آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ٹوکیو پیرالمپکس 2020: پاکستانی ایتھلیٹ حیدر علی گولڈ میڈل جیتنے کے لیے پرعزم
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
گذشتہ دنوں دبئی میں منعقدہ ورلڈ پیرا ایتھلیٹکس چیمپیئن شپ (معذور ایتھلیٹس کے بین الاقوامی مقابلے) کے ڈسک تھرو ایونٹ میں پاکستانی ایتھلیٹ حیدر علی نے چاندی کا تمغہ جیتا ہے اور اسی کارکردگی کی بنیاد پر وہ آئندہ سال ٹوکیو میں ہونے والے پیرالمپکس کے لیے کوالیفائی کرنے میں بھی کامیاب ہو گئے ہیں۔
حیدر علی جسمانی طور پر معذور ایتھلیٹس کے بین الاقوامی مقابلوں میں تواتر کے ساتھ غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے آ رہے ہیں۔
بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے حیدر علی کا کہنا تھا کہ یہ ان کے چوتھے پیرالمپکس ہوں گے اور وہ پوری کوشش کریں گے کہ اس بار گولڈ میڈل جیتنے میں کامیاب ہو سکیں۔
یاد رہے کہ بیجنگ اور ریو ڈی جنیرو کے پیرالمپکس میں وہ چاندی اور کانسی کے تمغے جیت پائے تھے جبکہ لندن کے پیرالمپکس کے موقع پر وہ ان فٹ ہونے کی وجہ سے ایونٹ میں حصہ نہیں لے پائے تھے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
حیدر علی کون ہیں؟
34 سالہ حیدر علی کا تعلق گوجرانوالہ سے ہے اور وہ اس وقت سپورٹس کی بنیاد پر پاکستان واپڈا سے وابستہ ہیں۔
حیدر علی کا کہنا ہے کہ پیدائشی طور پر ان کی دائیں ٹانگ بائیں ٹانگ سے دو انچ پتلی اور ایک انچ چھوٹی ہے لیکن انھوں نے کبھی بھی اس بارے میں مایوسی محسوس نہیں کی بلکہ انھیں خوشی ہے کہ وہ اس قابل بنے ہیں کہ دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کر سکیں۔
وہ دوسرے نارمل ایتھلیٹس کی طرح ٹریننگ کرتے ہیں اور اس سلسلے میں اپنے کوچ اکبر علی مغل کا خاص طور پر ذکر کرتے ہیں جو انھیں سخت ٹریننگ کراتے رہے ہیں۔
حیدر علی کا کہنا ہے کہ وہ پہلے لانگ جمپ کرتے تھے لیکن پھر انھیں محسوس ہوا کہ اس میں ان کی کارکردگی بہت زیادہ اچھی نہیں رہی ہے تو انھوں نے ڈسک تھرو میں حصہ لینا شروع کردیا۔
حیدر علی کا کہنا ہے کہ انھیں اپنے کرئیر میں مشکلات کا بھی سامنا رہا ہے۔ پچھلے چند برسوں کے دوران وہ فٹنس کے مسائل سے دوچار رہے لیکن سخت محنت کے ذریعے وہ اپنی فٹنس بحال کرنے میں کامیاب ہو گئے۔
وہ کہتے ہیں کہ ماضی میں حکومتی سطح پر ان کی پذیرائی نہیں ہوئی لیکن اب بین الصوبائی رابطے کی وزارت اور پاکستان سپورٹس بورڈ ان سے بہت تعاون کرتے ہیں۔
تاہم ان کے شہر گوجرانوالہ میں ٹریننگ کے لیے بین الاقوامی معیار کا ٹریک نہ ہونے کے سبب انھیں اسلام آباد، لاہور اور فیصل آباد جانا پڑتا ہے۔
بین الاقوامی مقابلوں میں حیدر علی کے تمغے
حیدر علی کا بین الاقوامی کریئر سنہ 2006 میں شروع ہوا تھا جب انھوں نے ملائیشیا میں ہونے والے مقابلے میں ایک گولڈ میڈل اور دو چاندی کے تمغے جیتے تھے۔
سنہ 2008 میں بیجنگ میں ہونے والے پیرالمپکس میں انھوں نے چاندی کا تمغہ جیتا تھا۔ چین کی پیرا ایشین گیمز 2010 میں وہ سونے اور کانسی کے تمغے جیتنے میں کامیاب ہوئے تھے۔
سنہ 2016 میں دبئی میں ہونے والی ایشیا اوشینا چیمپیئن شپ میں انھوں نے گولڈ میڈل جیتا اور اسی سال انھوں نے ریو پیرالمپکس میں کانسی کا تمغہ حاصل کیا۔
گزشتہ سال انڈونیشیا میں ہونے والے پیرا ایشین گیمز میں بھی انھوں نے دو طلائی اور ایک کانسی کا تمغہ اپنے نام کیا۔
اس سال چین میں ہونے والے مقابلے میں وہ سونے کے دو اور چاندی کا ایک تمغہ جیتنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔