پیرالمپک ایتھلیٹس بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں: نیشنل پیرالمپک کمیٹی

    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

پاکستان میں جسمانی طور پر معذور ایتھلیٹس کی قومی تنظیم نیشنل پیرالمپک کمیٹی کو اس بات پر افسوس ہے کہ بین الاقوامی مقابلوں میں غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کے باوجود پیرالمپک ایتھلیٹس کو وہ مقام حاصل نہیں جس کے وہ مستحق ہیں۔

پاکستان کے پیرالمپک ایتھلیٹ حیدرعلی نے گذشتہ دنوں ریو ڈی جنیرو میں ہونے والے پیرالمپکس میں لانگ جمپ میں کانسی کا تمغہ جیتا تھا۔

وہ آٹھ سال پہلے بیجنگ میں ہونے والے پیرالمپکس میں بھی چاندی کا تمغہ جیتنے میں کامیاب ہوئے تھے۔

نیشنل پیرالمپک کمیٹی کے صدر طارق مصطفی نے بی بی سی اردو کو انٹرویو میں کہا کہ دنیا بھر میں یہ بات تسلیم کر لی گئی ہے کہ ’جسمانی طور پر معذور افراد کی بحالی کے لیے سپورٹس ایک مضبوط پلیٹ فارم ہے لیکن پاکستان میں جسمانی طور پر معذور افراد کو وہ اہمیت نہیں دی گئی ہے جو ترقی یافتہ معاشروں میں دی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب وہ پیرالمپک ایتھلیٹس کے سلسلے میں لوگوں سے رابطہ کرتے ہیں تو جواب ملتا ہے کہ یہاں معذور افراد کی ویسے ہی دیکھ بھال یا قدر نہیں کی جاتی آپ سپورٹس کی بات کر رہے ہیں۔‘

’اس صورت حال میں ان لوگوں کو یہ سمجھانا آسان نہیں ہوتا کہ یہ معذور ایتھلیٹس بھی اسی معاشرے کا حصہ ہیں ان کی بھی امنگیں ہیں اور یہ بھی کچھ کردکھانا چاہتے ہیں۔‘

طارق مصطفی نے کہا کہ انھیں حکومت کی جانب سے مدد ملتی ہے لیکن وہ وقت پر نہیں ملتی بلکہ مقابلوں میں شرکت کے بعد انھیں گرانٹ ملتی ہے۔

’چونکہ نیشنل پیرالمپک کمیٹی عطیات نہیں لیتی لہذا ان حالات میں پیرالمپکس ایتھلیٹس کی بین الاقوامی مقابلوں میں شرکت کو یقینی بنانا آسان نہیں ہوتا کیونکہ بات صرف شرکت کی نہیں ہے ان ایتھلیٹس کی تیاری کے لیے ٹریننگ اور کوچنگ پروگرام بھی ضروری ہیں اس کے لیے ان کی کمیٹی کو کوئی پیسہ نہیں دیتا۔‘

طارق مصطفی نے کہا کہ یہ پیرالمپک ایتھلیٹس کا حوصلہ ہے کہ وہ معقول بجٹ اور ٹریننگ اور کوچنگ کی ضروری سہولیات کے بغیر نامساعد حالات میں بھی دنیا کے بہترین ایتھلیٹس کا مقابلہ کرتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ یہ بات درست ہے کہ پیرالمپک ایتھلیٹس کی ٹریننگ کے لیے انھیں پاکستان سپورٹس بورڈ کو معاوضہ ادا کرنا ہوتا ہے جس پر انھیں اعتراض نہیں ہے لیکن پاکستان سپورٹس بورڈ انھیں ٹریننگ کی سہولت صرف اسی وقت فراہم کرتا ہے جب اس کے پاس جگہ ہوتی ہے۔

طارق مصطفی نے کہا کہ انڈیا میں پہلے پیرالمپک ایتھلیٹس کو اہمیت نہیں دی جاتی تھی لیکن اب وہاں بھی ان کی اہمیت کو تسلیم کیا گیا ہے اور اب وہاں پیرالمپکس مقابلوں میں میڈلز جیتنے والے ایتھلیٹس کے لیے اتنا ہی نقد انعام رکھ دیا گیا ہے جو عام اولمپکس مقابلوں میں تمغے جیتنے والے ایتھلیٹس کو ملتا ہے۔

لیکن افسوس کا مقام ہے کہ ریو پیرالمپکس میں کانسی کا تمغہ جیتنے والے حیدر علی کی سرکاری سطح پر ابھی تک کوئی پذیرائی نہیں ہوئی ہے۔