مثبت سرگرمیوں میں حصہ لیں اور خود کو بُری صحبتوں سے بچائیں۔‘

تاہم انھوں نے حکومت سے بھی اپیل کی کہ انھیں پیرالمپک ایتھلیٹس کے لیے فنڈز کا انتظام کرنا چاہیے۔

حیدر علی پیرالمپک ایتھلیٹ کیوں ہیں؟

حیدر علی کا تعلق پاکستان کے شہر گوجرانوالہ سے ہے اور وہ کھیلوں کی بنیاد پر واپڈا سے وابستہ ہیں۔

حیدرعلی کی عام مقابلوں کے بجائے پیرالمپک مقابلوں میں شرکت کی وجہ یہ ہے کہ ان کی دائیں ٹانگ، بائیں ٹانگ سے ایک انچ چھوٹی اور دو انچ پتلی ہے لیکن انھوں نے کبھی بھی اسے اپنی راہ میں حائل نہیں ہونے دیا بلکہ وہ پاکستان کے سب سے کامیاب پیرا ایتھلیٹ سمجھے جاتے ہیں۔

حیدر علی کا کہنا ہے کہ وہ عام ایتھلیٹس کی طرح ہی ٹریننگ کرتے ہیں اور ان کے کوچ اکبر علی مغل انھیں سخت ٹریننگ کرواتے ہیں۔

حیدر علی پہلے لانگ جمپ میں حصہ لیا کرتے تھے لیکن پھر انھوں نے ڈسکس تھرو کو اپنا لیا۔

’پندرہ دن کا تھا جب اسے پولیو ہوگیا‘

حیدر علی کے والد بابا صادق اپنے بیٹے کے گولڈ میڈل جیتنے پر خوشی سے پھولے نہیں سما رہے ہیں۔ گوجرانوالہ میں ان کے گھر پر مبارک باد دینے والوں کا سلسلہ جاری ہے۔

بابا صادق نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا ʹمیرے بیٹے نے میرا خواب پورا کر دکھایا ہے۔ میں نے اپنی جوانی میں کبڈی کھیلی، جبکہ حیدر کے دادا پہلوانی کرتے تھے۔ جو کام ہم نہ کرسکے وہ اس نوجوان نے کر دکھایا اورہم سب کا سر فخر سے بلند کر دیا۔ʹ

بابا صادق کہتے ہیں ʹحیدر علی کی پیدائش کو صرف پندرہ روز ہوئے تھے کہ وہ پولیو کا شکار ہوگیا۔ ہم نے اس کا بہت علاج کرایا لیکن وہ ٹھیک نہ ہوسکا مگر جیسے جیسے وہ بڑا ہوتا گیا اس میں مایوسی کے بجائے حوصلہ مندی ہی نظر آنے لگی۔ʹ

یاد رہے کہ افغانستان اور نائجیریا سمیت پاکستان ان واحد ممالک میں سے ہے جہاں پولیو کا وائرس اب تک پایا جاتا ہے اور اس وجہ سے ملک پر ماضی میں سفری پابندیاں لگ چکی ہیں۔ اس کے علاوہ پولیو کے قطرے پلانے والی ٹیموں کو بھی آئے روز سکیورٹی خطرات کا سامنا رہتا ہے اور پولیو کئی اہلکار اوران کی سکیورٹی پر مامور جوان دہشت گردی کا نشانہ بن چکے ہیں۔

بابا صادق کہتے ہیں ʹجب حیدر پرائمری اسکول میں تھا تب سے اس میں ایک اچھا ایتھلیٹ بننے کے آثار نمایاں ہوگئے تھے۔ میں نے ہمیشہ اس کی حوصلہ افزائی کی اور یہی کہا کہ بس کھاؤ اور محنت کرو۔ʹ

حیدر علی کا بین الاقوامی کیریئر

  • حیدر علی کا بین الاقوامی کریئر سنہ 2006 میں شروع ہوا جب انھوں نے ملائیشیا میں ہونے والے مقابلے میں ایک گولڈ میڈل اور دو چاندی کے تمغے جیتے۔
  • سنہ 2008 میں بیجنگ میں ہونے والے پیرالمپکس میں انھوں نے چاندی کا تمغہ جیتا۔
  • سنہ 2010 میں چین میں منعقدہ پیرا ایشیئن گیمز میں وہ سونے اور کانسی کے تمغے جیتنے میں کامیاب ہوئے تھے۔
  • سنہ 2016 میں دبئی میں ہونے والی ایشیا اوشینا چیمپیئن شپ میں انھوں نے گولڈ میڈل جیتا۔
  • سنہ 2016 میں ہونے والے ریو پیرالمپکس میں وہ کانسی کا تمغہ جیتنے میں کامیاب ہوئے تھے۔
  • سنہ 2018 میں انڈونیشیا میں ہونے والے پیرا ایشین گیمز میں انھوں نے دو طلائی اور ایک کانسی کا تمغہ اپنے نام کیا۔
  • سنہ 2019 میں چین میں ہونے والے بین الاقوامی مقابلے میں وہ سونے کے دو اور چاندی کا ایک تمغہ جیتنے میں کامیاب ہوئے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

تیاری میں مشکلات اور میڈل کی دوہری اہمیت

پچھلے دو میڈلز کے مقابلے میں یہ تمغوں کے مقابلے میں یہ کامیابی صرف اس لیے اہم نہیں کہ یہ گولڈ میڈل ہے بلکہ اس کی اہمیت اس لیے بھی بہت زیادہ ہے کہ اس بار کووڈ کی صورتحال کی وجہ سے ان کی ٹریننگ بہت متاثر ہوئی۔

’لاہور اور اسلام آْباد میں گراؤنڈز بند پڑے ہوئے تھے لہذا مجھے اپنے شہر گوجرانوالہ میں ہی رہ کر پانچ چھ ماہ تک ٹریننگ کرنی پڑی۔ʹ

حیدر علی بتاتے ہیں ان کو فنڈز کی کمی کا مسئلہ بھی درپیش رہا ہے۔ ’میں نے اگرچہ 2019 میں ٹوکیو پیرالمپکس کے لیے کوالیفائی کر لیا تھا تاہم آخر وقت تک یہ بے یقینی رہی کہ میں ان مقابلوں میں حصہ لے سکوں گا بھی یا نہیں۔‘ ان کے مطابق نیشنل پیرالمپک کمیٹی کو فنڈز کے سلسلے میں مشکلات کا سامنا رہا ہے۔

’20 اگست کو ٹوکیو آنے سے صرف آٹھ دن پہلے مجھے ٹکٹ ملا اور روانگی کنفرم ہوئی۔‘ وہ بتاتے ہیں کہ مقابلے شروع ہونے سے قبل بھی انھیں انتہائی محتاط رہنا پڑا کیونکہ روزانہ کی بنیاد پر کووڈ ٹیسٹ ہو رہے تھے۔

حیدر علی بتاتے ہیں ʹپاکستان سپورٹس بورڈ اور بین الصوبائی رابطے کی وزارت ہم سے ہمیشہ تعاون کرتے رہے ہیں۔ میں اس مرتبہ پنجاب کے وزیر رائے تیمور خان کا خاص طور پر شکر گزار ہوں جنہوں نے میرے لیے ایک ہفتے کے کیمپ کا انتظام کیا اور اس دوران ہونے والے ڈوپ ٹیسٹ اور کووڈ ٹیسٹ کے تمام اخراجات برداشت کیے۔‘

'شکریہ حیدر علی، ہمیں آپ پر فخر ہے'

سوشل میڈیا پر حیدر علی کی کامیابی کا جشن منایا جا رہا ہے۔ پاکستان میں ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈز حیدر علی اور پیرالمپکس ہیں۔

ٹوکیو پیرالمپکس میں گولڈ میڈل جیتنے والے ایتھلیٹ کو وزیِر اعظم پاکستان کے ٹویٹر ہینڈل سے لے کر سیاستدان، کھلاڑی اور صارفین سبھی کی طرف سے مبارکبادیں دینے کا سلسلہ جاری ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے بھی ٹوئٹر پر حیدر علی کو مبارکباد دیتے ہوئے لکھا کہ 'شکریہ حیدر علی، ہمیں آپ پر فخر ہے۔'

وزیِرِ مملکت برائے اطلاعات فرخ حبیب نے بھی حیدر علی کو مبارکباد پیش کی: ٹوکیو پیرالمپکس، حیدر علی نے مردوں کے ڈسکس تھرو مقابلے میں 55.26 تھرو کیساتھ گولڈ مڈل جیت کر پاکستانیوں کا سر فخر سے بلند کردیا ہے۔

انھوں نے یہ بھی لکھا 'انشاللہ سبز ہلالی پرچم پاکستان سمیت دنیا بھر میں اسی طرح سربلند نظر آئے گا اور حیدر علی جیسے کھلاڑی ہمارا قومی اثاثہ ہیں۔'

عدنان شاہد نے لکھا 'آپ نے پوری پاکستانی قوم کا سر فخر سے بلند کردیا، اللّه آپ کو سلامت رکھے۔'

صحافی ارشد چوہدری نے حیدر علی کی کامیابی پر تبصرہ کیا 'حیدر علی نے وعدہ وفا کردیا۔'

صحافی اقار الحسن نے ٹویٹ کیا 'حیدرعلی ! آپ نے اپنے نام، اپنے وطن اور اپنے ہم وطنوں کا مان رکھا ہے، شکریہ۔'

ذکیہ نئیر نے لکھا 'اس گھٹن سے بھرے ہوئے تنقیدی دور میں تازہ ہوا کے جھونکے جیسی خبر۔۔ حیدر علی نے سٹینڈنگ ڈسکس تھرو میں 55.26 میٹر کی تھرو پھینکی اور پہلی پوزیشن حاصل کر کہ پاکستان کا لیے گولڈ میڈل جیتا۔ حیدر علی آپ واقعی خاص ہیں قوم کے لیے وطن کے لیے۔'

بھٹی نامی صارف نے لکھا 'میں پاکستانی ایتھلیٹ حیدر علی کو مبارکباد پیش کرتا ہوں جنھوں نے تاریخ میں پہلی بار پیرا اولمپکس میں گولڈ میڈل جیت کر پاکستان کا نام پوری دنیا میں روشن کیا ہے۔'

انھوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت آئندہ بھی نوجوانوں کی ترقی کے لیے بہترین مواقع فراہم کرے گی۔

احمد حسیب نے حیدر کو مبارکباد دیتے ہوئے لکھا 'مناسب سہولیات نہ ہونے کے باوجود، پاکستان اب بھی ایسا ٹیلنٹ پیدا کر رہا ہے۔ پاکستانی نوجوانوں میں بہت زیادہ ٹیلنٹ ہے، صرف اس ٹیلنٹ کو پالش کرنے کی ضرورت ہے۔'

اسی حوالے سے عباد صدیقی نے لکھا ' ان جیسے کھلاڑی پاکستان کے کونے کونے میں موجود ہیں، ہمیں قومی سطح پر ان کی صلاحیتوں کو بڑھانے کے لیے صحیح پلیٹ فارم مہیا کرنے کی ضرورت ہے۔'