ٹوکیو اولمپکس کا رنگا رنگ میلہ تمام ہوا، امریکہ 100 سے زیادہ تمغوں کے ساتھ پہلے نمبر پر

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ٹوکیو اولمپکس کا رنگا رنگ میلہ اپنے اختتام کو پہنچا۔ بیشتر ایونٹس کی طرح یہ اختتامی تقریب بھی شائقین کے بغیر سٹیڈیم میں ہوئی۔
تمام شریک ممالک کے پرچم برداروں نے تقریب کے آغاز میں میدان کے مرکز میں ایک دائرہ بنایا۔
اس سے قبل، بین الاقوامی اولمپک کمیٹی کے صدر تھامس باخ نے وبائی مرض کے باوجود کھیلوں کو ایک کامیابی قرار دیا۔
امریکہ نے ٹوکیو اولمپکس میں سب سے زیادہ تمغے جیتے ہیں اور وہ واحد ملک ہے جس نے 100 سے زائد تمغے جیتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images
منتظمین کا کہنا ہے کہ صرف انیس ایتھلیٹس تقریب میں حصہ نہ لے سکے کیونکہ وہ کووڈ 19 سے متاثر تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
امریکہ تمغے کی میز پر 39 سونے کے تمغوں کے ساتھ سرفہرست ہے، چین 38 سونے کے تمغوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔ جاپان 28 سونے کے تمغے لے کر اس فہرست میں تیسرے نمبر پر آیا ہے۔
امریکہ نے 39 طلائی، 41 چاندی اور 33 کانسی کے تمغے جیتے ہیں۔ اس طرح امریکہ نے ٹوکیو اولمپکس میں کل 113 تمغے حاصل کیے۔ دوسری جانب چین کو 38 طلائی، 32 چاندی اور 18 کانسی کے تمغے ملے۔ چین نے ٹوکیو اولمپکس میں مجموعی طور پر 88 تمغے حاصل کیے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
مجموعی تمغوں کے حساب سے تیسرا نمبر روسی اولمپک کمیٹی کا ہے جس نے 71 میڈل جیتے ہیں اور 65 تمغوں کے ساتھ برطانیہ چوتھے نمبر پر ہے۔ میزبان جاپان کل تمغوں، 58، کے لحاظ سے پانچویں نمبر پر ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images
چین نے اپنے آپ کو سپورٹس سپر پاور بنانے کے لیے ایک آفیشل پروگرام شروع کیا تھا جسے گولڈ میڈل اسٹریٹیجی یا گولڈ جیتنے کی حکمت عملی کہا جاتا ہے۔ اس کے تحت چین میں کھیلوں کے ہزاروں سکول کھولے گئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اولمپک مشعل کا شعلہ بجھا دیا گیا۔ اب شائقین پیرا اولمپک گیمز کے منتظر ہیں جو دو ہفتوں کے بعد شروع ہوں گے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images












